ملاوٹ کہاں نہیں ہے


(تحریر : ( مریم ثمر 

عموما ہمارے معاشرے میں یہ تصور پا یا جاتا ہے کہ صرف دودھ میں پانی ملا دینا ہی ملاوٹ ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو دھوکہ،آمیزش ،کھوٹ ،سازش ،یہ تمام الفاظ ہی ملاوٹ کے زمرے میں آتے ہیں ۔اب ان تمام معانی کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالیں ،اور خود فیصلہ کریں کہ کہاں ،کہاں ملاوٹ نہیں ہو رہی ۔معاشی معاشرتی سیاسی اور یہاں تک کہ مذہب میں بھی ملاوٹ کی آمیزش کی جارہی ہے ۔
محمد مصطفی ،احمد مجتبی خاتم النیبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہترین اسلامی طرز زندگی گزارنے اور ایک سچا اور اچھا مسلمان بننے کے لئے ہماری بہت سے معاملات میں راہنمائی فرمائی ہے ۔اسی سلسلے میں آپ کی ایک حدیث صحیح مسلم میں درج ہے ۔پیارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔مَن غش فلیس منی یعنی جس نے ملاوٹ کی (دھوکہ دیا ) وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ 
ہمارے ہاں اکثر ایک نعرۂ مستانہ بلند کیا جاتا ہے کہ اسلام اور حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔۔ ۔ٹھیک ہے اتنی دین اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غیرت و حمیت ہونی چاہیے اور یہ ایمان کا بھی تقاضا ہے ۔لیکن آپ یہ بھی تو سوچیں کہ اللہ تعالی ٰ نے خالی خولی آپ کی جان لے کر کیا کرنا ہے جب تک کہ آپ کے اعمال اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نہ ہوں۔
ہماری غیرت ایمانی اور اسلام سے والہانہ محبت اس وقت کہاں سو جاتی ہے جب ہم مرغیوں کی آنتوں اور دیگر غلاظتوں کو ملا کر کھانا بنانے کا تیل بنا رہے رہے ہوتے ہیں ۔جب ہم پانی کا پریشر ڈال کر انتہائی مضر صحت گوشت بیچ رہے ہوتے ہیں۔جب گدھے اورکوے کا گوشت بھی حلال قرار پاتا ہے ۔جب مٹھائی کی دکانیں تو خوب سجی ہوتی ہیں مگر اس کو گلے سڑے اور باسی مکھن اوراور مکھیوں کی گندگی اور غلاظت سے بھر پور تیار کیا جاتا ہے ۔جب مرچ مصالحوں کو لکڑی کے برادے اور خطرناک رنگوں میں ملایا جاتا ہے اور اگر اسی دوران چوہے اور کاکروچ ان مصالحوں پر چہل قدمی اور بھاگ دوڑ کریں تو وہ اوربھی سونے پر سہاگہ ہے ۔
یہ کھانے پینے میں ہونے والی ملاوٹ کی صرف چند ایک مثالیں ہیں ۔آچار ، جیم ،جوس،محلوں میں بکنے والی ٹافیاں بسکٹ وغیرہ تیار کرنے کا طریقہ کار اور فارمولا بھی مزکورہ بالا طریقوں سے کچھ کم مختلف نہیں ہے ۔حیرت ہوتی ہے کہ اس قدر گند اور غلاظت سے بھر پور طریقے سے تیار کی گئی چیزیں کس قدر خوبصورتی اور صفائی سے سجی ملتی ہیں ۔یوںیہ نہ صرف ملاوٹ کرتے ہیں بلکہ دھوکہ بھی دیتے ہیں ۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واضح فرمان کو نہ ماننے کی ایک اور مثال ہمیں اپنے سرکاری اداروں اور محکموں میں بھی نظر آتی ہے ۔یاد رہے کہ ملاوٹ کا ایک مفہوم دھوکہ دینا بھی ہے ۔اب اس مفہوم کو ذہن میں رکھیں اور ان دفتروں اور تمام کام کرنے والے اداروں کا ایک چکر لگائیں ۔آپ کو شاذو نادر کے طور پر ہی کوئی افسر اپنے فرائض کو کماحقہ ادا کرتا ہوا نظر آئے گا ۔
ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ کسی نہ کسی ادارے سے دھوکہ دہی کا کوئی نہ کوئی سکینڈل سامنے آجاتا ہے ۔قابل افسوس اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ یہ فراڈ کبھی حج کے مقدس اور بابرکت نام پر کیا گیا تو کبھی اسلامی مضاربت کے نام پر ۔اس قدر کھم کھلا دھوکہ دہی پر کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی روح تڑپی نہ ہو گی ۔کیا اس عمل سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے ہوں گے ۔۔؟؟ یقیناًنہیں اور ہر گز نہیں اس لئے کہ یہ اسلام کی تعلیم کے سراسر منافی ہے ۔
کیا اس پر کسی مولوی کی دلاآزاری نہیں ہوئی ۔بات بات پر قتل کے فتوے صادر کرنے والے علما کیو ں چپ رہے ۔ابھی حال ہی میں مولانا فضل الرحمان صاحب سے صحافیوں نے جب حکیم اللہ مسعود کی شہادت سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایک کتے کو بھی مارے تو ہم اس کو شہید کہیں گے ۔ الامان الحفیظ ۔ یہی مولانا صاحب جب امریکیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں تو کیا تب مولانا صاحب غازی کہلاتے ہیں ۔؟؟
کس قدر دھوکے بازی میں مبتلا کر رکھا ہے پوری قوم کو ۔اب کسی کو ان کے خلاف کھل کر بولنے کی جرات ہو گی ۔کیا ان کے اس بیان پر کوئی فتوی آئے گا ۔ زرا غور فرمائیں اگر یہ ہی الفاظ کسی غیر مسلم کے منہ سے نکلے ہوتے تو اب تک اس پر58-2B کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہوتا ۔کئی جلسے جلوس اور احتجاج کی تحریکوں کی کال دی جا چکی ہوتی ۔حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس قسم کا اسلام اور کس قسم کے نظریات پیش کرنے کی ہمت اور جرات پیدا کر لیتے ہیں ۔
افسوس ۔دکھ تکلیف اور قابل رحم حالت اس وقت یہ ہے کہ ہم مذہب میں بھی ملاوٹ کر چکے ہیں ۔جس بھی فرقے کے نظریات کسی دوسرے فرقے سے ٹکراتے ہیں تو ہماری قوت برداشت اور حوصلے کی تمام حدیں ٹوٹ جاتی ہیں ۔ہم اس کو کافر قرار دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں ۔مرنے مارنے پر تو اس طرح تیار ہو جاتے ہیں کہ جیسے یہ ہمارا اولین فرض اور مذہبی فریضہ ہے ۔
۔ مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہو اہے ۔سرکار اپنی بے حسی اور رشوتوں سے کامیاب حکومت چلا رہی ہے ۔ یوں سیاست بھی ملاوٹ سے خالی نہیں ہے ۔اگر سازشیں دھوکہ دہی اور نیتوں میں کھوٹ نہ ہوتا تو آج پاکستان ترقی کی شاراہوں پر گامزن ہوتا ۔جب ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ا س ایک فرمان پر بھی عمل نہیں کر سکتے تو پھر کس طرح پیارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اور عاشق رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ اپنی اعمال درست سمت میں رکھیں اور دوسروں پر دروغہ بننے کی کوشش نہ کریں ۔کہ اسی میں ہماری نجات ہے ۔

0 comments

Write Down Your Responses