آزادی ٰاظہار رائے

:تحریر : محمد فرحان عباس
بات سمجھ نہیں آتی کہ بات اپنے ملک کی کروں یا اس میں بسنے والے افراد کی جن کا کسی نا کسی طور پر ہمارے ملک سے واسطہ ہے ۔
یہاں ہر ایک ہر فن مولا بنا پھرتا ہے ،جسے چاہو جس موضوع پے تقریریں ،تبصرے کروا لو ،
گلیوں ،سڑکوں پر پھرنے والوں سے کسی بھی مرض کا علاج کرا لو ،ہر ایک حکیم ،داکٹر بن جائے گا ،جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والا بزنس مین بن جائے گا ،اور منشیات کا کام کرنے والے ہی عوام پر حکومت کرنے کے اہل ہو جائیں گے ،
سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے والے ٹی وی اینکرز ہر روز بلا اشتعال اپنے ملک کے خلاف زہر اگلیں گے اور بولیں گے کہ ہم اپنے ملک کے ساتھ بہت مخلص ہیں،
ہمارے کچھ اینکرز اور ٹی وی چینلز نے اپنے ملک کے خلاف ایسا زہر اگلا ہے کہ آج دشمن ممالک کا بچہ بچہ اس بات کا ذکر کر رہا ہے کہ پاکستان ایک دہشتگرد اور جنگ زدہ ملک ہے ،
میں اس وقت اپنے ملک سے دور ایک مسلم ملک میں کام کر رہا ہوں اور یہ ملک کوئی اور نہیں پاکستان کا سب سے قریبی اور حمایت یافتہ سعودی عرب ہے جس بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا سب سے زیادہ اگر کوئی ہمدردہے تو وہ سعودی عرب ہے ،
شاید یہ بات کسی نا کسی حد تک سچی ہو مگر صرف حکومتی امداد ملنے سے کوئی ہمدرد نہیں بن جاتا اس ملک کے عوام کا تاثر بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس ملک کی عوام کا اس بارے میں کیا خیال ہے ،اور سعودی عرب کے عوام بھی اب اس بات کے جھنڈے گھاڑھ رہے ہیں کہ پاکستان واقعی ایک دھشت گرد ملک ہے ،
یہاں ہمارے ساتھ تقریبا دس ملکوں کے لوگ کام کر رہے ہیں ،اور جب بھی کسی سے بات ہوتی ہے تو وہ پہلے یہ سوال کرتا ہے کہ 
کیا تم پاکستانی ہو ؟اور دوسرا سوال نہیں بلکہ دل کو چیرنے والا ایک جملہ ہوتا ہے کہ پاکستان تو بہت خطرناک ملک ہے ،
اور وہ یہ نہیں کہتے کہ انہیں کسی نے بتایا ہے یا ان کے ملک میں کسی نے ان کو دکھایا ہے ،ان سے جب یہ سوال کیا کہ آپ کو کس نے یہ کہا کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے تو وہ کہتے ہیں آپ کے میڈیا نے ،آپ کے ٹی وی چینلز پے ہر روز دکھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں فلاں جگہ پے بم دھماکہ ہو گیا ،فلاں شہر میں فائرنگ ہوئی اور اتنے بندے ہلاک ہو گئے ،
وہ کہتے ہیں کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان ایک دھشتگرد ملک ہے کیونکہ پاکستان کے ٹی وی چینلز پے دکھایاجاتا ہے کہ ایک گھر میں سے اتنی تعداد میں دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ برامد ہوا ،
دنیا اس بات کو جانتی ہے جو ۷۰۰۲ میں لال مسجد میں ہوا ہمارے عوام اور حکومت سمجھتی ہے کہ رات گئی بات گئی سب بول گئے مگر وہ نہین جانتے کہ بھولے صرف ہمارے ملک کے بے ضمیر لوگ ہیں مگر آج بھی انڈیا ،کوریا،جاپان ،ملائیشیا،چائنہ ،بنگال،نیپال ،اور کتنے ہی ملکوں کے لوگ اس سانحے کو یاد کئے ہوئے ہین اور وہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ آپ کی تو عبادت گاہوں میں بھی سکون نہیں ،
