حکومت بجلی کی پیداوارمیں اضافے کے بجائے اس کی قیمتوں اورلوڈ شیڈنگ میں اضافہ کررہی ہے: ناہید حسین

کراچی ( پ،ر )اربن ڈیمو کریٹک فرنٹ کے بانی و چیئرمین ناہید حسین نے کہاہے کہ عوام پر لوڈ شیڈنگ کی بجلی گررہی ہے اور بجلی کا بحران ہنوز موجود ہے اورحکومت بجلی کی پیداوارمیں اضافے کے بجائے اس کی قیمتوں اورلوڈ شیڈنگ میں اضافہ کررہی ہے جس کے باعث مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے غریب عوام پر مزید بوجھ لاداجارہاہے ان خیالات کا اظہارانہوں نے طارق روڈ کے دکانداروں کے ایک وفد سے گفتگوکے دوران کیاوفد میں شامل منصور علی ،عبدالواحد،محمد اکرم،چاند نواب،محمدعلی،ندیم،اختر رضوی اور فراز کمپیوٹر والابھی شامل تھے۔ناہید حسین نے مزیدکہاکہ عوام نئی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے مگر بجلی لوڈ شیڈنگ نے ان کا جینا دوبھرکردیاموجودہ حکومت متعددباریہ کہہ چکی ہے کہ وہ عوام کوغربت،بے روزگاری اورلوڈ شیڈنگ سے نجات دلائینگے مگر افسوس ناک امریہ ہے کہ حکومت کے اقدامات عوامی مسائل میں کمی کے دعووں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں عوام کومہنگائی کے بدترین طوفان سے بچانے کے دعوے کرنے والوں نے پیٹرولیم مصنوعات میں بے تحاشہ اضافہ پیٹرول کے ساتھ ساتھ گیس اوربجلی کے نرخوں میں بھی بے پناہ اضافہ کیااس تمام تراضافے کے باعث صنعتی شعبے بے حال ہوگئے ہیں صنعتی پیداوارکی لاگت میں بھی روزاضافہ ہورہاہے جس سے عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کو سخت مسابقت کا سامناکرناپڑرہاہے انٹرنیشنل مارکیٹ میں چین،سری لنکا،بھارت،بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی مصنوعا ت مہنگی ہیں جس کے سبب خریدارپاکستانی مصوعات کے بجائے دیگر ممالک کی مصنوعات خریدتے ہیں ناہید حسین نے مزیدکہاکہ چھوٹی صنعتیں بجلی کا جھٹکابرداشت نہ کرنے کے باعث بندہورہی ہیں جس کے باعث ہزاروں نوجوان بیروزگاری کا شکارہوکرجرائم کی دنیا میں داخل ہوتے نظرآرہے ہیں عوام کے مسائل حل کرنے کے دعوے کرنے والی حکومت عوام کے مسائل اورملکی معشیت کودرپیش مشکلات سے زیادہ عالمی اداروں ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کی ہدایت پر عمل کرناچاہتی ہے کیونکہ حکومت ان اداروں کی مقروض ہے اوران سے مزیدقرضے لینا چاہتی ہے اس اقدام سے حکومت ان عالمی اداروں کے دباؤ سے بچ نکلی ہے لیکن حکومت کا دباؤ عوام پربڑھتاجارہاہے اورعوام رفتہ رفتہ مزیدمایوس اوردلبرداشتہ ہورہے ہیں اوریہ مایوسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں جہاں بجلی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے اس کمی کی تھوڑی ذمے داری عوام کی بھی ہے موقع بہ موقع چراغاں اورغیر ضروری بجلی کا بے دریغ استعمال بھی کمی میں بڑاکردارادا کرسکتاہے اوراس سے بڑھ کرڈیفالٹر بھی ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں نہ دہندگان کے ذمے اربوں روپے کے واجبات ہیں اس کے علاوہ کروڑوں روپے کی رقم مختلف اداروں میں پھنسی ہوئی ہے اورملک کے تمام صوبوں میں ادائیگیوں کی یہی صورتحال ہے اورایسی صورتحال میں پورا نظام متاثرہے نہ جانے وہ کونسے ایسے ہاتھ ہیں جو ان نادہندگان کے خلاف کاروائیوں سے روکتے ہیں اگر یہی کام کسی غریب سے سرزد ہوجائے تو اس کا فوری طورپرکنکشن منقطع کرکے ڈیفالٹر قراردیاجاتاہے اور یہ کھلا تضادہی ہمارے ملک کی معثیت اورتباہی کاباعث بن رہاہے آخر میں ناہید حسین نے کہاکہ حکومت کو بجلی کے بحران پر قابوپانے کے لئے کالاباغ ڈیم جیسے منصوبوں کوپایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے اورساتھ ہی ہنگامی بنیادوں پرجزوقتی متبادل ذرائع مہیاکرکے عوام کوذہنی اذیت سے بچاناہوگا۔

0 comments

Write Down Your Responses