شعائر اسلام سے دوری کے باعث امت مسلمہ کے مصائب


   تحریر  امیر افضل اعوان: حصہ اول
اسلام میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا کہ یہود وہنود مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں مگر افسوس کہ آج ہم بحیثیت محمدی اپنی اہمیت و حقیقت کو فراموش کر کے ہر معاملہ میں ان ہی اسلام دشمنوں کے مرحون منت نظر آتے ہیں ، اسلام دشمن قوتیں بالخصوص یہود و نصاریٰ اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف روز اول سے ہی سازشوں میں مصروف ہیں مگرافسوس صد افسوس کہ قرآن و سنت میں واضح بیان کے باوجود ہم اپنا قبلہ درست کرنے کو تیار نہیں اورہر مسئلہ کی صورت میں ان کی ہی طرف دیکھتے ہیں اور ہر معاملہ میں ہم ان کے ہی دست نگر ہیں، اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرما ہے۔ ’’ اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، تم یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنانا، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جس نے دوست بنایا ان کو تم میں سے، تو وہ یقیناًان ہی میں سے ہوگیا، بیشک اللہ ہدایت سے نہیں نوازتا ایسے ظالم لوگوں کو، ف۳‘‘ سورۃ المائدہ، آیت 51،غور کیجئے کہ اس آیت مبارکہ میں یہود اور نصاریٰ سے موالات و محبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی گئی جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔
قرآن کریم کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کر سکتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض و عناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں، ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عکرمہؓسے روایت ہے یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، وہ یہ کہ رسول کریمﷺ نے مدینہ طیبہ میں تشریف فرما ہونے کے بعد ان اطراف کے یہود و نصاریٰ سے ایک معاہدہ اس پر کر لیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نہ خود جنگ کریں گے، نہ کسی جنگ کرنے والی قوم کی امداد کریں گے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح مسلمان نہ ان لوگوں سے جنگ کریں گے نہ ان کے خلاف کسی قوم کی امداد کریں گے بلکہ مخالف کا مقابلہ کریں گے، کچھ عرصہ تک یہ معاہدہ قائم رہا، لیکن یہودی اپنی سازشی فطرت اور اسلام دشمن طبیعت کی وجہ سے اس معاہدہ پر زیادہ قائم نہ رہ سکے اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ سے سازش کرکے ان کو قلعہ میں بلانے کے لئے خط لکھ دیا، رسول کریم ﷺ پر جب اس سازش کا انکشاف ہوا تو آپ ﷺ نے ان کے مقابلہ کے لئے ایک دستہ مجاہدین کا بھیج دیا، بنو قینقاع کے یہ یہودی ایک طرف تو مشرکین مکہ سے یہ سازش کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں میں گھسے ہوئے بہت سے مسلمانوں سے دوستی کے معاہدے کئے ہوئے تھے اور اس طرح مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے لئے جاسوسی کا کام انجام دیتے تھے۔ اس لئے یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی جس نے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی گہری دوستی سے روک دیا، تاکہ مسلمانوں کی خاص خبریں معلوم نہ کر سکیں، اس وقت حضرت عبادہ بن صامتؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ نے کھلے طور پر ان لوگوں سے اپنا معاہدہ ختم اور ترک موالات کا اعلان کر دیا۔

