نواسے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

تحریر : سرفراز حسین انصاری


تاریخ اسلام میں بے شمار شہادتیں ہوئی،اور ہر شہادت اپنی جگہ ایک نمایاں اہمیت انفرادی قدر و منزلت اور مقام کی حامل ہے،ہر شہادت میں اسلام کی بقاہ ،دوام ،آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکے دین اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کی حیات جاوداں کا راز پوشیدہ ہے،یہی وجہ ہے کی تاریخ اسلام میں ہر شہادت اپنی جگہ اہم شمار کی جاتی ہے،لیکن شہادت امام حسین کا واقع کئی اعتبار سے دیگر شہادتوں سے مختلف اور منفردہے،اس کی انفرادیت کی ایک وجہ یہ ہے کی آپ امام عالی مقام ،نواسے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چشم و چراغ تھے اور ایسے چشم و چراغ کی جنہوں نے براہ راست صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

کی گود میں پرورش پائی تھی،آپ کے مبارک کندھوں پر سواری کی تھی،آپ کے لعاب دہن کو اپنی غذا بنایا تھا اور جنہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کا بیٹا ہونے کا شرف حاصل تھا،اس لیے غربت ،پردیس اور مظلومیت کی حالت میںیزیدیوں کے ہاتھوں شہادت باقی شہادتوں پر ایک نمایا ں فوقیت اور برتری رکھتی ہے۔وہ فاطمتہ زہرہ گوشہ آقادو جہاں کے لاڈلے امام عالی مقام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)جن کے بارے میں حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاحسن اور حسین میرے دنیا میں دو پھول ہیں سید الشہدا حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی ولادت ۵شعبان ۴ھ ؁کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کا نام حسین اور شبیر رکھا،اور آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ ہے،اور آپ کے برادر معظم کی طرح جنتی جوانوں کا سردار اور اپنا فرزند فرمایا۔حضور اقدس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو آپ کے ساتھ کمال رافت اور محبت تھی،حدیث شریف میں ارشاد ہوا۔جس نے ان دونوں(حضرت امام حسن و حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی ٰ عنہما)سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔جنتی جوانوں کا سردار سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ راہ خدا عزوجل میں اپنی جوانی میں راہ جنت ہوئے حضرت امامین کریمین ان کر سردارہیں اور جو ان کسی شخص کو بلحاظ اس کی نوعمری کے بھی کہا جاتا ہے۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایاوہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں(ترمذی)حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے اور سینہ مبارک سے لپٹاتے۔*حضرت اسامہ بن زید (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو دیکھاکہ حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کو لیے فرما رہے تھے۔یہ دونوں میرے اور میری بیٹی کی بیٹے ہیں۔اے اللہ!میں ان کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی ان محبوب رکھااور اٰن کو محبوب رکھ جو ان کومحبوب رکھے۔(ترمذی شریف)*حضرت عبد اللہ بن عباس(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے فرمایا۔لوگوں میں تم سے اس ہدایت اور تبلیغ کے بدلے کچھ اجرت نہیں مانگتا۔سوائے قرابت کی محبت کے اور یہ کہ تم میری حفاظت کرؤ،میرے اہل بیت کے معاملے اور میری وجہ سے ان سے محبت کرو۔(درمنشور)ہم نے تجربہ کیا ہے کہ جس کا ایمان تابناک ہے وہ اہل بیت اور اور سادات سے محبت کرتا ہے ،اور جس کا دل تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے وہ ان سے بغض اورنفرت کرتا ہے ۔حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺنے حسنین کریمین(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کے ہاتھ پکڑ کر فرمایا،جس نے مجھ کومحبوب رکھا اور ان دونوں(حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم)اور ان کے باپ (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)اور ان کی ماں(فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کو محبوب رکھا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔جس نے حسن حسین(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کو محبوب رکھا اس نے درحقیقت مجھے محبوب رکھا،اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھا۔(ابن ماجہ،ص۶۴۔مستدرک حاکم،ج۳،ص۱۶۶ )
