آج پورے ملک کے کسان حکومت کی ناقص پالیسوں اورزراعت کی زبوں حالی پر احتجاج کر رہے ہیں

بہاول پور (ڈپٹی انچارج انویسٹی گیشن انچارج ) کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی نائب صدر جام حضور بخش نے کہا ہے کہ آج پورے ملک کے کسان حکومت کی ناقص پالیسوں اورزراعت کی زبوں حالی پر احتجاج کر رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو موجودہ حکومت سے بہت توقعات وابستہ تھیں کہ موجودہ حکمرانوں نے سابقہ حکومت سے بھی بڑھ کر کسانوں کا استحصال کیا ہے۔ کسان دشمن عناصر جن میں شوگر مل مالکان،ٹیکسٹائل مافیہ اور کھاد اور زرعی ادویات بنانے والے اداروں سے گٹھ جوڑ کرکے کسان اور زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔وہ چک نمبر12بی سی میں کسانوں کے نمائندہ اکٹھ سے خطاب کرر ہے تھے۔جام حضور بخش نے کہا کہ اس وقت پھٹی کا ریٹ2500سے3000ہزار روپے فی من تک ہے جس سے کسان کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی اور وہ بینکوں سے بھاری سود پر قرض لے کر اپنے بچوں کے زیورات بیچ کر اور ادھار لیکر کسی نہ کسی طرح زراعت کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے غیر منصفانہ ریٹ نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔گنے کا کرشنگ سیزن شروع ہونا چاہیے تھاکہ تاکہ خالی ہونیوالی زمین پر گندم کی کاشت کی جاسکے لیکن ابھی تک ملوں نے کرشنگ شروع نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ جلانے والی لکڑی 500روپے جبکہ گنا170روپے فی من فروخت ہورہا ہے اور اس میں بھی ظالمانہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ملیں مڈل مین کو پرمٹ کا اجراء کرکے کاشتکاروں کا استحصال کر تی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ڈی اے پی 4000ہزار روپے فی بوری فروخت ہور ہی ہے اور دکاندراروں نے کھاد چھپا رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان ان حالات میں بہت مایوس ہو چکا ہے اور زراعت تباہی کی جانب جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ نے کسان اور زراعت کو دو طرفہ نقصان پہنچا یا ہے۔اگر حکومت نے اس جانب فوری توجہ نہ دی تو جلد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔اس موقع پر کسان بورڈ بہاولپور کے چیف آرگنائزمیاں عبدالحمید،محمد علی خان لنگاہ اور ملک اظہر نے بھی خطاب کیا۔

0 comments

Write Down Your Responses