حکومت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے 3 سینئر ججز پر مشتمل خصوصی عدالت تشکیل دے دی ہے

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) حکومت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے 3 سینئر ججز پر مشتمل خصوصی عدالت تشکیل دے دی ہے۔
 وزیر اعظم نواز شریف نے غیرملکی دورے سے واپسی کے فورا بعد سابق صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کی خلاف ورزی کے مقدمے کی سماعت کیلئے خصوصی عدالت تشکیل دینے کے حوالے سے سمری منظور کر لی۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ خصوصی عدالت کے سربراہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب ہوں گے جب کہ دیگر ججز میں بلوچستان ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس طاہرہ صفدر اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس یاوور علی شامل ہیں، خصوصی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کرے گی۔
 حکومت کی جانب سے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وزارت قانون وانصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے خصوصی ایلچی کے ذریعے خصوصی بینچ تشکیل دیئے جانے سے متعلق خط رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام بھجوایا گیا تھا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے جرائم پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے تاہم اس وقت حکومت کو کئی مشکلات درپیش ہے اس لئے یہ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ کا رجسٹرار آفس چیف جسٹس آ ف پاکستان کے سامنے یہ معاملہ رکھے اور وہ 3 رکنی ٹربیونل تشکیل دے کر اس میں شامل اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے ناموں کا اعلان کریں اور اس کا سربراہ بھی نامزد کریں۔

0 comments

Write Down Your Responses