بچے جو اب کے برس ہم ہے اور یہ دن ہے۔ جو چل بسے تو ہمارا سلام آخر ہے 
حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی حضرت امالفضل بنت الحارث حضرت عباس بن عبدالمطب(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)زوجہ ایک روزحضور انور علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمآج میں نے ایک پریشان خواب دیکھا ،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نے دریافت فرمایا؛کیا!عرض کیا:وہ بہت ہی شدید ہے ،ان کو اس خواب کے بیان کی جرات نہ ہوتی تھی،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ میں نے دیکھاکہ جسد اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹا گیا اور میری گود میں رکھا گیا۔ارشاد فرمایا:تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ،ان شاء اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹا ہو گا اور وہ تمھاری گود میں دیا جائے گا۔ایسا ہی ہوا،حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)پیدا ہوئے اور ام حضرت ام الفضل کی گود میں دئیے گئے،ام الفضل فرماتی ہیں:میں نے ایک حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کرحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی گود میں دیا،کیا دیکھتی ہوں کی چشم مبارک سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہیں۔میں نے عرض کی :یا نبی اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
میرے ماں باپ حضور پر قربان!یہ کیا حال ہے؟فرمایا:جبریل علیہ السلام میرئے پاس آئے اور انھوں نے یہ خبر فرمائی کہ میری امت اس فرزند کو قتل کرے گی۔میں نے کہا :کیا اس کو؟فرمایا:ہاں اور میرے پاس اس کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے۔
حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی ولادت کی ساتھ ہی آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شہادت کی خبر مشہور ہو چکی،شیرخوارگی کے ایام میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ام الفضل کو آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی شہادت کی خبر دی ،خاتون جنت (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )نے اپنے اس نونہال کو زمین کربلا میں خون بہانے کے لیے اپنا خون جگر(دودھ)پلایا،علی مرتضی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اپنے دل بند جگر پیوند کو خاک کربلا میں لوٹنے اور دم توڑنے کے لیے سینے سے لگا کر پالا،مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیابان میں سوکھا حلق کٹوانے اور راہ خدا عزوجل میں مردانہ وار جان نذر کرنے کے لیے امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو اپنی آغوش رحمت میں تربیت فرمایا،یہ آغوش کرامت و رحمت فردوسی چمنستانوں اورجنتی ایوانوں سے کہیں زیادہ بالا مرتبت ہے،اس کے رتبہ کی کیا نہایت جو اس گود میں پرورش پائے اس کی عزت کا کیا اندازہ۔اس وقت کا تصور دل لرزا دیتا ہے ،جب کہ اس فرزندارجمند رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی ولادت کی مسرت کے ساتھ ساتھ شہادت کی خبر پہنچی ہوگی،سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چشمہ رحمت چشم نے اشکوں کے موتی برسا دئیے ہوں گے،اس خبر نے صحابہ کبار جاں نثار اہل بیت (رضی ا للہ تعالیٰ عنہم)کے دل کرہلا دئیے۔اس درد کی لذت علی المرتضی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے دل سے پوچھئے،صدق و صفاکی امتحان گاہ میں سنت خلیل علیہ السلام ادا کر رہے ہیں۔حضرت خاتون جنت (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کی خاک زیر قدم پاک پر قربان!