سفیدکُرتاتھاسُرخ کیوں ہے؟


تحریر : مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی 
ایک عظیم سانحہ جس کی مذمت جتنی بھی کی جائے کم ہے اللہ کے مہمانوں کواللہ کے گھر مسجد سے نکال کر کے اس ملک کی قدیم شاہراہ پہ دن دیہاڑے ذبح کیاگیا،خاک وخون میں لت پت قال اللہ وقال الرسول پڑھنے والے ہونہار طلباء راجہ بازار کی سڑک پہ بے یارومددگار ظالموں کی آہنی سلاخوں کی زد میں آئے جن کاقصور یہی تھاکہ وہ اپنے ماں باپ دین کوسیکھنے کی خاطر چھوڑ آئے ۔۔ظلم کی انتھاء کے 10 محرم کوکربلاکے دن ہی اس دور میں کربلامیدان میں ہونے والاظلم دھائی دیاکہ نماز کے اندر حسین نے بھی سرکٹادیااورحسین کے چاہنے والوں کے گلے پہ بھی اسی دن چھریاں چل گئی ،،امام حسین کے سچے غلاموں کی مبارک لعشیں ان کے آبائی گاؤں گئیں توان کی ماؤں کی داستانیں اورصدائیں کچھ اس طرح تھیں 
اجڑے رستے عجیب منظرویران گلیاں بازاربندہیں
کہاں کی خوشیاںیہ کیسی عیدیں شہرتومیرالہولہوہے 
بے ہوش مائیں وہ روتی بہنیں لپٹ لے لاشوں سے کہہ رہی ہیں
اے پیارے بھائی !گئے تھے مدرسے سفید کُرتا تھاسُرخ کیوں ہے؟
دینی مدارس کی وجہ سے ہی اس ملک میں جوامن نظر آتاہے وہ ہے ورنہ کوئی محلہ گلی کوچہ بازارامن کا سماں پیش نہیں کرتا۔یاد رکھیئے کہ دینی مدارس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں یہ اسلامی حریت فکرکی چھاؤنیاں ہیں علومِ دینیہ کاچراغ عالمِ انسانہیت میں آج ان کے آنگن ہی کی چنگاریوں سے روشن ہے دینی ادارے کی بنیادآج سے ساڑھے چودہ سوسال قبل مسجدنبوی کے گردسب سے پہلے آپ ﷺ نے اصحابِ صفہ کے نام سے رکھی جس میں آپ ؐ نے بیٹھ کراپنے محنتی شاگردوں کودین کی تعلیم دی اور ان کی علمی پیاس کوبُجھایا۔یہ سلسلہ چلتارہااپنی کامیابیوں کی منازل طے کرتارہاہردور میں دینی مدارس کواسلام دشمن عناصر نے ختم کرنے کی کوشش کی لیکن جس سلسلہ کی بنیادآپ ؐ نے رکھ دی وہ نہ کبھی ختم ہواہے اورنہ کبھی ختم ہوگاکیونکہ جس مذہب کی تعلیم باقی ہوتی ہے وہ مذہب بھی روزِروشن کی طرح چمکتاہی رہتاہے 
حکیم الاسلام قاری محمدطیب صاحب ؒ نے بھی فرمایاتھا:جس مذہب کی تعلیم باقی ہے وہ مذہب باقی ہے ۔جس مذہب کی تعلیم ختم ہوجائے وہ مذہب ختم ہوجاتاہے دینی مدارس بقائے مذہب کی اس پُرفتن دور میں سعی کر رہے ہیں ۔ان دینی مدارس نے ہمیشہ حق وصداقت کی آواز کوبلندکیااوربڑی بڑی پُرکشش پیشکشوں کوٹھکرایا۔ان مدارس دینیہ سے عالم فاضل کی ڈگری حاصل کرنے والاایک غریب سے غریب عالم بھی اپنے دل میں دنیاکی لالچ نہیں رکھتاکیوں ؟اس لیے کہ وہ اپنے آپ کواس دنیافانی میں بسنے والے عرب پتی انسان سے بھی اپنے آپ کوامیرسمجھتاہے اس مال ودولت کی فکر نہیں ہوتی بلکہ وہ یہی سوچ رکھتاہے کہ جواللہ پاک نے مجھے علم کی دولت عطاکی ہے اس سے اورلوگ بھی مستفید ہوں دنیاکی لالچ سے بالاتر ہوکر وہ اپنی اس سعی کوآگے ان لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتاہے جنہیں اس کی اشدضرورت ہوتی ہے 
ایک عالم دین کاذہن جاہ ودولت ،مال وذرسے پاک ہوتاہے اوراس کی آنکھ کبھی بھی غیر کے مال پہ یادولت پہ نہیں اُٹھتی وہ توہمیشہ یہی نعرہ اقوامِ عالم سے بیزار ہوکرلگاتاہے
