اسلامی مہینوں میں سب سے پہلا مہینہ محرم الحرام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
تحریر :( لاثانی سرکار) اسلامی مہینوں میں سب سے پہلا مہینہ محرم الحرام ہے ۔ یہ مہینہ اللہ تعالی کا مہینہ ہے اور رویات میں اس مہینہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے مہینہ محرم کی بزرگی کرو ۔ جس نے محرم کی بزرگی کی اللہ تعالی اسے جنت میں بزرگی عطا کرے گا۔ اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔
یوم عاشورہ:
ماہ محرم الحرام کے دسویں دن کو یوم عاشورہ کہا جاتا ہے یہ دن اور اس کی رات بہت فضیلت و عظمت والے ہیں ۔ اس دن کو عاشورہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ محرم کا دسواں دن ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس امت کو جو اعزازات عطا فرمائے ہیں ان میں سے یہ دسواں اعزاز ہے ۔ ان اعزازات کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
(۱)
پہلا اعزاز ماہ رجب ہے ۔ رجب اللہ تعالی کا مہینہ ہے اسے تمام مہینوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے یہ امت دوسری امتوں سے افضل ہے ۔
(۲)
دوسرا اعزاز ماہ شعبان ہے ، اس مہینہ کو دوسرے مہینوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح رسول اللہ ا دیگر انبیاء کرام سے افضل ہیں ۔
(۳)
تیسرا اعزاز ماہ رمضان المبارک ہے ۔ اس مہینہ کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے جیسے اللہ تعالی مخلوق سے افضل ہے ۔
(۴)
چوتھا اعزاز شب قدر ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل ہے ۔
(۵)
پانچواں اعزاز عید الفطر ہے اور یہ روزوں کی جزا کا دن ہے۔
(۶)
چھٹا اعزاز ذی الحجہ کے دس دن ہیں یہ اللہ تعالی کے ذکر کے دن ہیں۔
(۷)
ساتواں اعزاز عرفہ کا دن ہے ، اس دن روزہ رکھنا دو سالوں کے صغیرہ گناہوں کاکفارہ ہے۔
(۸)
آٹھواں اعزاز قربانی کا دن ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے ۔
(۹)
نواں اعزاز جمعہ کا دن ہے ۔ جو کہ تمام دنوں کا سردار ہے ۔
(۱۰)
دسواں اعزاز عاشورہ کا دن ہے اور اس کا روزہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
ان تمام دنوں کو ایک خاص فضیلت حاصل ہے اور اللہ تعالی نے یہ اعزازات اس امت کو عطا فرمائے تاکہ یہ مقدس ایام اس امت کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں اور یہ امت خطاؤں سے پاک ہوجائے۔ (غنیتہ الطالبین ص ۵۳۴)
انبیاء کرام کے اعزازات :
بعض علماء فرماتے ہیں کہ دس محرم کو عاشورہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس دن دس انبیاء کو دس اعزاز عطا فرمائے۔
(۱)
اللہ تعالی نے اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔
(۲)
اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مقام پر اٹھایا گیا۔
(۳)
اسی دن نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پر ٹھہری۔
(۴)
اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اسی دن اللہ تعالی نے انہیں اپنا خلیل بنایا اور اسی دن انہیں نمرود کی آگ سے بچایا۔
(۵)
اسی دن حضرت داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی ان کو لوٹائی۔
(۶)
اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا عطا فرمائی۔
(۷)
اسی دن حضرت موسی علیہ السلام کو دریائے نیل میں راستہ دیا گیا اور فرعون غرق ہوا۔
(۸)
اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
(۹)
اسی دن حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔
(۱۰)
اسی دن ہمارے آقا و مولی ﷺ کا نور تخلیق کیا گیا، (صاوی ، غنیتہ الطالبین ص ۵۳۴) 
یوم عاشورہ کے حوالے سے ایک اور اہم ترین واقعہ یہ ہے کہ اسی دن نواسہ رسول ﷺ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو یزیدی افواج نے کر بلا میں بھوکے پیاسے شہید کردیا۔
