نوجوان کو گھر بلوا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا

بہاول پور (ڈپٹی انویسٹی گیشن انچارج ) نوجوان کو گھر بلوا کر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ‘ نوجوان ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا ‘ پولیس تھانہ کوتوالی نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ۔ تفصیل کے مطابق محمد ظہیر سکنہ مچھلی بازار نے پولیس تھانہ کوتوالی کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اسکے بیٹے محمد کامران بعمری 17/8سال کو عبدالشکور ولد عبدالغفور سکنہ محلہ کجل پورہ نے بذریعہ فون اپنے گھر بلوایا تاہم کافی دیر تک محمد کامران کی واپسی نہ ہونے پر محمد ظہیر الدین نے گواہان محمد ندیم ‘ سہیل اکرم کے ہمراہ عبدالشکور کے گھر گئے ۔ درخواست کے مطابق ابھی وہ عبدالشکور کے گھر کے قریب گلی میں ہی موجود تھے کہ عبدالشکور کی بیٹھک سے شور شرابا کی آواز سن کر بھاگتے ہوئے جا کر دیکھا تو اسکے بیٹھے محمد کامران کو شان شکور اور عبدالشکور دونوں بھائیوں نے پکڑا ہوا تھا اور نعمان ولد عبدالشکور کے ہاتھ میں پسٹل 30بور موجود تھا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اسکے بیٹے محمد کامران پر سیدھا فائر کر دیا جو کہ اسکے سینے پر لگا جسکے بعد وہ زمین پر گر گیا تاہم انہوں نے ملزمان کو پکڑنے کی کوشش کی تو ملزم نعمان نے دھمکی دی کہ جو قریب آیا اس گولی مار دونگا اور پسٹل لہراتے ہوئے تمام ملزمان بھاگ گئے ۔ درخواست کے مطابق اسکے بعد محمد ظہیر الدین نے ریسکیو 1122کو بلوا کر مضروب کو بہاول پور وکٹوریہ ہسپتال لے جانے کی کوشش کی مگر وہ راستہ میں جاں بحق ہو گیا ۔ وجہ عناد رقم کا لین دین کا تنازعہ بتائی جاتی ہے جبکہ محمد ظہیر الدین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسکے بیٹے محمد کامران کو ناحق قتل کیا گیا مگر پولیس تھانہ کوتوالی ملزمان کی مبینہ طور پر سرپرست بنی ہوئی ہے ۔ اس نے وزیر اعلیٰ پنجاب ‘ آئی جی پولیس پنجاب ‘ آر پی او پولیس بہاول پور رینج اور ڈی پی او بہاول پور سے مقدمہ کی صحیح خطوط پر تفتیش وحقائق کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ادھر پولیس تھانہ کوتوالی نے مقدمہ نمبری 264/13زیر دفعہ 302/34ت پ کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے ۔ 

0 comments

Write Down Your Responses