ملک بھر میں امن کے دشمنوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا اعلان : مجلس وحدت مسلمین

لاہور ( پ ر)مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے جمعہ کے روز عظمت نواسہ رسول (ص) کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں امن کے دشمنوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے سانحہ راولپنڈی کی تحقیقات کیلئے بنائے جانے والے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ کار فقط سانحہ راولپنڈی تک نہیں بلکہ سانحہ ڈھوک سیداں، لاہور میں ہونے والے سانحہ یوم علی ؑ ، سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان اور سانحہ چکوال کی بھی تحقیقات کرائی جائے جس کی بھینٹ سینکڑوں بے گناہ لوگ چڑھے۔ کمیشن اس بات کو سامنے لائے کہ کالعدم دہشتگرد تکفیری گروہوں اور ان کے پس پردہ عناصر کون ہیں۔جو اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کیلئے معصوم انسانوں کا خون بہاتے رہے ہیں؟۔ دہشتگردی سے متاثر ہ افراد پنجاب حکومت سے یہ سوال کرنے میں حق باجانب ہیں کہ شیعہ سنی مساجد، امام بارگاہوں، مزارات مقدسہ کی توہین ، عید میلاد البنی کی محافل پر حملے اور ہزاروں افراد کی شہادت پر کیوں عدالتی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا؟۔ اور آج اس مسئلہ پر بولنے والے علماء اس وقت کیوں خاموش رہے۔؟ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں مرکزی کابینہ کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ 
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا راولپنڈی کے جلوس کے روٹ میں فقط یہی ایک ہی مسجد تھی؟، یا درجنوں اور بھی مساجد تھیں، اگر تھیں تو مسئلہ فقط ایک خاص جگہ پر ہی کیوں پیش آیا؟۔جب مقامی انتظامیہ طے کرچکی تھی کہ تمام جمعہ کے اجتماعات دن دو بجے ختم کردئیے جائیں گے تو کیوں تین بجے تک ایک خاص جگہ سے نواسہ رسول ﷺ کے بارے میں ہرزاسراہی اور توہین کا انتظار کیا جاتا رہا؟، انتظامیہ نے کیوں بروقت کارروائی نہ کی؟۔ہم سوال کرتے ہیں کہ کیوں فقط اس واقعہ کو بنیاد بناکرمتعدد شیعہ مساجد ، امام بار گاہوں اور قرآن پاک کے درجنوں نسخوں کوشہیدکردیا گیا۔فقط را ولپنڈی میں پانچ سے زائد امام بارگاہوں کو نذر آتش کیا گیا اور مقدسات کی توہین کی گئی اور لوٹا گیا۔دہشتگردعناصر ملتان، بہاولنگر اور چشتیاں سمیت کئی علاقوں میں مسلح دنداتے رہے۔ کئی جگہوں پر مساجد اور امام بارگاہوں کی توہین کی گئی،لیکن ہماری ملکی سلامتی کے ادارے تماشا دیکھتے رہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ہم سانحہ راولپنڈی کے نام پر سرگرم ایک گروہ کے مولویوں سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ 30سالوں کے دوران ان کے پرورش کردہ تکفیری گروہوں نے شیعہ سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا اور مساجد ، امام بارگاہوں، اور مزارات پر خودکش حملے کیے اور میلادالنبی اور عزادای امام حسین ؑ کے اجتماعات کو نشانہ بنایا تو اس وقت یہ علماء کیوں خاموش رہے اور اپنے پرورش کردہ عناصر کو ان کے شیطانی عزائم کی تکمیل سے کیوں نہ روکا کہ جس کی بھینٹ چڑھ کر 40ہزار سے زائد شیعہ سنی مسلمان لقمہ اجل بنے ؟۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی جھگڑا نہیں ہے ، رالپنڈی سمیت متعدد شہر وں میں جلاو گھراو کالعدم تنظیم کرستانی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے کہا کہ گذشتہ روز وزیراطلاعات پرویز رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ بدقسمتی سے ہماری ریاست گذشتہ ایک طویل عرصے سے فرقہ واریت میں خود فریق بنی رہی ہے اور یوں فرقہ واریت کے یہ جراثیم ریاستی اداروں اور اہلکاروں کے اندر چلے گئے اور اب قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اس بیان کی روشنی میں جوڈیشل کمیشن اس بات کا بھی پتہ چلائے کہ کونسے عناصر تھے جنہوں نے ریاستی اداروں میں بھی فرقہ واریت کا بیج بودیا اور کیا کہیں اب بھی وہ جراثیم یہ کام جاری تو نہیں رکھے ہوئے؟۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کمیشن کا دائراختیار وسیع کرکے ہمیشہ کیلئے دہشتگردی کے عفریت سے قوم کو نجات دلائی جائے اورسابقہ واقعات کی تحقیقات کرا کر اصل مجرموں کو قوم کے سامنے لایا جائے۔ہم پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشتعل نہ ہوں اور پرامن رہیں۔ پوری شیعہ قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ شیعہ سنی مساجد کی حفاظت کیلئے اقدامات کریں اور دہشتگرد گروہ سے مقدسات کی توہین ہونے سے بچائیں۔ 
علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی سرزمین پر اسلام کے نام پر دو مکتبہ فکر کو اسلام دشمن قوتوں کے اشارے پر لڑانے کی سازشیں کی جارہی ہیں لیکن الحمد اللہ پاکستان کی عوام اور دونوں مکاتب فکر اہلسنت و اہل تشیع کے علمائے کرام ، اکابرین اس سازش سے بخوبی آگاہ ہیں اوروہ دشمنان اسلام اور پاکستان کی اس سازش کو اپنے اتحاد اور دانشمندی سے ناکام بناتے آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ پاکستان میں مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو دونوں مکاتب فکر کے اکابرین نے مسترد کرتے ہوئے اس کو کبھی بھی فرقہ وارانہ فسادات قرار نہیں دیا اور ہمیشہ ایسے حادثات کے پیچھے کارفرما ہاتھ اور چہروں کو بے نقاب کیا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ راولپنڈی کے واقعہ دراصل اسلام دشمن قوتوں کی سازش ہے جس کا مقصد وطن عزیز کو فرقہ وارنہ دہشتگردی کی آگ میں دھکیلنا ہے، انہوں نے کہا کہ برداران اہلسنت کے جیدعلماء کرام ، اکابرین اور اہلسنت کی ممتاز تنظیموں نے بھی گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی عوام کو اہلسنت کے نام پر گمراہ کرنے والے چہروں سے نقاب اتار کران کو اپنی صفوں میں پناہ نہیں لینے دی ہے اور پوری عوام کے سامنے واضح کردیا ہے کہ یہ تکفیری ٹولہ ہے جس کی ڈور اسلام دشمن غیر ملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور اسلامی نظریات میں تحریف کرکے سادہ لوح ذہنوں کو گمراہ کررہا ہے۔ یہ گروہ دراصل اسلام کے نام پر بم دھماکے ، دہشت گردی ، خودکش حملے ، افواج پاکستان اور ان کے مراکز کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔، یہ ٹولہ کبھی میلادالنبی تو کبھی عزا امام حسین (ع )کو نقصان پہنچا کر اپنے شیطانی عزائم کو بھی آشکار کرتا رہا ہے۔سانحہ نشتر پارک بھی اسی گروہ کی کارستانی تھا، یہ گروہ شیعہ اور سنی حتیٰ کہ ہر پاکستانی کا دشمن ہے ۔اس موقع پر مرکزی کابینہ کے ارکان بھی نیوز کانفرنس میں شامل تھے۔

0 comments

Write Down Your Responses