گوجرانوالہ میں نمازِ فجر کے وقت بے گناہ معصوم نمازیوں کی تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھوں دل خراش شہادت کی پرزور مذمت کرتے ہیں

لاہور ( انویسٹی گیشن ٹیم ) مجلس وحدت مسلمین شیرازی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید شفقت حسین شیرازی نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ میں نمازِ فجر کے وقت بے گناہ معصوم نمازیوں کی تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھوں دل خراش شہادت کی پرزور مذمت کرتے ہیں تو وہیں اس بات پر بھی اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے جب سے طالبان دہشت گر دوں سے مذاکرات کے نام پر ان کے آگے سرنڈر کیا ہے تب سے مملکت خداداد پاکستا ن میں دہشتگردی اور بانیانِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی اولاد وں کی نسل کشی کے واقعات میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ حکومت پنجاب کو بار ہا سیکورٹی معاملات پر خدشات کے اظہار کے باوجود آج گوجرانوالہ کے واقعے نے انکی نااہلی ثابت کردی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتیجہ میں ہمیں لاشوں کے تحفے ہی ملیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے میڈیا سیل کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ دہشتگردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ پنجاب انتظامیہ چاردیواری کے اندر مجالس کو روکنے اور ذاکرین و علمائے کرام پر پابندی لگا نے میں مصروف ہے ۔ نمازیوں اور عزاداروں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ تکفیری گروہوں کے مٹھی بھر دہشتگرد کافر کافر کے نعرے لگارہے ہیں اور انتظامیہ ان کو آشیر باد کرتی نظر آتی ہے۔ اگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کیا گیا تو ایسی تحریک چلائی جائے گی جو حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔ پنجاب میں دفعہ 144کے نام پر عزاداری کو محدود کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ حکومت پنجاب ہمارے علمائے کرام اور عزاداروں کو دفعہ 144، پرمٹ، لائسنس کے نام پر ہراساں کررہی ہے جبکہ صوبے بھر میں تکفیری دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے۔پنجاب انتظامیہ کا یہ متعصبانہ رویہ اس بات کی غمازی ہے کہ عزاداری کے خلاف دہشت گردوں اور پنجاب حکومت کی سوچ ایک ہے۔ 
ہمارا مطالبہ ہے کہ گوجرانوالہ واقعے میں ملوث دہشتگردوں اور ا ن کے سر غناؤں کو فی الفور گرفتار کرکے عوام کے سامنے لایا جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے کہ جن کے ہاتھ معصوم نمازیوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے گھر میں نماز پڑھنے والے نمازیوں کو قتل کرنے والے تکفیری دہشتگرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔ ہم حکومت پنجاب پر ایک بار پھر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس نے اگر عزاداری دشمن رویہ ترک نہ کیا تو صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاجی دھرنے دیں گے اور اس انتہا پسند حکومت کے چہرے پر پڑا لبادہ اتار کر ہی دم لیں گے۔ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر عزاداری کو روکنے کی مذموم کوشش کی گئی تو عاشوراء محرم کے تمام جلوسوں کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دیں گے۔ عزاداری سید الشہداء ہماری شہ رگِ حیات ہے اس پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان کے شیعہ اور سنی مسلمان تکفیری دہشتگردوں کی اسلام مخالف سازش کو جان چکے ہیں اور وہ اپنے باہمی اتحاد کے ذریعے انتہا پسندوں کی ساز ش کو ناکام بنادیں گے۔ آج پورے ملک میں جاری مجالس عزا میں علما،ذاکرین،اس واقعے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے۔اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے رہنماء علامہ سید مہدی حسن کاظمی بھی موجود تھے۔

0 comments

Write Down Your Responses