جس کے دل کا ٹکڑا نازنین لاڈلہ سینے سے لگا ہوا ہے،محبت کی نگاہوں سے اس نور کے پتلے کو دیکھتی ہے،وہ اپنے سرور آفریں تبسم سے دلر بائی کرتا ہے ،ہمک ہمک کر محبت کے سمندرمیں تلاتم پیدا کرتا ہے،ماں کی گود میں کھیل کر شفقت مادری کے جوش کو اور زیادہ موجزن کرتا ہے ،میٹھی میٹھی نگاہوں اور پیاری پیاری باتوں سے دل لبھاتا ہے عین اس حالت میں کربلا کا نقشہ آپ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔جہاں یہ چہیتا،نازوں کا پالا،بھوکا پیاسا ،بیابان میں بے رحمی کے ساتھ شہید ہو رہا ہے،نہ علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ ہیں نہ حسن مجتبی،عزیز واقارب ،برادرو فرزند قربان ہو چکے ہیں،تنہایہ نازنین ہیں،تیروں کی بارش سے نوری جسم لہولہان ہو رہا ہے ،خیمے والوں کی بے بسی اپنی انکھوں سے دیکھتا ہے ،اور راہ خدا عزوجل میں مردانہ وار جان نثار کرتا ہے ۔کربلا کی زمین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پھول سے رنگین ہو تی ہے ،وہ شمیم پاک جو حبیب خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پیاری تھی کوفہ کے جنگل کو عطر بیزکرتی ہے،خاتون جنت (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)کی نظر کے سامنے یہ نقشہ پھر رہا ہے،اور فرزند سینہ سے لپٹ رہا ہے۔حضرت حاجرہ علیہا السلام اس منظر کو دیکھیں۔دیکھنا تو یہ ہے کی اس فرزند ارجمند کے جدکریم حبیب خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں،حضرت حق تبارک و تعالی ٰ ان کا رضا جو ہے ،بروبحرمیں ان کا حکم نافذ ہے ،شجرو حجر سلام عرض کرتے ہیں اور مطیع فرمان ہے،چاند اشاروں پر چلا کرتا ہے ،ڈوبا ہوا سورج پلٹ آتا ہے،بدر میں ملائکہ لشکر ی بن کر حاضر ہوتے ہیں کونین کے زرہ زرہ پر بہ حکم الہی عزوجل حکومت ہے ،اولین و آخرین سب کی عقدہ کشائی اشارہ چشم پر موقوف ومنحصر ہے،ان کے غلاموں کے صدقے میں خلق کے کام بنتے ہیں،مددیں ہوتی ہیں،روزی ملتی ہے،باوجود اسکے اس فرزند ارجمند کی خبر شہادت پر کر چشم مبارک سے اشک تو جاری ہوجاتے ہیں،مگر مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاتے،بارگاہ الہی عزوجل میں امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے امن و سلامت اور اس حادثے ہائلہ سے محفوظ رہنے اور دشمنوں کے برباد ہونے کی دعا نہیں فرماتے،نہ ہی علی مرتضی (رضی اللہ تعالی ٰ عنہ)عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ !عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
اس خبر نے تو دل و جگر پارہ پارہ کر دئیے،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قربان!بارگاہ حق میں اپنے اس فرزند کے لیے دعا فرمائیں۔نہ خاتون جنت(رضی اللہ تعالیٰ عنہم )التجاہ کرتی ہیں کہ اے سلطان دارین!آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فیض سے عالم فیض یاب ہے ،اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعامستجاب۔میرے اس لاڈے کی لیے دعا فرما دیجئے،نہ اہل بیت ،نہ ازواج مطہرات،نہ صحابہ کرام (علیہم رضوان۔سب خبرشہادت سنتے ہیں مگر بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں کیسی طرف سے دعا کی درخواست پیش نہیں ہوتی۔بات یہ ہے کہ مقام امتحان میں ثابت قدمی درکا ر ہے ،یہ محل عذر وتامل نہیں،ایسے موقع پر جان سے دریغ جانباز مردوں کا شیوہ نہیں،اخلاص سے جان نثاری عین تمنا ہے ،دعائیں کی گئی مگر یہ کہ یہ فرزند مقام صفاووفا میں ثابت قدم ہو۔توفیق الہی عزوجل مساعد رہے،مصائب کا ہجوم اور آلام کا انبوہ اس کے قدم کو پیچھے نہ ہٹا سکے۔ حضور نبی کریم نے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نے اپنے بعد قائم ہونے والے دورہ حکومت کی پہلے ہی نشاند دہی فرما دے تھی ۔حضرت سفینہ (رضی اللہ تعالی عنہ)روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہو گی(جامع الترمذی) راہ خدا عزوجل میں ہمارے اسلاف کرام اور بزرگان دین(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کی پیش کردہ قربانیوں کے سبب ہی آج دین اسلام کا یہ چمنستان سرسبزوشاداب ہے،ان نفوس قدسیہ کو پیش آنے والے مصائب وآلام کا تذکرہ بڑادل سوزجاں گدازہے،بالخصوس میدان کربلا میں اہل بیت اطہار(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)نے جو مصیبتیں جھیلیں ان کا توتصور ہی دل ہلادیتا ہے، جفا کاروستم شعارکوفیوں نے جس بے مروتیاور بے دینی کا مظاہرہ کیا تاریخ میں اس کی مشال نہیں ملتی۔خود ہی حضرت اما م حسین(رضی اللہ تعالیؒ عنہ)کو صدہا درخواستیں بھیج کر کوفے آنے کی دعوت دی ،
صغری نے کہا کیوں اے بابا بیمار کو تنہا چھوڑ چلے۔اکبر کو لیا قاسم کو لیا اور ہم کو تڑپتا چھوڑ چلے 
