وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا دولت مشترکہ کی نئی تشکیل پانے والی کامن ویلتھ یوتھ کونسل کے لیے ایک لاکھ ڈالر کے خصوصی عطیہ کا اعلان

کولمبو(انویسٹی گیشن ٹیم)و زیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے طویل المیعاد حکمت عملی تیار کر رہی ہے تا کہ تمام پاکستانی شہریوں کو برابر کے مواقع حاصل ہو سکیں۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقد ہونے والی دولت مشترکہ کی سربراہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ  پاکستان کو عسکریت پسندی، کمزور معیشت، غربت اور توانائی کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن ہم پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے پر عزم ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ آج کی دنیا کو، بالخصوص دولت مشترکہ کے ممالک کو منصفانہ ترقی کا انتہائی اہم چیلنج درپیش ہے لیکن ہماری حکومت تمام پاکستانیوں کو مساوی مواقع کی فراہمی کے ذریعے پائیدار اور مجموعی ترقی کی طویل المدتی حکمت عملی پر کاربند ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں ملک کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وہ ان سے جلد از جلد اور بیک وقت نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دولت مشترکہ کی نئی تشکیل پانے والی کامن ویلتھ یوتھ کونسل کے لیے ایک لاکھ ڈالر کے خصوصی عطیہ کا اعلان کیا، یہ عطیہ پاکستان کی جانب سے یوتھ ایجنڈا کو اہمیت دینے کا عملی اعتراف ہے، اس عطیہ کو کامن ویلتھ یوتھ کونسل کے نوجوانوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ کامن ویلتھ یوتھ کونسل کا باقاعدہ قیام دولت مشترکہ کے نویں یوتھ فورم اجلاس کے دوران کیا گیا جو دولت مشترکہ سربراہ اجلاس کے دوران ہوا۔ قبل ازیں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مالی معاونت سے متعلقہ ایجنڈا پر بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کی ایک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے اس کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی شراکت داری اور کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سلسلہ میں انھوں نے نجی شعبے کو متحرک بنانے، گرانٹ کی دستیابی میں اضافہ اور پبلک سیکٹر کے لیے آسان شرائط کے قرضوں کی تشکیل اور گرین کلائمیٹ فنڈ کو جلد فعال بنانے کی تجویز پیش کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس کے دوران مختلف عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت یا نجی شعبہ سری لنکا میں شوگر ملز لگا سکتے ہیں۔ جب کہ سری لنکا کے صدر نے وزیر اعظم نواز شریف کو سری لنکا کی شوگر انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔ دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں طے پایا کہ دو طرفہ تجارت کے حجم کو اگلے چند سالوں میں 460 ملین ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔
وزیر اعظم نوازشریف نے پاکستان کے لیے مالٹا کی بندرگاہ کی آزادانہ سہولیات کی پیشکش پر مالٹا کے وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کے ساتھ  ملاقات میں نیوزی لینڈ کے سرمایہ کاروں کو بجلی کی پیداوار، انفرا اسٹرکچر کی ترقی، مکانات، معدنیات، تیل و گیس، آئی ٹی، زراعت اور ڈیری فارمنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور اسلام آباد میں نیوزی لینڈ کا ہائی کمیشن کھولنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔ یوں دیکھا جائے تو دولت مشترکہ کا سربراہی اجلاس پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہو گا‘ پاکستان دولت مشترکہ کے رکن ممالک سے اقتصادی تعاون بڑھا کر اپنی معیشت کو بہتر کر سکتا ہے‘ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ سری لنکا کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

0 comments

Write Down Your Responses