عاشورہ کا روزہ:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم اجب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا۔ یہ عظمت والا دن ہے اس دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی۔ ادائے شکر کے لیے حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں نبی کریم انے فرمایا تمہاری نسبت ہم موسی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں چنانچہ حضور علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
(بخاری ، مشکوۃ جلد ۱ ص ۴۴۶)
انہی سے مروی ہے کہ جب آقا و مولی انے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کی یار سول اللہ ا اس دن کی تو یہود و نصاری تعظیم کرتے ہیں ۔ حضور اکرم ا نے فرمایا اگر آئندہ سال حیات (ظاہری ) باقی رہی تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔(مسلم ، مشکوۃ جلد ۱ ص ۴۴۲)، یہ ۱۰ھ ؁ کا واقعہ ہے اگلے سال رحمت عالم انے اس دنیا سے پردہ فرمالیا۔ ان احادیث سے معلوم ہواکہ جس دن اللہ تعالی کی طرف سے کسی بندے پر کوئی انعام ہوا ہو اس دن شکر الہی بجالانا اور اس دن کی یادگار قائم کرنا نبی کریم اکی سنت ہے اور صحابہ کرام کی بھی۔ یہاں تک کہ اگر بالفرض اس میں کفار کے ساتھ کچھ مشابہت کا احتمال ہو تو بھی اس فعل کو ترک نہ کیا جائے گا بلکہ کفار کی مخالفت کی کوئی اور صورت پیدا کی جائے گی۔
سرکار مدینہ ا کاارشاد ہے ۔ رمضان کے بعد افضل روزہ اللہ تعالی کے مہینے محرم کا روزہ (عاشورہ کا روزہ ) اور فرض نمازوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔(مسلم، مشکوۃ جلد ۱ ص ۴۴۱)
غیب بتانے والے آقا و مولی انے فرمایا مجھے اللہ تعالی کے کرم سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے اس روزہ کو پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا۔ (مسلم ، مشکوۃ جلد ۱ ص ۴۴۳)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ محبوب کبریا اہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کاحکم فرماتے ۔ ترغیب دلاتے اور ہماری نگرانی بھی فرماتے تھے (مسلم ، مشکوۃ ، ج۱ ص ۴۴۶)
شب عاشورہ کی فضیلت:
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم اکا ارشاد ہے، جو شخص عاشورہ کی رات کو عبادت کے ذریعے زندہ رکھے (یعنی شب بیداری کرے ) تو جب تک چاہے گا اللہ تعالی اسے بھلائی پر زندہ رکھے گا۔ (غنیتہ الطالبین ص ۵۳۴)
نبی کریم انے فرمایا رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا روزہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد عاشورہ کی رات میں نفل پڑھنا افضل ہے۔ (ایضا)
حجتہ الاسلام امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے شب عاشورہ کو فضیلت والی راتوں میں شمار کیا ہے اس رات میں کثرت نوافل کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ (احیاء العلوم)
عاشورہ کے دن نیک اعمال:
رحمت عالم اکا ارشاد گرامی ہے ، جو عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کرے اور انہیں خوب کھلائے پلائے تو اللہ تعالی اس پر تمام سال رزق میں وسعت و کشادگی فرمادیتا ہے ۔ (فضائل الاوقات للطبرانی، شعب الایمان للبہیقی ، ما ثبت من السنہ ص ۲۳)
امام ابن حبان کے نزدیک یہ حدیث حسن ہے امام بیہقی نے بھی اسے حسن کہا ہے ۔ یہی حدیث دار قطنی میں جید سند کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بطریق موقوف بیان ہوئی ہے ۔ (ماثبت من السنہ ص ۲۳۔۲۴)
اس حدیث کے متعلق حضرت سفیان بن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ (ہم پچاس سال سے اس کا تجربہ کر رہے ہیں اور ہم وسعت اور کشادگی بھی دیکھ رہے ہیں)(غنیتہ الطالبین ص ۵۳۴)
یوم عاشورہ میں صحابہ کرام اور اہلبیت عظام خصوصا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی ارواح مبارکہ کو ایصال ثواب کرنا بہت ثواب کا کام ہے اسی لیے مسلمان عموما اسی روز قرآن خوانی کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کی روشنی میں شہادت کی فضیلت اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے اور سنتے ہیں پھر شربت ، حلیم اور دیگر طعام پر فاتحہ پڑھ کر ان نفوس قدسیہ کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔ یہ سب امور جائز و مستحب ہیں۔
