چشتیاں میں یوم عاشورہ کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم کے خلاف ہارون آباد میں اہل سنت و الجماعت کی جانب سے احتجاجی مظاہرے

ہارون آباد (انویسٹی گیشن ٹیم) چشتیاں میں یوم عاشورہ کے موقع پر فرقہ وارانہ تصادم کے خلاف ہارون آباد میں اہل سنت و الجماعت کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں سکولز و کالج کے طلباء سمیت سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔مظاہرین میں سے چار طالب علموں سمیت دو پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ۔مظاہرین نے سانحہ چشتیاں کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی ٹریبونل تشکیل دینے اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔اس موقع پر شہر بھر میں مکمل طور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت اہل سنت والجماعت کے رہنماء قاری عبیدالرحمن نے کی ۔اہل سنت و الجماعت کے رہنماؤں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گستاخ صحابہؓ کے سامنے بے بسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اگر گستاخ صحابہؓ کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج جاری رہے گا ۔بعد ازاں جلوس مرکزی امام بارگاہ کی جانب روانہ ہوا جب مظاہرین میلاد چوک کی جانب سے مرکزی امام بارگاہ کی طرف بڑھے تو پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جس پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا تو جوابی کاروائی میں پولیس نے مظاہر ین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔دریں اثناء امام بارگاہ کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں چار طالب علم ابوبکر صدیق ،غلام محی الدین،عبدالرحمن اور سہیل اصغر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہارون آباد منتقل کردیا گیا ۔شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے ہنگامی طور پر فوج کے مسلح دستے پہنچ گئے تاہم ابھی تک امن وامان کی صورتحال تشوتش ناک ہے 

0 comments

Write Down Your Responses