انٹر نیٹ سہولت یا بے راہ روی، شریعت کے آئینے میں


تحریر : امیر افضل اعوان
( حصہ دوم، گذشتہ سے پیوستہ)
موجودہ جدید دور میں الیکٹرانک میڈیا ، خصوصی طور پر انٹر نیٹ کا عام اور آزادانہ استعمال مسلم امہ کیلئے بالعموم اور نوجوان نسل کیلئے بالخصوص بہت ہی ہلاکت خیز فتنہ بنا ہوا ہے، یہودی و نصاریٰ مسلمانوں کی صفوں میں بگاڑ اور انتشارکا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ امت مسلمہ میں جس قدر بھی اخلاقی، معاشرتی و مذہبی گرانی پیدا کی جاسکے اس کو مزید وسعت دینے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر کام ہورہا ہے،اس حوالہ سے عورت کو جنس محالف ہونے کی وجہ سے خاص طور پر آگے بڑھایا جاتا ہے ، یہود و نصاریٰ کی یہ چال اتنی کامیاب ہوگئی ہے کہ اب مسلمان ممالک کے میڈیا پر بھی ان کا بھرپور قبضہ ہے اور یہا ں بھی عورت کی زینت کو اشتہار بنا کر پیش کیا جارہا ہے ، یہاں تک کہ سگریٹ اورشیونگ بلیڈ، ریزر اور خاص مردوں کے استعمال والی اشیاء میں بھی عورت کو ہی نمایاں کر کے پیش کرنے کا چلن عام ہوچکا ہے، ذرائع ابلاغ کی جدید سہولت یہودیوں ، ہندوؤں اور دشمنان اسلام کے زیر تسلط ہے اسی لئے تو عالم کفر کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے امت مسلمہ کا کردار داغ دار کر کے انہیں گمراہی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے، یعنی یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان فحاشی کے کاموں کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور ان کی زد کہاں کہاں تک پہنچتی ہے۔ کس طرح چند لوگوں کی فحاشی سے یا فحاشی کی افواہیں پھیلانے سے پوری قوم کا اخلاق تباہ و برباد ہوتا ہے بدکار لوگوں کو بدکاری کے نئے نئے مراکز کیسے مہیا ہوتے ہیں۔ نیز نئی نسل کے ذہنوں میں جب ابتداًء فحاشی بھر دی جائے تو پوری قوم کس طرح اللہ اور روز آخرت سے غافل ہو کر اللہ کی نافرمان بن جاتی ہے۔ 
دشمنان اسلام کے ہاتھ انٹرنیٹ کی شکل میں ایک ایسا موقع اور ذریعہ آگیا ہے کہ جس کو استعمال میں لاکر وہ مسلمانوں کی صفوں میں فحاشی و عریانی پھیلاکر انہیں اخلاقی طور پر بتاہ کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج مردوعورت کے درمیان وہ فاصلہ نظر آرہا جس کا حکم اسلام دیتا ہے اور جو درحقیقت عورت کا اصل محافظ ہے ، یہودو ہنود نے انٹر نیٹ پر فحاشی کی انتہا کردی ، یہاں بے پناہ ایسی سایٹس موجود ہیں کہ جن پر جاکر نوخیزمسلم ذہن شیطان کے آلہ بن کر اپنی اصل سے ہٹتے جارہے ہیں یعنی بے حیائی کے پھیلانے کی ایسی کوششوں کے اثرات کہاں تک پہنچ رہے ہیں، اور کیا کیا گل کھلاتے ہیں، اور ان سے کون کونسے لوگ متاثر ہوتے ہیں، اور کس حد تک اور کس قدر متاثر ہوتے ہیں
دور حاضر میں انٹر نیٹ کا فتنہ اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ بچے ، بوڑھے ، نوجوان مرد اور خواتین اس شیطانی جال میں پھنس رہے ہیں، یہاں تک کی تعلیمی مقاصد کے لئے نیٹ استعمال کرنے والے بھی اس مرض بد سے محفوظ نہیں، نیٹ پر صریحاً فحاشی کے علاوہ بھی اس کی متعدد اقسام مو جود ہیں جن میں مختلف ڈیٹنگ اور فرینڈشب سایٹس نمایاں کردار ادا کرتی ہیں، انتہائی افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس بے راہ روی میں اچھے اچھے گھرانوں کے بچے، بچیاں ، بہو بیٹیاں یہاں تک کہ معمر افراد بھی اس سے محفوظ نہیں، ا س کی مثال لاہور میں ہونے والا ایک ایسا واقعہ ہے جو کہ ہر انسان کے لئے سوچوں کے نئے در واء کرتا ہے کہ وہاں مقیم ایک عمر رسیدہ خاتون جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا اور اس کا ایک بیٹا بیرون ملک مقیم ہے جبکہ دوسرا بیٹا سارا دن کاروبار میں مصروف رہتا ہے جبکہ وہ خاتون سارا دن گھر میں شوہر کی موت میں سوگوار رہتی اس اداسی کو دور کرنے کیلئے اس کا بیٹا گھر میں کمپیوٹر لے آیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ماں بیرون ملک بیٹھے اپنے بیٹے سے فارغ اوقات میں ویڈیو کال کے ذریعے بات بھی کر سکے اور اس کی تصویر بھی دیکھ سکے ۔