مشرکین ، یہودیوں اور اسلام دشمنوں کے حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’ (آج بھی) تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ وہ (اہل ایمان کے مقابلہ میں) ان لوگوں سے دوستی کا دم بھرتے ہیں، جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر، بڑا ہی برا ہے وہ سامان جو ان کے لئے آگے بھیجا ہے ان کے نفسوں نے، کہ اللہ ناراض ہو ان پر، اور (اس کے نتیجے میں) ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا عذاب میں،‘‘ سورۃ المائدہ، آیت 80،قرآن پاک میں ایک اور جگہ آتا ہے کہ ’’ تم مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود، اور ان لوگوں کو پاؤ گے جو مشرک ہیں، اور (اس کے برعکس) تم ان سے محبت میں سب سے زیادہ نزدیک ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں بہت سے عبادت گزار، اور تارک الدنیا درویش، پائے جاتے ہیں، نیز اس لئے کہ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے۔‘‘ سورۃ المائدہ، آیت 82،یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد پر ناحق اڑتے ہیں ، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں، علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء ؑ کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیﷺکے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار آپ ﷺ کو زہر دیا ، آپ ﷺپر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور اکرم ﷺ پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔
یہودیوں کے بر عکس دین مسیح میں عیسائیوں کیلئے نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی ان کو پیش کر دو۔ یعنی لڑو مت، مگر اس کے باوجودجہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے، کم و بیش کچھ فرق کے ساتھ، اسلام کے خلاف یہ عناد عیسائیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط معرکہ آرائی سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائی دونوں ہی مل کر سرگرم عمل ہیں اسی لئے قرآن کریم نے دونوں سے اور کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے، ’’ ایمان والے کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اہل ایمان کو چھوڑ کر، اور جس نے ایسے کیا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، مگر یہ کہ تم ان (کے ظلم وستم) سے بچنے کے لئے (اور اپنی حفاظت کی خاطر) بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کر لو، اور اللہ تم لوگوں کو ڈراتا ہے اپنے آپ سے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (سب کو)‘‘ سورۃ آل عمران، آیت 28، اس آیت میں مومنوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے خطاب ہے، یعنی کوئی مومن کسی کافر کو دوست نہ بنائے، مومنوں کی جماعت کافروں کی جماعت کو دوست نہ بنائے اور نہ ہی مومنوں کی حکومت کافروں کی حکومت کو اپنا دوست بنائے وجہ یہ ہے کہ کافر کبھی مومن کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا، جب بھی اسے موقع ملے گا وہ نقصان ہی پہنچائے گا، اس سے خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔
دشمنان اسلام کے بارے میں قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے ’’ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم اپنوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری خرابی (اور بربادی) میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے، وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم لوگ تکلیف اور (نقصان) ہی میں مبتلا رہو، ان کے دلوں کا بغض ان کے مونہوں سے نکلا پڑتا ہے، اور جو کچھ انہوں نے اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے، ہم نے تو کھول کر بیان کر دیں تمہارے لئے (حقیقت سے آگاہ کرنے والی) نشانیاں (سو تم احتیاط سے کام لو) اگر تم عقل رکھتے ہو ف۱‘‘ سورۃ آل عمران، آیت118،بلاشبہ کافر اور مشرک مسلمانوں کے بارے میں جو جذبات و عزائم رکھتے ہیں، ان میں سے جن کا وہ اظہار کرتے اور جنہیں اپنے سینوں میں مخفی رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب کی نشاندہی فرما دی ہے، جس سے ثابت ہے کہ نہ تو یہود ونصاریٰ سے دوستی رکھنی جائز ہے اور نہ ہی ایک اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کو کلیدی مناصب پر فائز کرنا جائز ہے، روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے ایک (غیر مسلم) کو کاتب (سیکرٹری) رکھ لیا، حضرت عمرؓ کے علم میں یہ بات آئی تو آپؓ نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور فرمایا کہ \' تم انہیں اپنے قریب نہ کرو جب کہ اللہ نے انہیں دور کر دیا ہے ان کو عزت نہ بخشو جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کر دیا ہے اور انہیں راز دار مت بناؤ جب کہ اللہ نے انہیں بد دیانت قرار دیا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کریں تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ زمانہ خلافت سے ہی اہل کتاب کو سیکرٹری اور امین بنانے کی وجہ سے احوال بدل گئے تھے اور اس وجہ سے نااہل اور کم فہم لوگ سردار اور امرا ء بن گئے، بد قسمتی سے آج کے اسلامی ممالک میں بھی قرآن کریم کے اس نہایت اہم حکم کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے اور اس کے برعکس غیر مسلم بڑے بڑے اہم عہدوں اور کلیدی مناصب پر فائز ہیں جن کے نقصانات واضح ہیں، اگر اسلامی ممالک اپنی داخلی اور خارجی دونوں پالیسیوں میں اس حکم کی رعایت کریں تو یقیناًبہت سے مفاسد اور نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں، ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہے ’’ حکم شعیب زہری سالم بن عبداللہ بن عمرؓسے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا کہ یہودی تم سے جنگ کریں گے۔ پھر تم ان پر غالب آ جاؤ گے، یہاں تک کہ (یہودی پتھر کے پیچھے چھپتا پھرے گا) پتھر تم سے کہیں گے کہ اے مسلمان! ادھر آ میرے پیچھے یہ یہودی (چھپا بیٹھا) ہے اس کو موت کے گھاٹ اتار دے۔‘‘ صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث845،ان آیات اور احادیث مبارکہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بتا دیا گیا کہ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے مگر یہود و نصاریٰ اپنی اسلام دشمنی سے باز نہیں آسکتے، معلوم نہیں یہ بات ہمیں کب اور کیسے سمجھ آئے گی۔۔۔۔۔( جاری ہے)

0 comments

Write Down Your Responses