آزادی پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان میں کوئی بھی عوامی و فوجی حکومت موثر تعلیمی پالیسی نہ بنا سکی

ہارون آباد ( انویسٹی گیشن ٹیم) ماہر تعلیم تسنیم اختر کیانی نے کہا ہے کہ آزادی پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان میں کوئی بھی عوامی و فوجی حکومت موثر تعلیمی پالیسی نہ بنا سکی ہے ۔موجودہ ماہر تعلیم تعلیمی پالیسی بناتے وقت ایلیمنٹری ،سیکنڈری و کالجز کے ماہر تعلیم کو شامل کئے بغیر ائیرکنڈیشنڈ کے بند کمروں میں بیٹھ کر پالیساں نافذ کر دیتے ہیں جبکہ دور حاضر میں جس ملک نے بھی ترقی کی ہے اس نے اپنی قومی زبان کو لازمی قرار دیکر ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے ۔لیکن ہم نے کاغذات میں تو اردو کو قومی زبان کا درجہ دے رکھا ہے لیکن عملی طور پر سرکاری دفاتروں سمیت دیگر محکموں میں تمام کام انگریزی میں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی کی حد ہے کہ ہمارے ہاں گورنمنٹ سکولز کے علاوہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور پرائیویٹ سکولز میں بھاری فیس پر تعلیم دی جا رہی ہے جس طرح ڈاکٹرز حضرات سرکاری ہسپتال کی بجائے اپنے پرائیویٹ کلینک یا ہسپتال میں زیادہ اچھی طرح سے مریض پر توجہ دیتے ہیں اسی طرح تعلیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز ،لیکچرار و ٹیچرز نے گلی محلوں میں تعلیم کے نام پر اکیڈیمز کھول رکھی ہیں جہاں پر طلبہ و طالبات سے بھاری مد میں فیس لے کر امتحان کی تیاری کرواتے ہیں ۔تسنیم اختر کیا نی نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام کی بربادی میں حکومت کیساتھ ساتھ ہم خود بھی ذمہ دار ہیں ۔موجودہ دور حاضر میں دیہاتی سکولز میں پڑھائی کم ہوتی ہے لیکن چیکنگ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ محکمہ تعلیم کے اسسٹنٹ ایجوکیشن ،ڈپٹی دسٹرکٹ ایجوکیشن ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ،ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ،دسٹرکٹ مانیٹرنگ آفسیرز سمیت دیگر ایجوکیشن آفیسرز باقاعدگی سے ہر ماہ سکولز کا معائنہ کرتے ہیں کیونکہ ان ایجوکیشن آفیسران نے بروقت ڈاک کا جواب دیکر اپنی سروس کا تحفظ کرنا ہوتا ہے لیکن تعلیم نظام کے میعار اور بہتری کے لئے کوئی بھی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔تسنیم اختر کیا نی نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے تعلیم کے سلسلہ میں اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے ۔

0 comments

Write Down Your Responses