اور اسکی اصل یہ ہے کہ اپنی کسی بھی مالی یا بدنی عبادت کا ثواب اپنے زندہ یا مرحومین کوپہنچانا جائز ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ اہم اپنے مردوں کیلئے صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو کیا یہ سب کچھ انہیں پہنچتا ہے ، ارشاد فرمایا کہ ہاں بلاشبہ ان کو پہنچتا ہے اور یقیناًاس کے پہنچنے سے انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جیسی کہ تم میں سے کسی کو ہدیہ کا طباق (تھال) ملنے پر خوشی ہوتی ہے۔ (فتاوی شامی، جلد دوم)
بعض علماء نے ان روایات کی صحت پرجرج کی ہے لیکن چونکہ یہ حضور غوث اعظم اور دیگر بزرگان دین سے صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں اور ان اعمال میں سے کوئی عمل بھی ناجائز نہیں ہے لہذا محتاط علماء کا مسلک یہی ہے کہ ان اعمال سے روکا نہ جائے۔
تنبیہہ:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ۔ (خبر دار ! روافض کی بدعتوں میں شامل نہ ہونا۔ گریہ و زاری آہ و بکا سینہ کو بی ، نوحہ ، ماتم ، غم و الم کے ظاہری اظہار (جیسے سیاہ لباس وغیرہ ) میں مشغول نہ ہوجانا ۔ کیونکہ ان کاموں کا مسلمانوں کے عقائد و اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے)۔ (ما ثبت من السنہ ص ۲۰)
شہادتِ امام حسین ص:
رجب ۶۰ ھ میں حضرت امیر معاویہ صکے وصال کے بعد یزید نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو لکھا کہ’’ حسین ، ابن عمر اور ابن زبیرث سے فوری طور پر بیعت لے لو اور جب تک وہ بیعت نہ کریں انہیں مت چھوڑو‘‘۔ (تاریخ کامل ج۴:۱۴)
امام حسین صنے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ تشریف لے گئے۔آپ کے نزدیک یزید مسلمانوں کی امامت وسیادت کے ہرگز لائق نہیں تھا بلکہ فاسق وفاجر ،شرابی اور ظالم تھا۔امام حسینص کو کوفیوں نے متعدد خطوط لکھے اور کئی قاصد بھیجے کہ آپ کوفے آئیں، ہمارا کوئی امام نہیں ہے ، ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ خطوط اور قاصدوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ امام حسین صنے یہ سمجھا کہ مجھ پر انکی راہنمائی کے لیے اور انہیں فاسق وفاجر کی بیعت سے بچانے کے لیے جانا ضروری ہو گیا ہے۔حالات سے آگہی کے لیے آپ نے حضرت مسلم بن عقیلص کو کوفہ بھیجا جن کے ہاتھ پر بیشمار لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی لیکن جب ابن زیاد نے دھمکیاں دیں تو وہ اپنی بیعت سے پھر گئے اور حضرت مسلم بن عقیل صشہید کردیے گئے۔آپ کو انکی شہادت اور اہلِ کوفہ کی بیوفائی کی خبر اسوقت ملی جب آپ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔
امام حسین صکی شہادت کے تفصیلی واقعات جاننے کے لیے صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ کی کتاب ’’سوانح کربلا‘‘کا مطالعہ کیجیے۔
مختصر یہ ہے کہ حسینی قافلے میں بچے، خواتین اور مرد ملا کر بیاسی نفوس تھے جوکہ جنگ کے ارادے سے بھی نہیں آئے تھے۔ انکے مقابلے کے لیے یزیدی فوج بائیس ہزار سوار وپیادہ مسلح افراد پر مشتمل تھی۔اسکے باوجود ظالموں نے اہلبیت اطہار پر دریائے فرات کا پانی بند کردیا۔تین دن کے بھوکے پیاسے امام عالی مقام اپنے اٹھارہ (۱۸) اہلبیت اوردیگر چوَّن (۵۴)جانثاروں کے ہمراہ دس محرم ۶۱ھ کوکربلا میں نہایت بیدردی سے شہید کر دیے گئے۔
حضرت ابن عباس ص سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اﷲا کو خواب میں دیکھا کہ گیسوئے مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور دست مبارک میں خون سے بھری ہوئی ایک بوتل ہے ۔میں عرض گذارہوا ، میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہے؟ فرمایا ،یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں ۔ میں نے وہ وقت یاد رکھا بعد میں معلوم ہوا کہ امام حسین ص اسی وقت شہید کیے گئے تھے۔ ( مسند احمد، مشکوٰۃ )
