اگر بھارت نے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا تو ایک دن اس کا وہی حال ہوگا جو امریکا کا ویتنام میں ہوا تھا۔

نئی دہلی(انویسٹی گیشن ٹیم) مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا تو ایک دن  اس کا وہی حال ہوگا جو امریکا کا ویتنام میں ہوا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بھارت 66 برسوں سے مقبوضہ کشمیر پر فوج اور پولیس کے سہارے حکومت کررہا ہے۔ وادی کے عوام کے لئے جمہوریت صرف نام کی ہے، بھارت سرکار یہاں مکمل جمہوریت نافذ ہی نہیں کرنا چاہتی، اس کی واضح مثال یہ ہے کہ بھارت بھر میں اگر کوئی بھی شخص کسی بھی امیدوار کو ووٹ کے قابل نہیں سمجھتا تو اسے ووٹنگ مشین پر ’نو ووٹ‘ کا اختیار دیا گیا لیکن کشمیریوں کو یہ سہولت نہیں دی گئی کیونکہ  نئی دہلی میں بیٹھے اعلیٰ سیاسی اور انتظامی حکام یہ جانتے ہیں کہ  کشمیری عوام پہلے ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرتے آئے ہیں۔ اگر لوگوں نے ’نو ووٹ‘ کا بٹن دبایا تو یہ اس بات کا اشارہ سمجھا جائے گا کہ وہ انتخابات کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ وادی میں عسکریت پسندی کم ہوئی ہے لیکن عام نوجوانوں کے خلاف ریاستی تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے بھارتی سیاست کے مرکزی دھارے سے مزید کٹ کر رہ گئے ہیں آج کشمیری خود کو پہلے سے کہیں زیادہ الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں اور بے قصور لوگوں کو قتل کیا گیا ہے، اگر بھارت چاہتا ہے کہ کشمیری عوام کو ایک بار پھر مرکزی دھارے میں لایا جائے تو اسے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے امن کی بحالی کے عمل کو دوبارہ شروع کرناہوگا اسی سے کشمیریوں اور بھارتی حکومت کے درمیان اعتماد کی کمی دور کی جاسکتی ہے۔ دوسری صورت میں 2014 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا اثر بھارت پر بھی پڑے گا اور اگر مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو ایک دن بھارت کا وہی حال ہو گا جو امریکا کا ویتنام میں ہوا تھا۔
واضح رہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی مقبوضہ وادی میں بھارت کی حامی جماعت سمجھی جاتی ہے اور محبوبہ مفتی کے والد مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔

0 comments

Write Down Your Responses