اسلامی یونیورسٹی تباہی کے دہانے پر ۔۔۔!


(تحریر:عتیق الرحمن (اسلام آباد
مولانا روم اپنی مثنوی میں ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ’’کل رات کا واقعہ ہے کہ ایک ضعیف العمر بزرگ چراغ ہاتھ میں لیے ایسے گھوم رہے تھے کہ گویا کسی گمشدہ چیز کو تلاش کر رہے ہوں ۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں انسان تلاش کر رہاہوں ۔میں نے کہا کہ انسانوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کی تلاش کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں درندوں اور جانوروں کے ساتھ رہ رہ کر تنگ و عاجز آچکا ہوں اسی لیے اب میں خداترس ،طاقتور اور انسان دوست کو تلاش کر رہاہوں۔مولانا نے ان بزرگ سے فرمایا کہ اب آپ عمر کے آخری حصے میں ہیں جائیں اپنے گھر میں، اس معاشرے میں ایسے انسان کا ملنا مشکل ہے کیوں کہ یہ جستجو میں بھی کر چکاہوں۔تو ان بزرگ نے جواب میں کہا کہ بیٹاآپ نے میرے کام کو آسان تر کردیا ہے۔ میری زندگی کا معمول یہ ہے کہ میں جس چیز کے بارے میں سنتاہوں کہ اس کا ملنا مشکل ہے تو میں اس کی تلاش بھی اسی قدر زیادہ کردیتاہوں، لہذا اب میں انسان کی تلاش اور زیادہ کردوں گا‘‘(آدمیت سے بغاوت از مولنا ابولحسن علی ندویؒ ) 
اس تمہیدی واقعہ کی روشنی میں اپنی آج کی مختصر گذارشات پیش کروں گا۔عام انسانی معاشرے سے بہتری کی امید و توقع رکھنا شایدبے فائدہ ہو مگر جن افراد،اداروں اور تنظیموں پر ایک خاص محنت کی گئی ہونیزان پر ان کی زندگی و بقا کے حقیقی مقاصد واضح کردئیے گئے ہوں،موجودہ دور میں ان سے بھی نیک و بہتر زندگی کی امید وابستہ رکھنا محال یا کم از کم مشکل ہوچکا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ افراد، ادارے اور تنظیمیں بھی ارد گرد کی طرح اپنے مقاصد اصلیہ سے کھلی روگردانی اختیاکرچکے ہیں۔
اسلامی یونیورسٹی ملک پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جو خالص ایک نظریہ کے تحت قائم کی گئی تھی۔تفصیلات سے قطع نظر اس یونیورسٹی کے قیام کا واحد مقصد مسلم امہ کو عصر حاضر کی ضرورتوں سے مسلح مخلص و نیک اور اسلام کے اصولوں کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے والی عملی قیادت کی فراہمی تھا۔مگر افسوس زمانے کے تھپیڑوں نے اس یونیورسٹی کو اپنی منزل سے بتدریج دور سے دور تر کر دیا۔اسلامی یونیورسٹی میں مادیت پرستی اس قدر غالب آگئی کہ اس یونیورسٹی کا ہر فرد استاد ہویا انتظامیہ یا ملازم ہو یاطالب علم دولت کی ریل پیل کو اپنی منزل اصلی گردان بیٹھاہے۔اسلامی یونیورسٹی میں ملت اسلامیہ کی اجتماعیت کی کوئی فضاقائم نہیں اور نہ ہی ملت کی اجتماعیت کا کوئی تصور یہاں پنپ رہا ہے،انتظامیہ،طلبہ،اساتذہ کی کثیر تعداد مختلف سیاسی و مذہبی ،قومی و لسانی اور علاقائی و صوبائی نفرتوں میں منقسم ہوچکے ہیں۔اس بات کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ اسلامی یونیورسٹی وہ واحد یونیورسٹی ہے جس میں اس کے قیام کے تیس سال مکمل ہونے کے باوجودباضابطہ مسجد موجود نہیں کہ جس سے اجتماعیت کی فضاقائم کرنے میں مدد مل سکے۔اسلامی یونیورسٹی میں ماسوائے اصول الدین ، عربی اور کسی قدر شریعہ اینڈلاء میں کسی حدتک شریعہ یعنی اسلام کے اساسی اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے، باقی تمام شعبہ جات میں اسلام ہر لحاظ سے شجر ممنوع کی حیثیت اختیار کرچکاہے۔اور ان مذکورہ تینوں شعبہ جات کوبھی مکمل طور پر استثنا نہیں دیاجاسکتا کیوں کہ عملًا تو یہاں بھی اسلامی اصولوں سے انحراف موجود ہے ۔اساتذہ صرف خانہ پری کے طور پر طلبہ کو چند عربی کے الفاظ سکھادیتے ہیں جن کی ضرورت ضمنی ہے،مگر اسلامی معاشرت ،اسلامی اخلاقیات و صفات اور اسلام کی اساسی تعلیمات سے صرف نظر کیا جاتاہے۔