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زاروقطاررو رہی تھیں ۔میں نے عرض کی، آپ کیوں روتی ہیں ؟ فرمایا، میں نے رسول اﷲا کو خواب میں دیکھا کہ سرِ اقدس اور داڑھی مبارک گرد آلود ہے۔میں عرض گزار ہوئی ،یا رسول اﷲا ! آپ کو کیا ہوا؟ تو آپ نے فرمایا، میں ابھی ابھی حسین کی شہادت گاہ سے آرہا ہوں ۔(ترمذی)
امام حسین صکا سرِاقدس جسم سے جدا کر کے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا ۔ابن زیاد ایک چھڑی آپ کے مبارک ہونٹوں پر مارنے لگا۔ صحابئ رسول، حضرت زید بن ارقم صوہاں موجود تھے۔ ان سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ پکار اٹھے، ’’ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رسول کریم ا ان مبارک لبوں کو چومتے تھے‘‘۔ یہ فرما کر وہ زاروقطار رونے لگے۔ ابن زیاد بولا، خدا کی قسم ! اگر تو بوڑھا نہ ہوتا تو میں تجھے بھی قتل کروا دیتا۔
(عمدۃ القاری شرح بخاری)
حضرت انس بن مالک صسے بھی ایسا ہی واقعہ مروی ہے جو ترمذی کے حوالے سے پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔
امامِ پاک اور یزید پلید:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یزید کا اس واقعہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، جو کچھ کیا وہ ابن زیاد نے کیا۔ چند تاریخی شواہد پیشِ خدمت ہیں جن سے اہلِ حق و انصاف خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان تمام واقعات سے یزید کا کس قدر تعلق ہے۔ عظیم مؤرخ علامہ طبری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، یزید نے ابن زیاد کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا اور اسے حکم دیا کہ ’’مسلم بن عقیل کو جہاں پاؤ قتل کردو یا شہر سے نکال دو‘‘۔ (تاریخ طبری ج۴:۱۷۶)
پھر جب حضرت مسلم بن عقیلص اور ہانی کو شہید کر دیا گیا تو ابن زیاد نے ان دونوں کے سر کاٹ کر یزید کے پاس دمشق بھیجے۔ اس پر یزید نے ابن زیاد کو خط لکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔(تاریخ کامل ج۶:۳۶) یہ بھی لکھا، ’’جو میں چاہتا تھا تو نے وہی کیا، تو نے عاقلانہ کام اور دلیرانہ حملہ کیا‘‘۔ (تاریخ طبری ج۴:۱۷۳)
اب یہ بھی جان لیجیے کہ امام حسین صکی شہادت کے بعد یزید کا پہلا ردعمل کیا تھا؟ علامہ ابن جریر طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں، ابن زیاد نے امام حسینص کا سرِاقدس آپ کے قاتل کے ہاتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے وہ سرِاقدس یزید کے سامنے رکھ دیا۔ اسوقت وہاں صحابئ رسول، حضرت ابوبرزۃ الاسلمیص بیٹھے ہوئے تھے۔ یزید ایک چھڑی امام حسین صکے مبارک لبوں پر مارنے لگا اور اس نے یہ شعر پڑھا:
’’انہوں نے ایسے لوگوں کی کھوپڑیوں کو پھاڑ دیا جو ہمیں عزیز تھے لیکن وہ بہت نافرمان اور ظالم تھے‘‘
حضرت ابوبرزۃص سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے فرمایا، ’’اے یزید! اپنی چھڑی کو ہٹا لو۔خدا کی قسم! میں نے بارہا دیکھا ہے کہ رسول کریم ا اس مبارک منہ کو چومتے تھے‘‘۔(تاریخ طبری ج۴:۱۸۱)
مشہور مؤرخین علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں اور علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ نے تاریخ کامل میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے۔اس میں یہ زائد ہے کہ حضرت ابوبرزۃص نے یہ بھی فرمایا،’’بلاشبہ یہ قیامت کے دن آئیں گے تو حضرت محمد مصطفیا ان کے شفیع ہونگے اور اے یزید! جب تو آئے گا تو تیرا سفارشی ابن زیاد ہو گا‘‘۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور محفل سے چلے گئے۔(البدایہ والنہایہ ج۸:۱۹۷)
اب آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ امام حسینص کی شہادت پر یزید کو کس قدر افسوس اور دکھ ہوا تھا۔جو سنگدل نواسۂ رسول ا کے سرِاقدس کو اپنے سامنے رکھ کر متکبرانہ شعر پڑھتا ہے اور ان مبارک لبوں پر اپنی چھڑی مارتا ہے جسے محبوبِ کبریا ااکثر چوما کرتے تھے، کیا وہ لعنت وملامت کا مستحق نہیں؟اہلبیتِ نبوت سے اس کی عداوت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب اہلبیت نبوت کا یہ مصیبت زدہ قافلہ ابن زیاد نے یزید کے پاس بھیجا تو اس نے ملک شام کے امراء اور درباریوں کو جمع کیا پھر بھرے دربار میں خانوادۂ نبوت کی خواتین اسکے سامنے پیش کی گئیں اور اس کے سب درباریوں نے یزید کو اس فتح پر مبارکباد دی۔ (طبری ج۴:۱۸۱، البدایہ والنہایہ ج۸:۱۹۷)
