ایف ایف سی کے زرعی ماہرین نمائشی پلاٹوں کے ذریعے زمینداروں کو فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی عملی تربیت فراہم کرتے ہیں

وہاڑی(انویسٹی گیشن ٹیم) مینجر زرعی سروسزایف ایف سی وقار عباس نے کہا ہے کہ ایف ایف سی کے زرعی ماہرین نمائشی پلاٹوں کے ذریعے زمینداروں کو فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی عملی تربیت فراہم کرتے ہیں اورزرعی توسیعی طریقہ کار کے ذریعے فصلوں کے بہتر پیداواری عوامل کے متعلق زمینداروں کو آگاہی مہیا کی جاتی ہے۔ یہ بات انہوں نے میگافارمر ٹریننگ پروگرام کے سلسلہ میں کاشتکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ہماری کوششوں کامقصد کاشتکارکی فی ایکڑپیداوار اور منافع میں اضافہ یکے لیے جدید فنی معلومات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کاشتکار نومبر کے مہینے میں گندم کی کاشت کریں،یوریا کے ساتھ ساتھ ڈی اے پی کا استعما ل کریں،زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کے بیج کا انتخاب کرکے جڑی بوٹیوں کا بروقت کنڑول کریں تو آسانی سے گندم کی 60من فی ایکڑپیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ سیلز ہیڈمظہر فرمان نے کا شتکاروں کو بتایا کہ ایف ایف سی پورے ملک کے کاشتکاروں تک اعلی معیار کی کھادیں پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کو زرعی سروسز بھی مہیا کر رہی ہے۔ جس کے لئے کمپنی مُلک بھر میں پانچ فارم ایڈوائزری سنٹر اور چودہ ریجنل ٹیکنیکل سروسز افسران زمینداروں کی خدمت میں کوشاں ہیں۔زرعی ماہر ایف ایف سی محمد عباس ضیاء نے کاشتکاروں کو بتایاکہ ہلکی میرا سے بھاری میرا گندم کی کاشت کے لئے موزوں ترین زمینیں ہیں۔ سیم ، کلر اورنشیبی زمینوں کا گندم کی کاشت کے لئے انتخاب نہ کریں۔ ایک یا دو دفعہ چزل ہل، دویا تین دفعہ ہل اور سہاگہ کی مدد سے زمین کو اچھی طرح تیار کر لیں۔سحر2006، فیصل آباد2008،شفق2006،پنجاب 2011،ملت 2011، آس2011گندم کی اچھی اقسام ہیں۔ بیماریوں سے بچاؤ کے لئے بیج کو زہر لگا کر کاشت کریں۔بیج کا شرح اگاؤ 90فیصد سے زیادہ ہونا چاہیے۔ 15نومبر تک کاشت کے لئے شرح بیج 50 کلو گرام فی ایکڑ اور 16نومبر سے15دسمبر تک شرح بیج 60کلو گرام فی ایکڑ ہونا چاہیے۔ ہر ممکن کوشش کریں کہ کاشت نومبرمیں مکمل ہو جائے۔کلراٹھی اور سیم زدہ زمینوں میں کھڑے پانی میں گندم کے بیج کا چھٹہ کریں اور گپ چھٹ کی صورت میں بیج 65سے70کلوگرام فی ایکڑ استعما ل کریں۔ نوکیلے اور چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لئے مناسب زرعی ادویا ت سپرے کریں۔اچھی پیداوار کے لئے تین مرتبہ آبپاشی بہت ضروری ہے۔کھادوں کے متوازن استعمال بارے انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں فصلوں کی کم پیداوار کی بڑی وجہ کیمیائی کھادوں کا غیرمتوازن اِستعمال ہے۔کھادوں کے متناسب اور بروقت استعمال سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار کو باآسانی بڑھایا جاسکتا ہے۔اُنہوں نے گندم کیلئے نائٹروجن،فاسفورس ،پوٹاش،زنک اور بوران کی اہمیت کو بھی خصوصی طور پر اُجاگر کرتے ہوئے زمینداروں پر یہ بات بھی واضح کی کہ فصلوں کی پیداوار میں کمی کی ایک بڑی وجہ اس علاقے میں فاسفورسی کھادوں خصوصاً ڈی اے پی کا بہت کم اِستعمال ہے۔اُنہوں نے گندم کی منافع بخش پیداوار کیلئے کھادوں کی سفارشات پر بات کر تے ہو ئے کہا کہ گندم کی 50من پیداوار حاصل کرنے کے لئے ایک ایکڑ میں2.5بوری سونا یوریا،1.5 بوری سوناڈی اے پی اورآدھی بوری ایف ایف سی ایس او پی ڈالیں۔ تجزیہ اراضی کی بنیاد پرزنک اور بوران کی کمی کی صُورت میں زنک سلفیٹ (21فیصد) بحساب 10کلو گرام فی ایکڑاور سونا بوران (11.3فیصد) بحساب3 کلو گرام فی ایکڑ دیں 

0 comments

Write Down Your Responses