سانحہ راولپنڈی ، مذہبی منافرت اور وقت کے تقاضے

تحریر :امیر افضل اعوان
قیام پاکستان سے ہی اندورنی و بیرونی سازشوں کی وجہ سے وطن عزیز بے پناہ مسائل و مصائب کا شکار نظر آتا ہے ، مختلف ادوار میں روپ بدل کر آنے والے صاحب اقتدار طبقہ نے بھی ہمیشہ اپنے مفادات کی ہی نگہبانی کی اور ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کے ساتھ ساتھ اجتماعی بہتری کے لئے کو ئی حقیقی پیش رفت ممکن نہ ہوسکی ، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی تعمیر وترقی کی شاہراہ پر آگئے چلنے کی بجائے پیچھے کی طرف محو سفر نظر آتے ہیں اور اس پر بد قسمتی یہ کہ ملک ، قوم اور اسلام دشمن عناصر ہماری صفوں میں انتشار کی فضا بیدار کر کے اتحاد ملت کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمہ وقت مصروف عمل اور ہم ان کے ہاتھوں کھلونہ بن کر ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل نظر آتے ہیں، ملک میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت کا زہر اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ آج ہم ایک دوسرے کا گلا کاٹنا بھی عین ثواب سمجھتے ہیں، آج کا پاکستان نہ تو اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے اور نہ ہی محمد علی جناح کے تصور کا عکس کہیں بھی نظر آتا ہے، یہاں عملی طور پر جنگل کا قانون نافذ نظر آتا ہے کہ جہاں اگر آپ شیر کی کچھا ر میں پیدا ہونے کا شرف رکھتے ہیں تو آپ شکاری ہیں اور اگر آپ ہرن ہیں تو پھر آپ کچھ بھی کرلیں شیر کا شکار بننا آپ کامقدر ٹھہرے گا۔
ملک اور بیرن ملک موجود ہمارے دشمنوں نے ہمیں فرقہ واریت کی بنیاد پر اس قدر تقسیم کردیا ہے کہ ہم ہر دوسرے شخص پر کفر کا فتویٰ عائد کرتے ہوئے اس کی سرکوبی اور اس کا سر کاٹنا اپنا فرض اولین بلکہ عبادت سمجھ بیٹھے ہیں، یہاں شیعہ وسنی پرکوئی نہ کوئی لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے ، دین پر کاروبار کرنے والے نام نہاد اور مفاد پر ست علماء و زاکرین جو کہ شائد دین کی ابجد سے بھی ٹھیک سے واقف نہیں ہمیں مسلسل لڑانے اور فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف ہیں اور ہم ہیں کہ ان کی کتابوں، بیانات، تقریروں اور جذباتی نعروں کی بھینٹ چڑھتے چلے جارہے ہیں، اس حوالہ سے ہم حقائق کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور کسی بھی شخص کے ساتھ مولانا، مفتی، علامہ کا اور فاروقی، صدیقی، عثمانی، حسینی، شیرازی، نقوی یا بخاری کا ذکر دیکھ کر کچھ بھی سوچنے ، سمجھنے کی توفیق نہیں ہوتی اور ہم دوسرے کو مارنے ، کاٹنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں جو کہ بذات خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔
بلاشبہ یوم عاشورہ کے موقع پر15نومبر کو راجہ بازار راولپنڈی میں مدرسہ تعلیم القرآن پر حملہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے، قوم اب تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکی، بحیثیت قوم یہ ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ جس ملک میں محرم اور ربیع اول کے مہینے بھی بغیر فوج کے نہ گزارے جاسکیں یا لوگوں کو عبادات کے لئے اسلحہ کی ضرورت پڑے وہاں عام آدمی کا کیا حال ہوگا ، اس موقع پراربوں روپے سیکورٹی کے نام پر خرچ کر کے بھی اگر قیام امن ممکن نہیں ہوسکتا تو ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا ملک کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، خدا کی پناہ کہ ہمارے وفاقی دارلحکومت کے جڑواں شہر میں ظلم و بربریت کی ایسی بھیانک تاریخ رقم کی گئی ، مدرسہ کے معصوم طلباء اور نماز جمعہ کے لئے آنے والے نمازیوں کے گلے کاٹتے ہوئے ان کو ان کے ہی خون میں نہلا دیا گیا، ڈ یڈ ھ سو دکانوں کو نذر آتش کردیا گیااور ریاست منہ دیکھتی رہ گئی، اس موقع پر نہ تو ہجوم کو روکا گیا اور نہ ہی حملہ آوروں کو لگام ڈالی جاسکی بلکہ حملہ آوروں نے پولیس کی ہی رائفلیں چھین کر انہیں استعمال کیا، حالات اس قدر بگڑ گئے کہ حکومت کرفیو لگانے پر مجبور ہوگئی ، راولپنڈی کے شہری 3دن تک یرغمال بنے رہے اور اس کے بعد چوتھے دن کرفیواٹھایا گیا تو ہزاروں لوگ مسجد و مدرسہ کے قریب اکٹھے ہوگئے جس پر فوج واپس آگئی۔
سانحہ راولپنڈی پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ، سرگودھا میں بھی مذہبی جماعتوں نے مشترکہ احتجاجی جلوس نکالا ، جس میں مقررین نے کہا کہ محرم میں سیکورٹی کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ اس موقع پر کاروبار زندگی کی بندش کی وجہ سے مزید مالی خسارہ کے باوجود ، ہنگامی حالات نافذ کردےئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود حالات پر کنٹرول ممکن نہیں ہوسکتاجو کہ ہمارے لئے لمحہ ء فکریہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں مذہبی جلسہ ، جلوسوں کا سلسلہ ختم کر کے تمام مسالک کو عبادت کے لئے ان کی عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے اور سڑکوں پر نکلنے کی پابندی عائد کی جائے اور سانحہ راولپنڈی کے مرتکب، ملوث اور پس پردہ عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت مسلمان دنیا بھر میں یہودی و نصاریٰ کے نرغے میں آئے ہوئے ہیں اور یہی وجہ کہ عالمی سازشوں کے باعث آج عراق، کویت، لبنان اور شام سمیت دیگر ممالک میں امت مسلمہ کا قتل عام معمول بن چکا ہے، حالانہ کہ کچھ عرصہ قبل بعض اسلامی ممالک میں شیعہ سنی اتحاد کی فضا بیدار ہوئی تو شیعہ سنی اکٹھے نماز اور عبادات کا اہتمام کرتے نظر آئے مگر دشمنان اسلام کو یہ اتحاد ایک آنکھ نہ بھایا اور بہت جلد اس اتحاد کا بھی شیرازہ بکھر کر رہ گیا، ہماری آراء کے مطابق سانحہ راولپنڈی کے ملزمان کو کٹہرے میں لاکر ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لانی چاہئے مگراس کے ساتھ ساتھ فرقہ واریت کی اس فضا کے خاتمہ کے بھی موثر اقدمات کئے جانے چاہئے تاکہ حالات کا بگاڑ ختم ہوسکے، اس حوالہ سے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بھی ملک، قوم اور اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کو سمجھ کر اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرنی چاہئے ۔

0 comments

Write Down Your Responses