یزید کے خبثِ باطن اور عداوتِ اہل بیت کی ایک اور شرمناک مثال ملاحظہ کیجیے۔اس عام دربار میں ایک شامی کھڑا ہوا اور اہل بیت میں سے سیدہ فاطمہ بنت حسینص کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا، یہ مجھے بخش دو۔ معصوم سیدہ یہ سن کر لرز گئی اور اس نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے گرج کر کہا، تو جھوٹ بکتا ہے۔ یہ نہ تجھے مل سکتی ہے اور نہ اس یزید کو۔ 
یزید یہ سن کر طیش میں آ گیا اور بولا، تم جھوٹ بولتی ہو۔ خدا کی قسم! یہ میرے قبضے میں ہے اور اگر میں اسے دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے گرجدار آواز میں کہا، ہرگز نہیں ۔خدا کی قسم! تمہیں ایسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے کوئی حق نہیں دیا۔ سوائے اسکے کہ تم اعلانیہ ہماری امت سے نکل جاؤ اور ہمارے دین کو چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لو۔ 
یزید نے طیش میں آ کر کہا، تو ہمارا مقابلہ کرتی ہے ، تیرا باپ اور تیرے بھائی دین سے خارج ہو گئے ہیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہانے کہا، اللہ کے دین اور میرے باپ، میرے بھائی اورمیرے نانا کے دین سے تو نے، تیرے باپ نے اور تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ یزید نے کہا، تو نے جھوٹ بولا ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہانے کہا، تو زبردستی امیرُ المؤمنین ہے، تو ظالم ہو کر گالیاں دیتا ہے اور اپنے اقتدار سے غالب آتا ہے۔ یزید یہ سن کر چپ ہو گیا۔ اُس شامی نے پھر وہی سوال کیا تو یزید نے کہا، دور ہو جا، خدا تجھے موت دے۔ (تاریخ طبری ج۴:۱۸۱، البدایہ والنہایہ ج۸:۱۹۷)
بعض لوگ یزید کے افسوس وندامت کا ذکر کر کے اسے بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی ندامت کی حقیقت علامہ ابن اثیررحمہ اللہ کے قلم سے پڑھیے۔
وہ رقمطراز ہیں، ’’جب امام عالی مقام کا سرِ اقدس یزید کے پاس پہنچا تو یزید کے دل میں ابن زیاد کی قدرو منزلت بڑھ گئی اور جو اس نے کیا تھا اس پر یزید بڑا خوش ہوا۔ لیکن جب اسے یہ خبریں ملنے لگیں کہ اس وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگے ہیں، اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسے گالیاں دیتے ہیں تو پھر وہ امام حسین صکے قتل پر نادم ہوا‘‘۔(تاریخ کامل ج۴:۸۷)
پھر اس نے کہا،’’ ابن زیاد نے حسینص کو قتل کر کے مجھے مسلمانوں کی نگاہوں میں مبغوض بنا دیا ہے، انکے دلوں میں میری عداوت بھر دی ہے اور ہر نیک و بد شخص مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امام حسین صکو قتل کر کے میں نے بڑا ظلم کیا ہے۔ خدا ابن زیاد پر لعنت کرے اور اس پر غضب نازل کرے، اس نے مجھے برباد کردیا‘‘۔ (ایضاً)
یزید کی ندامت وپشیمانی کی وجہ آپ نے پڑھ لی ہے۔ اس ندامت کا عدل وانصاف سے ذرا سا بھی تعلق نہیں ورنہ ایک عام مسلمان بھی قتل کر دیا جائے تو قاتل سے قصاص لینا حاکم پر فرض ہوتا ہے۔ یہاں تو خاندانِ نبوت کے قتلِ عام کا معاملہ تھا۔ ابن زیاد، ابن سعد، شمر ملعون وغیرہ سے قصاص لینا تو درکنار کسی کو اس کے عہدے سے برطرف تک نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی تادیبی کاروائی ہوئی۔
یزید فاسق وفاجر تھا:
بعض جہلاء کہتے ہیں کہ امام حسینص پر لازم تھا کہ وہ یزید کی اطاعت کرتے۔ اس خیالِ بد کے رَد میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یزید امام حسین صکے ہوتے ہوئے امیر کیسے ہو سکتا تھا اور مسلمانوں پر اسکی اطاعت کیسے لازم ہو سکتی تھی جبکہ اُسوقت کے صحابہ کرام اور صحابہ کی جو اولاد موجود تھی، سب اس کی اطاعت سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ مدینہ منورہ سے چند لوگ اسکے پاس شام میں زبردستی پہنچائے گئے تھے۔ وہ یزید کے ناپسندیدہ اعمال دیکھ کر واپس مدینہ چلے آئے اور عارضی بیعت کو فسخ کر دیا۔ ان لوگوں نے برملا کہا کہ یزید خدا کا دشمن ہے، شراب نوش ہے، تارکُ الصلوٰۃ ہے، زانی ہے،فاسق ہے اور محارم سے صحبت کرنے سے بھی باز نہیں آتا‘‘۔(تکمیل الایمان:۱۷۸)
یزید کے فسق وفجور کے متعلق اکابر صحابہ و تابعین کے اقوال تاریخ طبری، تاریخ کامل اور تاریخ الخلفاء میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔ اختصار کے پیشِ نظر حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد پیشِ خدمت ہے۔
آپ فرماتے ہیں،’’خدا کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اُس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب ہمیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ( اسکی بدکاریوں کی وجہ سے)ہم پر کہیں آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں کیونکہ یہ شخص ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیتا تھا، شراب پیتا تھا اور نماز چھوڑتا تھا‘‘۔(طبقات ابن سعد ج۵:۶۶، ابن اثیر ج۴:۴۱، تاریخ الخلفاء:۳۰۶)
امام حسین صنے یزیدی لشکر کے سامنے جو خطبہ دیا اس میں بھی یزید کے خلاف نکلنے کی یہی وجہ ارشاد فرمائی،’’خبردار! بیشک ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کر لی ہے اور رحمان کی اطاعت کو چھوڑ دیا ہے اور فتنہ وفساد برپا کر دیا ہے اور حدودِ شرعی کو معطل کر دیا ہے۔ یہ محاصل کو اپنے لیے خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ باتوں کو حلال اور حلال کردہ کو حرام قرار دیتے ہیں‘‘۔ (تاریخ ابن اثیر ج۴:۲۰)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ہمارے نزدیک یزید مبغوض ترین انسان تھا۔ اس بدبخت نے جو کارہائے بد سرانجام دیے وہ اس امت میں سے کسی نے نہیں کیے۔شہادتِ امام حسین صاور اہانتِ اہلبیت سے فارغ ہو کر اس بدبخت نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی اور اس مقدس شہر کی بیحرمتی کے بعد اہلِ مدینہ کے خون سے ہاتھ رنگے اور باقی ماندہ صحابہ وتابعین کو قتل کرنے کا حکم دیا۔مدینہ منورہ کی تخریب کے بعد اس نے مکہ معظمہ کی تباہی کا حکم دیا اورحضرت عبداللہ بن زبیرص کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرا۔ اور انہی حالات میں وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ (تکمیل الایمان:۱۷۹)
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں،’’ یزید پلید قطعاً یقیناً باجماعِ اہلسنّت، فاسق وفاجر و جری علی الکبائر تھا‘‘۔پھر اسکے کرتوت ومظالم لکھ کر فرماتے ہیں،’’ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے، قرآن کریم میں صراحۃً ا س پر لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فرمایا‘‘۔ (عرفانِ شریعت)
’’یزید پلید فاسق فاجر مرتکب کبائرتھا۔معاذ اللہ اس سے اور ریحانۂ رسول ا سیدنا امام حسین صسے کیا نسبت۔آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے معاملے میں کیا دخل ہے ہمارے وہ بھی شہزادے وہ بھی شہزادے۔ایسا بکنے والا مردود، خارجی،ناصبی،مستحقِ جہنم ہے‘‘۔ (بہارشریعت حصہ ۱:۷۸)
کیا یزید مستحقِ لعنت ہے؟
محدث ابن جوزی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل صسے انکے بیٹے صالح رحمہ اللہ نے عرض کی، ایک قوم ہماری طرف یہ منسوب کرتی ہے کہ ہم یزید کے دوست اور حمایتی ہیں۔ فرمایا، اے بیٹا! جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ یزید کی دوستی کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے۔ بلکہ میں کیوں نہ اس پر لعنت بھیجوں جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لعنت بھیجی ہے۔ میں نے عرض کی، رب تعالیٰ نے قرآن میں کس جگہ اس پر لعنت بھیجی ہےِ؟ فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے!
فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ O اُولٰءِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّہُمْ وَاَعْمٰی اَبْصَارَہُمْ O(محمد:۲۲،۲۳) 
’’تو کیا تمہارے یہ لچھن (کرتوت) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں حق (سننے)سے بہرا کردیا اور اُن کی آنکھیں پھوڑ دیں(یعنی انہیں حق دیکھنے سے اندھا کر دیا)‘‘۔ (کنزالایمان)
پھر فرمایا، فہل یکون فساد اعظم من ھذا القتل۔ بتاؤ کیا حضرت حسین صکے قتل سے بھی بڑا کوئی فساد ہے؟ (الصواعق المحرقۃ:۳۳۳)
علامہ سعد الدین تفتازانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،’’ حق یہ ہے کہ یزید کا امام حسینص کے قتل پر راضی اور خوش ہونا، اور اہلبیتِ نبوت کی اہانت کرنا ان امور میں سے ہے جو تواترِ معنوی کے ساتھ ثابت ہیں اگرچہ انکی تفاصیل احاد ہیں۔ تو اب ہم توقف نہیں کرتے اسکی شان میں بلکہ اس کے ایمان میں۔ اللہ تعالیٰ اس(یزید)پر، اس کے دوستوں پر اور اسکے مددگاروں پر لعنت بھیجے‘‘۔(شرح عقائد نسفی:۱۰۲)
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ علیہ شہادتِ امام حسینصکا ذکر کر کے فرماتے ہیں،
’’ابن زیاد، یزید اور امام حسینص کے قاتل، تینوں پر اللہ کی لعنت ہو‘‘۔ (تاریخ الخلفاء :۳۰۴)
مشہور مفسر علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں، میرے نزدیک یزید جیسے معیّن شخص پر لعنت کرناقطعاً جائز ہے اور اس جیسے فاسق کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہر یہی ہے کہ اس نے توبہ نہیں کی اور اسکی توبہ کا احتمال اسکے ایمان سے بھی زیادہ کمزور ہے۔یزیدکے ساتھ ابن زیاد، ابن سعد اور اسکی جماعت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان سب پر ، انکے ساتھیوں اور مددگاروں پر اور انکے گروہ پر اور جو بھی انکی طرف مائل ہو قیامت تک اور اسوقت تک کہ کوئی بھی آنکھ ابوعبداللہ حسین صپر آنسو بہائے‘‘۔ (روح المعانی ج ۲۶:۶۶)
پس ثابت ہو گیا کہ یزید پلید لعنت کا مستحق ہے۔ البتہ ہمارے نزدیک اس ملعون پر لعنت بھیجنے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ذکرِ الہٰی میں اور نبی کریم ا اور انکی آل پر درودوسلام پڑھنے میں مشغول رہا جائے۔
مد ینہ منورہ ومکہ مکرمہ پر حملہ:
جب ۶۳ ھ میں یزید کو یہ خبر ملی کہ اہلِ مدینہ نے اس کی بیعت توڑ دی ہے تو اس نے ایک عظیم لشکرمدینہ منورہ پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔ علامہ ابن کثیررحمہ اللہ اس لشکر کے سالار اور اسکے سیاہ کارناموں کے متعلق لکھتے ہیں۔
’’مسلم بن عقبہ جسے اسلاف مسرف بن عقبہ کہتے ہیں، خدا اس کو ذلیل ورسوا کرے، وہ بڑا جاہل اور اجڈ بوڑھا تھا۔ اس نے یزید کے حکم کے مطابق مدینہ طیبہ کو تین دن کے لیے مباح کر دیا ۔اللہ تعالیٰ یزید کو کبھی جزائے خیر نہ دے، اس لشکر نے بہت سے بزرگوں اور قاریوں کو قتل کیا اور اموال لوٹ لیے‘‘۔ (البدایہ والنہایہ ج۸ :۲۲۰)
مدینہ طیبہ کو مباح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جس کو چاہو قتل کرو، جو مال چاہو لوٹ لو اور جسکی چاہو آبروریزی کرو(العیاذ باللہ)۔یزیدی لشکر کے کرتوت پڑھ کر ہر مومن خوفِ خدا سے کانپ جاتا ہے اور سکتہ میں آجاتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اس شخص نے حلال کردیا جسے آج لوگ امیرُ المؤمنین بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں،
