ہڑتال کی وجہ سے ٹاولز سیکٹر کے6 ہزار برآمدی کنٹینرز کی ترسیل رک گئی

کراچی( انویسٹی گیشن سیل) ایڈوانس ٹیکس شرح کم کرنے پراتفاق کے بعد ایف بی آر کی جانب سے مطلوبہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے، جلائی گئی گاڑیوں کا26 کروڑ روپے مالیت کے معاوضے سمیت دیگر چند مطالبات پورے نہ ہونے کے باعث منگل کو چھٹے روز بھی ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری رہنے سے درآمدی و برآمدی سرگرمیاں منجمد رہیں۔
جس کے نتیجے میں دونوں بندرگاہوں اورنجی کنٹینرٹرمینلز پر کنٹینرز رکھنے کی گنجائش ختم ہو گئی اورتقریباً 17 ہزار کنٹینرزکے انبارلگ گئے۔ اپٹما کے سینٹرل چیئرمین  نے کو بتایا کہ ہڑتال کے باعث صرف ٹیکسٹائل سیکٹر میں21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت کا برآمدی نقصان ہوگیا ہے اور اگر ہڑتال مزید جاری رہی تو ٹیکسٹائل سیکٹر کو یومیہ بنیادوں پر مزید 3 کروڑ60 لاکھ ڈالر کے برآمدی نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخارملک نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے ٹاولز سیکٹر کے6 ہزار برآمدی کنٹینرز کی ترسیل رکی ہوئی ہے، ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ایسے موقع پر کی ہے کہ بیرونی دنیا میں نئے سال اور کرسمس کی تعطیلات قریب ہیں اور ان تعطیلات سے قبل بیرونی خریداروں کو پاکستانی مصنوعات کی ترسیل ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیرونی خریدار ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی بروقت ترسیل نہ ہونے پر معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور معاہدے منسوخ ہونے کی صورت میں پاکستانی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کروڑوں ڈالر مالیت کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان میں محرم الحرام کے دوران دہشت گرد جاری ہڑتال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورممکنہ دہشت گردی کے امکانات کے پیش نظر بھرے ہوئے کنٹینرزکو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں اس نوعیت کی اچانک ہڑتال شروع کرنے کی مثال موجود نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں بھی برآمدی کنسائنمنٹس کی ترسیل کے لیے خصوصی سیل قائم ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال میں فوری مداخلت کرتے ہوئے فی الفور ہڑتال ختم کرانے کی حکمت عملی اختیارکرے۔

مختلف تجارتی وبرآمدی تنظیموں کی اپیل پرکراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی، نائب صدر ادریس میمن نے ہڑتالی ٹرانسپورٹرز کے نمائندے شعیب خان ودیگر کے ساتھ منگل کو مذاکرات کا آغاز کردیا ہے جس میں ٹرانسپورٹرزکی مشاورت سے مطالبات کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز نے پیر کو گورنرہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں نے پہلے بھی ان کے مطالبات زبانی طور پر تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات سے گریز کیا اور اس بار بھی ہڑتالی ٹرانسپورٹرز کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جارہا ہے لیکن ٹرانسپورٹرز نے حتمی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب براہ راست وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے مطالبات کی تحریری منظوری کے بعد ہی ہڑتال کی کال واپس لیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی چیمبر میں ٹرانسپورٹرز کی مشاورت سے مطالبات کا مسودہ مرتب کیا جا رہا ہے جسے براہ راست وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ کو ارسال کیا جارہا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے سیکریٹری جنرل شعیب خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف بذات خود ماڑی پور اورناردرن بائی پاس کا دورہ کر کے حقائق سے آگہی حاصل کریں۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے کراچی پورٹ پر 17 بحری جہاز لنگرانداز ہیں جبکہ 5 بحری جہاز برتھوں کے حصول کے منتظرہیں، اسی طرح پورٹ قاسم پر 7 مال برداربحری جہازوں کو اگرچہ برتھیں حاصل ہو گئیں لیکن مزید6 بحری جہاز کھلے سمندرمیں موجود ہیں، گزشتہ 6 روز میں ہزاروں کنٹینرز کے انبار لگ گئے ہیں، اگر ہڑتال جاری رہی تو بندرگاہ اور ٹرمینل پر کنٹینرز رکھنے کی گنجائش مکمل ختم ہو جائیگی۔

0 comments

Write Down Your Responses