اور میں جانتا ہوں کہ لال مسجد میں کیا تھا وہاں نہتے لوگوں کو شہید کیا گیا ،اور اس علم کی شمع کو بجھانے کی کوشش کی گئی جس میں قرآن پاک اور حدیث پاک جیسی مقدس کتب پڑھائی جاتی تھیں ،
جب ایک انڈین سے بات ہوئی تو اس نے مجھے لال مسجد کا طعنہ دیا اور کہنے لگا کہ تمہاری لال مسجد میں دہشتگرد ہیں اور وہ حکومت کے ساتھ جنگ کرتے ہیں ،جو بھی بم دھماکہ یا قتل و قتال ہوتا ہے اس کے حکم بھجی لال مسجد سے جاتا ہے لال مسجد والوں کے پاس دہشتگرد عورتیں بھی ہیں ،اور وہ زبردستی مسلم ہو نے پر مجبور کرتے ہیں ،اور پھر جب میں نے اس سے سوال کیا کہ آخر آپ کو یہ سب جھوٹ کہاں سے پتا چلا تو وہ کہنے لگا کہ آپ کے پاکستانی چینلز پے سنا تھا ،جن میں اس نے جیو ٹی وی کا نام لیا ،اور ساتھ ہی کہنے لگا کہ یہ جھوٹ نہیں سچ ہے کہ اگر جھوٹ ہوتا تو آپ کے سابق صدر مشرف اس بات کا ذکر ٹی وی پے آ کر نا کرتے ،
اس نے ہمارے اخبارات کا حوالہ دیا کہ ان میں آیا تھا کہ لال مسجد میں اتنے دہشتگرد ہلاک ہو گئے ،پھر وہ کہنے لگا ،میڈیا ہے آنے والی بات اور اس پے ہونے والے تبصرے ہماری آنکھیں بند نہیں ہونے دیتے اور ہمیں سب خبر ہے ،
اس کی ان باتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کو بدنام کرنے والا اور کوئی نہیں ،ہمارا اپنا میڈیا ہے جو ہر وقت پاکستان کے بارے میں زہر اگلتا ہے ،جو ایک رائی کے ذرے کو پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے اور کیا خوب کہنے ان اینکرز کے جو اس بات کو باور کرانے میں سر دڑھ کی بازی لگا دیتے ہیں کہ واقعی ہم جس پاکستان میں بس رہے ہیں یے ایک خطرناک اور دہشتگرد ملک ہے 
یہ نتیجہ نکلا صحافت میں آزادی ء اظہار رائے کا ،
اور ان لوگوں کے منہ پے طمانچہ ہے کہ جو صحافت کو ایک مقدس پیشہ سمجھتے ہیں آخر یہ لوگ ایسی باتیں اور زہر اگل کر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں 
کیا ان کی ان حرکتوں سے سوشل میڈیا پر ہونے والے بحث مباحثے سچ ثابت نہیں ہو رہے ،
شائد ایسی آزادی کے حقدار نہیں ہیں یہ لوگ اور ایسی آزادی ان کو راس نہیں آئی جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ ملک و ملت کو ساری دنیا میں بدنام کر رہے ہیں اور عوام کا بھی اس سے کچھ مختلف حال نہیں ہے کہ جو کچھ میڈیا پے بتایا جاتا ہے اسے یہ لوگ سچ سمجھتے ہوئے اس پر یقین کر لیتے ہیں ،
اور ہمارے حکمران ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ وہ ہر روز عوام پے ایک نیا بم داغ دیتے ہیں جس سے کسی کو جسمانی نقصان تو نہیں ہوتا البتہ نفسیاتی طور ہے پاکستان میں رہنے والے غریب طبقے کو مفلوج کر دیتا ہے ،اور وہ ہے مہنگائی اور اس کا ذمہ دار بھی یہی میڈیا ہے جس نے نئے زمانے کے رنگ اوڑھنے کی اتنی نمائش کی کہ لوگ اپنی چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے لگے اور اس میڈیا نے کبھی یہ نہین بتانے کی کوشش کی کہ کفایت شعاری بھی کسی چیز کا نام ہے 
اور یہی لوگ جب بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے منہ میں رشوت کی ہڈی دال کر ان کو خاموش کرا دیا جاتا ہے اور حکمران اسی طرح لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں 

0 comments

Write Down Your Responses