’’یزیدی لشکر نے عورتوں کی عصمتیں پامال کیں اور کہتے ہیں کہ ان ایام میں ایک ہزار کنواری عورتیں حاملہ ہوئیں‘‘۔ (البدایہ ج۸:۲۲۱)
تاریخ میں اس واقعہ کو واقعۂ حرّہ کہا جاتا ہے۔اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ’’شک نہیں کہ یزید نے والئ ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبۂ معظمہ و روضۂ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجدِ نبوی بے اذان ونماز رہی، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بے گناہ شہید کیے گئے۔ کعبۂ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا، مدینہ طیبہ کی پاک دامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کر دیں‘‘۔ (عرفانِ شریعت)
حضرت سعید بن مسیب صفرماتے ہیں کہ ایامِ حرّہ میں مسجدِ نبوی میں تین دن تک اذان واقامت نہ ہوئی۔جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں قبرِ انور سے اذان اور اقامت کی آواز سنتا تھا۔(دارمی، مشکوٰۃ، وفاء الوفاء)
بقول علامہ سیوطی رحمہ اللہ،’’جب مدینہ پر لشکر کشی ہوئی تو وہاں کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اس لشکر سے پناہ میں رہا ہو۔ یزیدی لشکر کے ہاتھوں ہزاروں صحابہ شہید ہوئے، مدینہ منورہ کو خوب لوٹا گیا، ہزاروں کنواری لڑکیوں کی آبروریزی کی گئی‘‘۔
مدینہ منورہ تباہ کرنے کے بعد یزید نے اپنا لشکر حضرت عبداللہ بن زبیرص سے جنگ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ بھیج دیا۔اس لشکر نے مکہ پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا اور ان پر منجنیق سے پتھر برسائے۔ ان پتھروں کی چنگاریوں سے کعبہ شریف کا پردہ جل گیا، کعبہ کی چھت اور اس دنبہ کا سینگ جو حضرت اسماعیل کے فدیہ میں جنت سے بھیجا گیا تھا اور وہ کعبہ کی چھت میں آویزاں تھا، سب کچھ جل گیا۔یہ واقعہ صفر ۶۴ ھ میں ہوا اور اس کے اگلے ماہ یزید مرگیا۔جب یہ خبر مکہ پہنچی تو یزیدی لشکر بھاگ کھڑا ہوا اور لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیرص کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ 
(تاریخ الخلفاء:۳۰۷)
***
دعائے عاشورہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
سُبْحَانَ اللّٰہِ مِلْءَ الْمِیْزَانِ وَ مُنْتَھَیَ الْعِلْمِ وَ مَبْلَغَ الرِّضٰی وَزِیْنَتَ الْعَرْشِ لَا مَلْجَاءَ وَلَا مَنْجَاءَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِوَعَدَدَکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ کُلِّہَا نَسْءَلُکَ السَّلَامَۃَ بِرَحْمَتِکَ یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَھُوَحَسْبُنَاوَنِعْمَ الْوَکِیْلِ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرِوَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَعَلٰی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ عَدَدَ ذَرَّاتِ الْوُجُوْدِوَعَدَدَ مَعْلُوْمَاتِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

2 comments

یہ لاثانی سرکار کیا ہوتی ہے۔ کیا اسلام کی خدمت کیلیے اتنا بڑا نام ضروری ہے۔ کیا اس طرح کی ٹوپی سنت رسول ہے۔

Aslamoalaikum........................janab pahlay is site to check kar lain..........agar pher bhi koi problem ho to rabta kijaya ga............
www.lasanisarkar.org
with best wishes.........
mazhar abbas
mzhrlwf@yahoo.com..........03036283227

Write Down Your Responses