محرم الحرام کو راولپنڈی میں ہونے والے سانحات اور انکے رد عمل نے ملک بھر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی

بہاول پور (ڈپٹی انچارج انویسٹی گیشن ) پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں سہیل کامران ایڈوکیٹ،محمد صدیق جان اور ڈاکٹر عامر چوہدری نے کہا ہے کہ 10محرم الحرام کو راولپنڈی میں ہونے والے سانحات اور انکے رد عمل نے ملک بھر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے۔ان افسوسناک سانحات سے واضح ہو جاتا ہے کہ وطن عزیز کس خطر ناک حد تک فرقہ واریت اور عدم برداشت کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔اس عوام دشمن نظام انتخاب اور نا اہل سیاستدانوں نے اپنی حکومتیں بچانے اور اقتدار کو طول دینے کیلئے پاکستان کو گروہ در گروہ بانٹ دیا ہے۔فرقہ واریت کی سرکاری سرپرستی ہوئی تو لسانی و علاقائی گروہ بھی مضبوط ہو گئے۔آج صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ پورا ملک ذات،برادری ،علاقے و مسلک میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔معاشی عدم استحکام،بیروزگاری،اور عدم تحفظ اپنی جگہ لیکن اس ظالمانہ عوام دشمن نظام کی وجہ سے ملک کی 80فی صد آبادی میٹرک سے آگے تعلیم سے معذور دکھائی دیتی ہے۔فرقہ ورانہ فسادات میں لاکھوں لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔کوئی ایسا حکمران اور سیاستدان نہیں جس پر بد عنوانی کا الزام نہ ہو۔جب تک ہم فرقہ وارانہ سیاست اور مذہبی منافرت میں پھنسیں رہیں گے ،ذلت و رسوائی اور شکست ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔جی ایم ملک نے کہا کہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن ملک میں حقیقی خوشحالی اورسچی جمہوریت کیلئے کوشاں ہے اس لئے ایک کروڑ ووٹرز نہیں بلکہ خدا کے حضور جھکنے والے نمازیوں کی جماعت کھڑی ہو گی جس سے حقیقی تبدیلی اور ملکی خوشحالی کا آغاز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ راولپنڈی جسے عام طور پر فوجیوں کا شہر کہا جاتا ہے کو کرفیو کا سامنا کرنا پڑا،مسئلہ صرف راولپنڈی کا نہیں بلکہ ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ خامیوں سے پْر سیکیورٹی انتظامات ،ناقص ترین منصوبہ بندیاں ،نام نہاد جمہوری حکومت کیلئے مقام افسوس ہے کہ اس اہم ترین موقع کی مناسبت سے بھی نگرانی اور نگہداشت میں کسر رہ گئی اور حالات وہاں تک پہنچ گئے جہاں تک پہنچنے سے بچانے کیلئے ہی تو سب کچھ کیا گیا تھا۔ یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ہوا،ہر سانحہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔قوم روتی دھوتی ہے،تعزیت اور افسوس کرنے والوں میں سب ہی شامل ہو نا چاہتے ہیں لیکن پھر اس کے بعد ان ہی بہرے،اندھے اور گونگوں کی حکمرانی ہوتی ہے۔ سیاسی و معاشی سانحات کی تو قوم عادی ہو چکی ہے ،دہشت گردی کی کارروائیاں بھی کئی سال سے تسلسل سے جاری ہیں لیکن مذہبی طور پر متبرک قرار پانے والے ایام میں خون مسلم کی ارزانی تو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔المیہ در المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران کسی بھی سانحہ کی وجوہات سے صرف نظر کر کے اسے ملک دشمنوں کی سازش قرار دینے کے عارضے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔حکمران ایک المیے سے دوسرے المیے تک ریت میں منہ دئیے بیٹھے رہتے ہیں۔

0 comments

Write Down Your Responses