گھر میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر بظاہر توبیٹے نے یہ سب کچھ اپنی ماں کی اداسی کو دور کرنے کیلئے کیا تھا ، ابتدائی طور پر تو ماں ، بیٹے کی بات چیت ہوتی رہی لیکن جب اس کی ماں کمپیوٹر چلانے کی ماہر ہو گئی تو ایک دن وہ ایک فرینڈشپ سائیٹ کے چیٹ روم میں جا گھسی جہاں اس کا ایک وکیل کے ساتھ رابطہ ہو گیا جس نے اس خاتون کی تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اپنے جال میں پھنسا لیا کیونکہ وہ خاتون ایک امیر عورت تھی، کچھ دن کمپیوٹر پر رابطے کے بعد اس خاتون نے گھر سے باہر بھی وکیل سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں کے تعلقات اتنے مضبوط ہوگئے کہ آخر کار انہوں نے شادی رچا لی، اس دوران خاتون نے اپنے مرحوم خاوند کی دو فیکٹریاں ، پلاٹ اور کوٹھی بیٹوں کو مجبور کر کے اپنے نام کرا لی اور گاڑی بھی اپنے لئے مخصوص کر لی اس دوران اس خاتون نے اپنے نیٹ فرینڈ کو بھی نئی گاڑی خرید کر تحفہ میں دے دی ، غرض یہ کہ جب سب کچھ اس عورت نے اپنے نام کرا لیا تو ایک دن وہ وکیل کو لے کر گھر آئی اور اپنے بیٹے کو بتایا کہ یہ میرا خاوند ہے ، ہم دونوں نے شادی کر لی ہے جس پر اس کا بیٹا ہکا بکا رہ گیا اور اس نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنے بڑے بھائی کو بیرون ملک اس سانحہ کی اطلاع دی۔
انٹر نیٹ کے ذریعے پھیلائے جانے والے جال کی مضبوطی کا اندازہ لگائیے کہ ایک 55 سالہ دادی اماں ایک جہاندیدہ اور سنجیدہ ہونے کے باوجود شیطان کے بہکاوے میں آ ہی گئی، آج انٹر نیٹ کے غلط استعمال کا مسئلہ ہر تیسرے گھر کو درپیش ہے اور اسلامی ، تہذیبی ، تمدنی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی بنیادوں کو یہ فتنہ جڑ سمیت اکھاڑ رہا ہے کتنے ہی سنجیدہ اور کلیدی پوسٹوں پر فائز لوگ بھی اس کی آگ سے اپنے دامن کو جھلسنے سے نہیں بچا سکے یہ لوگ سوائے اپنے آپ کو دھوکا دینے اور روز بروز خسارے میں ، آگ میں اور آزمائش کے عذاب میں دھنسنے کے کچھ نہیں کر رہے حیا باختگی کی اس پر فریب وادی میں جانے والا راہ راست پر مشکل سے ہی واپس آتا ہے ، اسلام میں عورت کامرد کے ساتھ اور مرد کا عورت کے ساتھ رابطہ خواہ بالمشافہ ہو ، ٹیلی فون پر ہو یا انٹر نیٹ پر قوانین حجاب کی زد میں آئے گا یہ اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت ہو گی جو صرف بدنامیوں اور رسوائیوں کا باعث بنے گی ۔
انٹر نیٹ کی اہمیت و افادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں اگر اس کا مثبت استعمال کیاجائے ، بلاشبہ جو اسلامی ، تعلیمی ، معاشرتی واخلاقی معلومات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں اور ان کی آسان رسائی یہاں ممکن ہے یہ سہولت کہیں اور میسر نہیں آتی اور اگران معلومات کو کتب میں تلاش کیاجائے تو اس کے لئے بہت ذیادہ وقت درکار ہوگا ہوسکتا ہے کہ بھر بھی آپ اتنی جامع معلومات حاصل کرنے سے محروم رہیں کیوں کہ نہ تو تمام کتب آپ کو دستیاب ہوسکتی ہیں اور نہ ہی ان کا مطالعہ کرکے مطلوبہ معلومات تک آپ کی آسان رسائی ممکن ہوسکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت محمدی اپنی اہمیت کو پہچانیں اور خلاف مذہب اقدامات سے دور رہ کر یہودو نصریٰ کی سازشوں کو ناکام بنادیں، یہاں حکومت کو بھی چاہئے کہ ملک میں تمام غیر اخلاقی اور شعار اسلام کے خلاف نیٹ پر موجود تما م سایٹس کو بلاک کردے تاکہ نسل نو کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے ورنہ دنیا کی ذلت و رسوائی تو مقدر بنے گی ہی مگر روز آخرت بھی ہم اپنے خالق و مالک کے سامنے شرمندگی اور پچھتاواہی دامن گیر رہے گا۔

0 comments

Write Down Your Responses