امریکی جنگ میں شامل ہونا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی ،عمران خان

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی جنگ میں شامل ہونا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی لیکن افسوس ہے کہ امن مذاکرات کی بات کرنے والوں کو دہشت گردوں کا ایجنٹ کہا جارہا ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکی جنگ میں شامل ہوکر ہم نے بہت بڑی غلطی کی اب اس سے نکلنے کے لئے ہمیں متحد ہوکر سوچنا ہوگا، قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی تعیناتی سے ہم ایک ماہ میں 90 ارب روپے خرچ کرتے ہیں وہ بھی اس جنگ کے لئے جو ہماری نہیں، یہ رقم تعلیم اور صحت پر خرچ ہونی چاہئے تھی ، ہم پر قرضے کا حجم 1500 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے ، بجلی کی نئی قیمتوں پر عوام کبھی بھی سڑکوں پر آسکتے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں امن کی ضرورت ہے لیکن انہیں افسوس ہے کہ امن مذاکرات کی بات کرنے والوں کو دہشت گردوں کا ایجنٹ کہا جارہا ہے، جس طرح امن کی آشا کی بات کرنے والے نریندر مودی کے ایجنٹ نہیں اسی طرح طالبان سے امن مذاکرات  کی بات کرنے والے دراصل پاکستان کی بھلائی کی بات کرتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے مشکل وقت ہے، ہم نے اختلافات کے باوجود حکومت کی حمایت کی، اگر حکیم اللہ کو ایک امریکی فوجی ہلاک کرنے پر مارا گیا تو ملا عمر کے حکم پر سب سے زیادہ امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا اس کے باوجود امریکا اس سے مذاکرات کیوں کررہا ہے، جب امریکا نے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرکے مذاکراتی عمل کو قتل کیا تو انہیں امید تھی کہ ہم متحد ہوکر ایسا سخت ردعمل دیں گے کہ امریکا کو اپنی غلطی ماننی پڑے گی اور ڈرون حملے بند کرنا پڑیں گے لیکن انہیں افسوس ہے کہ ہم متحد نہ ہوسکے اور ڈرون حملوں پر آپس میں ہی بٹ گئے،  جو قوم اپنے لوگوں کی عزت نہیں کرتی دنیا بھی ان کی عزت نہیں کرتی۔

0 comments

Write Down Your Responses