انسداد پولیو کی قومی مہم کے دوران 5سال سے کم عمر ہر بچہ کو ہر بار پولیو کے 2قطرے پلائے جائیں : ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر عمران سکندر بلوچ

بہاول پور ( ڈپٹی انچارج انویسٹی گیشن سیل) انسداد پولیو کی قومی مہم کے دوران 5سال سے کم عمر ہر بچہ کو ہر بار پولیو کے 2قطرے پلائے جائیں۔ یہ بات ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر عمران سکندر بلوچ نے طبیہ کالج بہاول پور میں انسداد پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ا س موقع پر ڈی سی او عمران سکندر بلوچ ، ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر احسان اللہ وڑائچ، اے سی سٹی مسز عمرانہ اجمل،ڈی ڈی او تعلیم اشفاق گجر نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ انسداد پولیو کی قومی مہم پاکستان بھر میں 18نومبر سے لے کر 22نومبر تک جاری رہے گی جبکہ پہلے 3دن گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اور آخری 2دن میں قطرے پینے سے رہ جانے والے بچوں کو تلاش کر کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ای ڈی او ہیلتھ نے بتایا کہ مہم کے دوران5سال سے کم عمر 5لاکھ45ہزار198بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے ضلع بھر میں 1284ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں سے 1019ٹیمیں موبائل، 145ٹیمیں فکسڈ مقامات ، بنیادی مراکز صحت، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، دیہی مراکز صحت، میونسپل ڈسپنسریزپر تعینات رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ 105ٹیمیں ٹرانزٹ مقامات ، بس اڈے، ریلوے اسٹیشنز، ٹول پلازہ پر اپنی خدمات سر انجام دیں گی۔ای ڈی او ہیلتھ نے بتایا کہ 15ٹیمیں ضلع بھر کی مصروف مارکیٹوں میں خواتین کے ہمراہ آنے والے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مہم کی مانیٹرنگ کے لئے 226ایریا انچارج، 108یونین کونسل ایم او، 6تحصیل سپر وائزرز سمیت مجموعی طور پر 2698افراد اس مہم میں حصہ لیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ احمد پور شرقیہ کی 31، بہاول پور شہر کی 19، بہاول پور تحصیل صدر کی 18، حاصل پور کی 14، خیر پور ٹامیوالی کی 8 اور یزمان کی 18یونین کونسلز میں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 6مقامات منڈی بہاؤالدین، شیخو پورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال اور میانوالی میں پولیو کے وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔آخر میں ڈی سی او عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ پولیو کے وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے خدشہ کو کسی طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس موسم میں قبائلی علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر کے یہ وائرس میدانی علاقوں میں منتقل کر دیتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اب پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔

0 comments

Write Down Your Responses