کئی مقامات پراساتذہ طلبہ کو یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ اسلامیات یا عربی آپ کے شعبے سے منسلک سبق نہیں ہے اس لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں آپ پاس ہوجاؤ گے۔اسلامی یونیورسٹی میں مسلک پرستی ،سفارش و اقربا پروری کاکلچر بھی مقام عروج پر ہے ۔یہ امربھی باعث تشویش ہے کہ اساتذہ کی تقرری میں بھی خیانت کی جاتی ہے۔میری معلومات کے مطابق بعض اساتذہ وطلبہ کلاسوں میں طلبہ کو فحش قسم کے قصے و کہانیاں سنانے،کلاس میں رقص کرنے اور واقعات سنانے میں وقت گذارتے ہیں۔اساتذہ یا تو بداخلاق اور کام چور ہوتے ہیں یاپھر وہ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو اپنے مضمون سے متعلقہ مواد رٹوادیااور پیسے جیب میں ڈال لیے نیز ایسے اساتذہ نے اپنی اسلامی و انسانی حیثیت و شناخت کو فراموش کربیٹھے ہیں۔ا سلامی یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق سہولیات کی فراہمی کا تو انتظام کیا جاتاہے مگر افسوس کہ ان کے استعمال کے فوائد و نقصانات سے طلبہ میں بذریعہ اساتذہ یا انتظامیہ کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔اسلامی یونیورسٹی میں ہر مقام و ہر فرد پیسے کی ریل پیل میں مشغول و مصروف نظر آتاہے۔ انتظامیہ کو فیسوں سے غرض،اساتذہ کو اپنی بھاری بھر تنخواہوں سے غرض اور طلبہ کو فیسیں جمع کرانے سے سروکارہے ۔اس امر کو سمجھنے یا سوجنے کے لیے کوئی لمحہ بھر تیار نہیں کہ یہ پیسے لینے اور دینے کے بعد ہم پر کونسی ذمہ داریاں یا کونسے فرائض لازم ہوجاتے ہیں جن کا پوراکرناضروری ہے۔اسی وجہ سے باقی روایتی جامعات کی طرح اسلامی یونیورسٹی سے بھی انجینئر،بزنس مین،وکیل، پروفیسر،ماہرنفسیات ،ادیب سمیت بہت سے علوم و فنون کے ماہر تو ہر سال نکلتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اچھامسلمان،یا پھر مولانا روم کی زبان میں اچھاتو کجا’’انسان‘‘نام کی کوئی چیز پیدا ہونے سے قاصر ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں صرف پیسے کے لین دین کا مروجہ کاروبار ہے ،حقیقی معنوں میں توتعلیم یہاں دی ہی نہیں جاتی ،اور اس پر مزید تف یہ ہے کہ اسلامی و انسانی ،فکری و نظریاتی تربیت سے عمداًچشم پوشی اختیار کی جاتی ہے۔اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ میں ایسی گندیں بھیڑیں بیٹھی ہیں کہ جن کے کردار کو دیکھ کرایک باعزت انسان اور ادنی مسلمان کا سر شرم کے مارے جھک جاتاہے،کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر قائم ادارے میں اسلام تمسخر کا نشان بن چکا ہے۔میرا اشارہ چیف لائبرین سکینڈل سمیت متعدد شرمناک اور گھناؤنے واقعات کو چھپانے اور دبانے کی جانب ہے۔اسلامی یونیورسٹی میں بہت سے ایسے نااہل افراد موجود ہیں جن پر پی ایچ ڈی کے مقالے میں علمی چوری کے الزامات ثابت ہیں(اس سے متعلق تفصیلات متعدد بار اخباروں میں بھی آچکاہے) ۔ یہاں کے منتظمین وہ لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی ذمہ داری کو ایک لمحہ کے لیے بھی پورا نہیں کرتے مگر بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔اسلامی یونیورسٹی میں صدر جامعہ سے لے کر چپڑاسی تک سب کے سب عملاً طلبہ کا مذاق و تمسخر اڑانا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں(صدر جامعہ نے طلبہ اور اپنے مابین تفریق کی مضحکہ خیز دوریاں پیدا کر رکھی ہیں)۔ہر ایک اپنے عہدے اور جاہ و منصب کے گھمنڈ میں طلبہ کی تحقیر کرتانظرآتاہے۔اسلامی یونیورسٹی میں منشیات کا استعمال،فحش فلمیں وڈرامے سرِ عام دیکھنے اور تنظیموں کی جانب سے ایک دوسرے پر بالادستی کا شرمناک بازاربھی بام عروج پر ہے ۔