ریو اولمپک گیمز کے آغاز میں ایک ہزار دن باقی رہ گئے

ریو ڈی جنیرو( سپورٹس نیوز) ریو اولمپک گیمز کے آغاز میں ایک ہزار دن باقی رہ گئے،2014 فٹبال ورلڈ کپ کے حوالے سے میزبان برازیل کی مشکلات2016 کے ایونٹ کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
سیاسی مظاہرے ، لاگت میں اضافے کی بے لاگ پیش گوئیاں اور پروجیکٹس کی تکمیل میں شبہات سے  آئندہ سال کے ایونٹ کی کامیابی پر سوالیہ نشان ثبت ہو چکے ہیں۔ ریو گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین کارلوس نزمان نے اس حوالے سے کہاکہ ہمیں اپنی مہم کی پیچیدگی کا احساس ہے، ابتدائی مرحلہ اولمپکس کا برازیل میں انعقاد ہو گا،6 ملین آبادی والا اہم شہر ریو 2 اکتوبر 2009 سے میزبانی ملنے کے بعد ہی جدید طرز زندگی کی طرف گامزن ہے، میڈرڈ، ٹوکیواور شکاگو کی باراک اوباما کی حمایت شدہ بڈ گیمز کو حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی،اگرچہ 3 برس باقی ہیں لیکن بڑھتے ہوئے اخراجات اور آئندہ برس کے ورلڈ کپ کی لاگت کیخلاف مظاہروں کی وجہ سے آرگنائزرز کو مسلسل ان سوالات کا سامنا ہے کہ کیا شہر مقررہ وقت پر گیمز کیلیے تیار ہوسکے گا؟ کیا برازیل ایک ایونٹ کی 15 بلین ڈالر لاگت کے ساتھ دونوں بڑے اسپورٹنگ پروگرامز پر عملدرآمد کراسکے گا؟

کیا یہ رقم صحت اور تعلیم جیسی سماجی ضروریات پر خرچ کرنا بہتر نہیں ہے؟ نزمان گذشتہ دسمبر کے بعد کئی ماہ سے پُر امید ہیں کہ ہر وینیو اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہوجائیگا، انھوں نے کہاکہ بجٹ آئندہ برس تیار ہوگا، ہم ایک آرام دہ اور اچھی پوزیشن میں موجود اور انتہائی بہتر راہ پر گامزن ہیں۔ دونوں ایونٹس کے آرگنائزرز ملک کو عظیم بنانے کا وعدہ کررہے ہیں جو تیزی سے بڑھ رہا ہے، البتہ اب بھی امیر اور غریب کے درمیان ایک خلیج موجود اور ریو میں دونوں باقاعدہ طور پر ایک دوسرے سے کئی میٹرز فاصلے پر رہتے  ہیں ۔
انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے رابطہ کاروں نے تیاریوں کا جائزہ لینے کیلیے پانچ دورے کیے اور اب 2014 میں پھر آئیں گے۔ آخری دورے میں کوآرڈینیشن کمیشن چیئرمین نوال ال متواکل نے کئی ایریاز میں پروگریس کا جائزہ لیا اور ریو کو ایک حتمی ضمانت اور شہر کے اسپورٹنگ ورثے کو سلامی دی۔ صرف ایک ماہ قبل ہی برازیلین پریس نے اطلاع دی تھی کہ ایک نیشنل آڈٹنگ آفس نے گیمز کی مالی معاملات کا جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ تیاریاں شیڈول سے پیچھے ہیں، بڑے پیمانے پر ریاستی رقم کا کم استعمال ہوا ہے۔ آرگنائزرز نے 4 بلین ڈالر کا آپریٹنگ بجٹ مختص کیا تھا لیکن کیپیٹل بجٹ اس سے تین گنا زیادہ ہے، خدشات پائے جاتے ہیں کہ وینیوز کی تکمیل کیلیے  700 ملین سرکاری رقم کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

0 comments

Write Down Your Responses