جبر اور شہادت

 تحریر:زین رضا ضیاء
یوں تو ہر کسی دور میں جبر کے واقعیات ہوتے ہی رہے ہیں مگر سر زمین کربلا پر ہونے والے جبر و ظلم کے ساتھ ساتھ صبر و تحمل کی ایسی تاریخ رقم کر گیا جس سے ہر زبان زد عام  ہے اس یزید پلید نے کیا کچھ نہیں کیا مگر حضرت امام حسین علیہ سلام نے اس کا مقابلہ بھی کیا اور شہادت کے رتبے پر نہ صرف فائز  ہوے بلکے آپ علیہ سلام جنّتی سردار بھی بنے آنے والے وقتوں بلکے قیامت تک یہ بھی تاریخ رقم کر گئے کہ شہادت جبر سے نہیں بلکہ دین و ملت کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے آپ کے یزید سے جنگ ہوئی اسلام کی خاطر اور اسلام عوام کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے آج تک کس بھی مورخ نے نہیں لکھا کہ کربلا میں اتنے شہری شہید یا متاثر ہوے ہوں آپ عوام الناس اور اسلام کی خاطر جبر سے ٹکراۓ اور اسلام کو زندہ رکھا عوام کو تحفظ دیا اہل و عیال کو خدا کی رہ میں قربان کیا اور شہادت پائی مگر آج بھی کچھ لوگ یزیدیت کو زندہ رکھنے کو ناکام کوشش میں اس کو حضرت بنا بیٹھے ہیں مگر شائد وہ یہ بھول چکے ہیں کہ حق ہی زندہ و جاوید رہتا ہے باطل آخر مٹ ہی جاتا ہے
کیا نہتے شہریوں کو مارنے والا شہید یا غازی ہو گا کیا اسلام غیر مسلموں کو تحفظ نہیں دیتا کیا ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے سے منع نہیں کیا گیا کیا اسلام عورتوں اور بچوں کو تحفظ نہیں دیتا کیا اسلام میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے کیا مسجدوں مقبروں امامبارگاہوں شہریوں کی املاک اور سرکاری املاک کو دھماکوں سے اڑانے کا ذکر اسلام میں ہے ؟ مسجدوں کو تباہ کرنے والے کیا شہید اور غازی ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں اور جو لوگ آج ان کو شہادت کا سرٹیفیکٹ دے رہے ہیں وہ اپنا ماضی یاد کر لیں جماعت اور جمعیت نے پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی اور وہی لوگ آج ان کو شہید کہہ رہے ہیں جنہوں نے ہر مسجد میں ہونے والے دھماکے کو اون کیا ہے مسجد اسلام کی پہچان ہے کیا امریکا کی جنگ کا بدلہ اپ مسجدوں مدرسوں امامبارگاہوں شہریوں سے لیں گے کیا امام علیہ سلام نے ان سے جنگ کی تھی جنہوں نے ان کو قاصد و خطوط کے ذریعے سے بلوایا تھا یا کہ باطل  کے خلاف اگر تو ان شہریوں کے خلاف لڑی تھی تو آج یہ اسلام کے مطابق ہیں اور شہید بھی یقینا ہوں گے اور نہیں تو یہ اسلام کے خلاف ہے مولانا اور منور صاحب کو کم از کم اپنے وضح قطع کے لحاظ سے ایسے بیانات سے دوری اختیار کرنی چاہیے جس نے دین و ملت کو نقصان کا خدشہ ہو
آپ جناب بیان دینے سے پہلے اس بات کی طرف اگر غور کر لیتے کے کہ کیا اسلام میں مسجدوں کو تباہ کرنے اور  اس کا اعلان کرنے کہ یہ ہم نے ہی کیا ہے کہیں ذکر آیا ہے کیا اپنے ہی ملک محافظوں کو شہید کریں اور یہ پرچار کریں کہ معاذ الله ان کو جہنم رسید کر دیا ہے یہ اس وقت کہاں تھے جب یہ سب روس میں ہو رہا تھا تب ان کا ساتھ کون دے رہا تھا نہ تو یہ کوئی فقی مفتی ہیں اور نہیں ہی ان کو اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اس بحث میں پڑیں کہ کون شہید ہے اور کون جہنمی اور میڈیا کو تو بات ہی چھوڑ دیں ادھر بات لبوں پر اور بتنگڑ بنانا شروع
جب سے شہید تو ہو سکتا ہے مگر جبر کرنے والا نہیں کیونکہ


             شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن                نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 

0 comments

Write Down Your Responses