یونیورسٹی انتظامیہ کے کسی فرد میں یہ ہمت نہیں کہ طلبہ کو ان سماجی و معاشرتی محرمات و منکرات سے منع کر سکے کیوں کے روکنے والوں کے اپنے دامن گندگی سے داغدار ہوچکے ہیں۔اچھے لوگوں کواس یونیورسٹی میں (جو آٹے میں نمک کی مثل ہیں) کام کرنے کی کسی طور پراجازت نہیں(ان کے راستے میں طلبہ تنظیمیں،اساتذہ اور انتظامیہ میں موجود سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد روکاوٹ ہیں)۔یونیورسٹی کے چند منتظمین سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا ،حد تو یہ ہے کہ ایک شخصیت نے یہاں تک کہہ دیا کہ اس یونیورسٹی میں کوئی اچھا اور باعزت انسان آنے یا تدریس و انتظام سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ،کیوں کہ یہ یونیورسٹی بدنام ہوچکی ہے۔اس یونیورسٹی میں سیاست ومادیت کارائج الوقت سکہ اپنے عروج پر ہے، اسی لیے فی الحال نااہل لوگوں سے کام چلایاجارہاہے۔اسلام کے نام پر اس یونیورسٹی میں درجنوں تنظیمیں کام کررہی ہیں مگر ان تمام کا مجموعی اثرایک فیصد بھی یونیورسٹی کے ماحول پر نظر نہیں آتا۔اسلامی یونیورسٹی میں کوئی طالب علم کسی سے اسلام کی تعلیمات سے متعلق بات چیت کرنا چاہے تو اس کو یا تو طالبان سمجھا جاتاہے یا پھر’’ اسلام کا ٹھیکیدار‘‘کا مروجہ جملہ کس کراس سے دوری اختیار کرلی جاتی ہے(جب کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کسی مولوی یا مذہبی فرد کی میراث و جاگیر نہیں بلکہ اسلام تاقیامت لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ و سرچشمہ ہے اور انسانی زندگی کے گزارنے کا الہی ضابطہ حیات ہے )اگر میں یوں کہوں تو بیجانہ ہوگا کہ اسلامی یونیورسٹی میں اسلام کوہر فرد اپنے کرداروعمل سے مظلوم اور متروک کر چکاہے۔ 
ماقبل واقعات اس امر کی جانب راہنمائی کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں کہ اس یونیورسٹی سے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو بتدریج خارج کیا جارہاہے۔مادیت پرستی،مفادات پر مبنی تعلق،ذاتی بالادستی،خواہش نفسانی کا عنصر یونیورسٹی کے اساتذہ ،انتظامیہ اور طلبہ میں تیزی کے ساتھ متعدی جراثیم کی مانند داخل ہوتا جارہا ہے۔انہی اسباب کے باعث اسلامی یونیورسٹی اپنی شناخت، تشخص اور یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ اپنے اساسی مقاصدسے انحراف کی راہ پر گامزن ہے ۔راقم یہ سمجھتاہے کہ اگریونیورسٹی سے اسلام و انسانیت کے تعلق کو معدوم کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہاتو اسلامی یونیورسٹی کو تباہی و بربادی اور ذلت و پستی میں گرنے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ میں نے اختصار کے ساتھ چند اہم خامیوں کی نشاندہی کی ہے، مزیدتفصیلات دوسری تحریر کے ذریعہ حوالہ قرطاس کروں گا ۔
اہم وضاحت
مندرجہ بالاتحریر قرآن پاک کے اصول( تواصوبالحق)اورمشہور قول’’ تنقید برائے اصلاح ‘‘کے پہلوکو سامنے رکھتے ہوئے ضبط قلم کی گئی ہے اس تحریر سے کسی بھی طرح یونیورسٹی کو بدنام یا خراب کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کی گئی بلکہ جو قابل اصلاح باتیں تھیں ان کی نشاندہی پہلے بھی انتظامیہ کو وقتاًفوقتاً کرائی جاتی رہی ہے اوراب مایوسی کے سبب بااختیار اور درد دل رکھنے والے مسلمانوں کے سامنے پیش کی جارہی ہے تاکہ ان کوتاہیوں پر قابوپالیاجائے۔آخر میں علامہ اقبالؒ کے اس پیغام کوجو کہ یونیورسٹی کے اساتذہ،طلبہ،انتظامیہ سمیت تمام افراد کے لیے ان حالات میں راہنماہے رقم کر کے اپنی بات ختم کرتاہوں۔۔۔:
؂ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

0 comments

Write Down Your Responses