جس دن سے گئے ہواے باباہر سمت اداسی چھائی ہے۔ہر شخص تڑپ کر کہتا ہے شبیر مدینہ چھوڑ چلے
تنہا وہ چلے رن کی جانب عان نے کہا وہ بیماری میں۔زہراہ کے پسر جان حیدردنیا میں اکیلاچھوڑ چلے
کس طرح سے دل کو صبر آئے کس طرح سے کوئی سمجھائے۔رو رو کے زینب کہتی تھی معصوم کو پیاسا چھوڑ چلے 
اورجب آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے ان کی زمین کو شرف قدم بوسی عطا فرمایاتو بجائے استقبال کرنے کے وہ آپ کے خون کے پیاسے ہو گئے،مسلح لشکر لیکر آپ کے سدراہ ہوئے نہ شہر میں داخل ہونے دیانہ ہی وطن واپس لوٹ جانے پر راضی ہوئے،حسینی قافلہ کو ریگزار کربلا میں اقامت پذیر ہونا پڑا،کور باطنوں نے فرات کا آب رواں خاندان رسالت پر بند کردیا۔اہل بیت کے ننھے ننھے حقیقی مدنی منے تشنہ لب ایک ایک قطرہ کے لیے تڑپ رہے تھے،چھوٹے چھوٹے بچے اور باپردہ بیبیاں سب بھوک و پیا س سے بیتاب وناتواں ہو گئے تھے۔تیز دھوپ ،گرم ریت ،گرم ہوائیں،اور بے وطنی کا احساس الگ دامن گیر ہے۔ادھر بائیس ہزار کا لشکرجرار تیغ وسنانسے مسلح درپئے آزاد اور اپنے ہنر آزمانے کا طلب گار ہے مگر بھوک پیاس کی شدت کے باوجودفرزندان آل
رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحابی رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایسی بہادری اور جواں مردی کا مظاہرہ کیا کہ اعداانگشت بدنداں رہ گئے،کئی کئی یزیدیوں کو ہلاک کرنے کے بعدخاندان حضرت امام (ورضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے نونہال دادشہادت دیتے یکے بعد دیگرے شہادت سے سرفراز ہوتے گئے۔عزیز واقارب،دوست احباب،خدام وموالی،دلبندوجگر پیوندسب نے آئین وفاادا کر کے حضرت امام (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)پر اپنی جانیں فدا کر دیں اور اب سیدانبیا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور نظر،فاطمہ زہرا(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کا لخت جگربے کسی و بھوک پیاس کی حالت میںآل واصحاب کی مفارقت کا زخم دل میں لئے ہوئے شمشیر بکف ہو گیا اور اس کما ل مہارت وہنرمندی سے مقابلا کیا کہ بڑے بڑے ناموران صف شکن کے خون سے کربلا کے تشنہ ریگستان کو سیراب فرمادیااور نعشوں کے انبا ر لگا دئیے،ناموران کوفہ کی جماعتیں ایک حجازی جوان کے ہاتھ سے جان نہ بچا سکیں،بلاآخر تیراندازوں کی جماعتیں ہر طرف سے گھر آئیں امام تشنہ کام کو گرداب بلا میں گھیر کر تیر برسانہ شروع کر دئیے ،تیروں کی بوچھاڑمیں نورانی جسم زخموں سے چکنا چور اور لہولہان ہو گیا ،ایک تیر پیشانی اقدس پر لگااور آپ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے،ظالموں نے نیزوں پررکھ لیا اور آپ شربت شہادت سے سیراب ہو گئے۔
دین کے نام زندگی میرے حسین کر گئے۔خون سے اپنی روشنی میرے حسین کر گئے
دیپ وفا کے جل اٹھے صبر کی آبرو رہی۔ایسی جہاں میں بندگی میرے حسین کر گئے
فصل بہار تھی عجب یاد ہے سب کو آج تک۔آب بنا جو تازگی میرے حسین کر گئے
حق کا نصاب کب بھلا شمر ویزیدسے مٹا۔ریت پہ داستاں نئی میرے حسین کر گئے
قریہ قریہ کو بہ کو جادہ بہ جادہ سو بہ سو۔گوشہ بہ گو شہ چاندنی میرے حسین کر گئے
اشک فشاں ہے اس لیے چشم اجاگر حزیں۔خستہ بسر جو زندگی میرے حسین کر گئے
اس معرکہ ظلم و ستم میں اگر رستم بھی ہوتاتو اس کے حوصلے پشت ہو جاتے اور سر نیاز جھکا دیتا،مگر فرزندوصحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمکو مصائب کا ہجوم اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکااور ان کے عزم و استقلال میں فرق نہ آیا ،حق و صداقت کا حامی مصیبتوں کی بھیانک گھٹاؤں سے نہ ڈرااور طوفان بلا کے سیلاب سے اس کے پائے ثبات میں جنبش بھی نہ ہوئی۔راہ حق میں پہنچنے والی مصیبتوں کا خوش دلی سے خیر مقدم کیا،اپنا گھر لٹانا اور اپنے خون بہانا منظور کیا،مگر اسلام کی عزت میں فرق آنا برداشت نہ ہوسکا۔سروتن کو خاک میں ملا کر اپنے جد کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی حقانیت کی عملی شہادت دی اور ریگستان کوفہ کے ورق پر صداق و امانت پر جان قربان کرنے کے نقوش ثبت فرمائے۔
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے جان عالم ہو فدا اے خاندان اہل بیت 

0 comments

Write Down Your Responses