؂اپنی ملت کوقیاس اقوامِ مغرب پرنہ کر 
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
آج دنیاکوپہلے سے کہیں زیادہ علماء ودینی مدارس کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ مدارس خداپرستی اورامن وامان کی تعلیم دیتے ہیں اگرملک میں دینی ادارے نہ ہوں توعزت کے ساتھ زندگی گُزارنامشکل ہوجائے گاکیوں کہ یہ مدارس ہی ہیں جوعدل انصاف اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاکوبرقراررکھنے اوراس کے فروغ میں انتھائی اہم کرداراداکررہے ہیں یہ قوم کاحلال وحرام کی تمیزسکھاتے ہیں ۔آج ہرطرف سے ان پہ یلغار کی جارہی ہے مدارس میں پڑھنے والے طالب علم کوتحفظ دینایہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ہمارا یہ پیارادیس جواسلام کے نام پہ بناتھاآج اس دیس میں قال اللہ وقال الرسول پڑھنے پڑھانے والے مدارس میں جاتے ہوئے یاگھرواپس آتے ہوئے گولیوں کانشانہ بن جاتے ہیں آخر اس کاذمہ دار کون ہوگا؟یہ کونسامذہب ہے جوبچوں کوقتل کرنے کی اجازت دیتاہے ؟یہ کونسی جماعت ہے جواس ملک خداداد میں مسجد پہ گولیاں برسانے کواوراس کوشہید کرنے کوثواب سمجھتی ہے ؟کیااسلامی تعلیمات سے اپنے قلوب کومنورکرناجرم ہے ؟
آئے روز نیاشوشہ ان مدارس پہ چھوڑاجاتاہے ۔روزانہ 5سے 10 ہونہارطلباء کے خون کابہنااور عشرہ محرم میں ہونے والایہ ظلم عظیم اس دیس کے الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکوآٹے میں نمک کے برابر بھی نظر نہیں آتااوراگر اللہ نہ کرے ایساواقعہ کسی سکول یاکالجز میں پیش آجائے تومیڈیاآسمان سر پہ اُٹھالیتاہے اوران دینی مدارس پہ ایسے الزامات کی بھرمار ہوتی ہے جوغیرممالک کی طرف سے بھی سننے میں نہیں آتی کبھی انہیں انتھاپسندی کے اڈے اورکبھی دہشت گردی کے ساتھ جوڑاجاتاہے اورہرایساواقعہ دینی مدارس کے ساتھ جوڑاجاتاہے اوردہشت گردی کی آڑ میں ان ننھے پھولوں کوہراساں کیاجاتاہے 
کیاان کامدارس دینیہ کے خلاف سازشیں کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ؟کیاان کے تماکرتوت پاکستان کی غیورعوام سے چھپے ہوئے ہیں؟
؂ایک نظراپنی طرف بھی دیکھ لیں یہ لوگ
بڑے آئے میراچاک گریباں دیکھنے والے
اسلام تمام انسانیت کے لیے رحمت کامذہب ہے یہ ہرقسم کے جبر،تشدداوردہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتاہے اورمدارس میں بھی اس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ برداشت اورصبروتحمل والاہتھیارہمیشہ استعمال کیاجائے ۔دینی مدارس کے طلباء کی وجہ سے ہی ملک وملت کوقوت ملتی ہے جس قوم میں ان اداروں سے محبت والفت ہوتی ہے وہ قوم کبھی بھی رسوانہیں ہوسکتی ۔افسوس اس بات پہ ہے کے کلمہ کی بنیاد پہ بننے والے اس ملک میں آج اسلام کے قلعوں کوکیوں تحفظ فراہم نہیں کیاجاتا؟معصوم بچوں کے سامنے معصوموں کے گلوں پہ کیوں چھُریاں پھرتی ہیں؟
یہ سوچئیے کہ ان معصوموں کی آہ محلات میں رہنے والوں کی دنیاوآخرت کوتباہ نہ کردے ۔۔۔۔

0 comments

Write Down Your Responses