اسرائیل خود سے ایران پر فوجی حملہ کرسکتا ہے۔

واشنگٹن(انویسٹی گیشن ٹیم) اسرائیل نے امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کےحوالے سے مذاکرات کی کوششوں کو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل خود سے ایران پر فوجی حملہ کرسکتا ہے۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے وزیربرائے معیشت نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتوں بشمول امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو جان بوجھ کر تعطل کی اجازت دی ہے نہ کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا گیا ہے۔ ہم امن کے لئے ترس رہے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جا سکتا ہے، ایران پر عائد کی گئی سخت معاشی پابندیوں میں کسی صورت میں نرمی نہیں کی جانی چاہیئے، جب ایران سے اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح بات کرنے کا وقت آیا تو عالمی طاقتیں ایران سے دو ٹوک بات کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ ایران پر دباؤ بڑھانے کا وقت ہے نا کہ دباؤ میں آنے کا، امریکا، روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا ایران سے مذاکرات کا مقصد اس کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے سوا کچھ بھی نہیں ہونا چاہیئے۔
اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کبھی بھی اپنی قومی سلامتی کی ذمہ داری بیرونی ہاتھوں میں نہیں دیتا اور ماضی کا ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے، ہم نے 1981 میں عراق کا نیوکلیئئر ری ایکٹر تباہ کیا اور 2007 میں ہم نے شام پر بھی بمباری کی تھی، ماضی میں ہم نے 2 مرتبہ دنیا کو بچانے کے لئے ایسا کیا کیونکہ ہمیں تاریخ میں اپنی جگہ اور اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک ہے، نیفتالی کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خاموش نہیں بیٹھے گا کیونکہ ایسے مذاکرات جس سے ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ نہ ہو مستقبل میں ایران کو ایک جوہری ملک بنا دیں گے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ان مذاکرات کو ایک خطرناک ڈیل قرار دے رہے ہیں

0 comments

Write Down Your Responses