بھتہ پرچی،اغواء برائے تاوان،ٹارگٹ کلنگ اورکریکرحملوں سے شہرقائدکے35ہزارسے زائد تاجراندرون ملک یا بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں: ناہید حسین

کراچی ( انویسٹی گیشن ٹیم ) ا ربن ڈیمو کریٹک فرنٹ کے بانی و چیئرمین ناہید حسین نے کہاہے کہ بھتہ پرچی،اغواء برائے تاوان،ٹارگٹ کلنگ اورکریکرحملوں سے شہرقائدکے35ہزارسے زائد تاجراندرون ملک یا بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں کراچی میں تقریباً550سوچھوٹی بڑی مارکیٹیں ہیں جن میں 80%فیصدموجودہ حالات سے سخت متاثر ہیں سب سے زیادہ متاثراولڈ سٹی ایریاکی مارکیٹس ہیں جہاں ماہانہ بھتہ بانددیاگیاہے کراچی میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں تاجروں کومسلسل نشانہ بنایاجارہاہے اورکوئی پرسانِ حال نہیں حکمراں اور اپوزیشن طالبان طالبان کاکھیل کھیل رہے ہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے تاجروں کے ایک وفد سے ملاقات میں کیاوفدکی قیادت شکیل دبئی والاکررہے تھے ناہید حسین نے مزیدکہاکہ گزشتہ سال بھتہ خوروں کے ہاتھوں 50تاجرہلاک اوردرجنوں اغواء ہوئے جبکہ کروڑوں روپے بھتے کے نام پروصول کئے گئے اوربھتہ مافیااب صرف ایک علاقے کانہیں بلکہ اب پورے کراچی کا مسئلہ بن گیاہے اگر ان کے خلاف سخت اقدامات نہیں کئے گئے تو صعت وتجارت تباہ ہرکررہ جائے گی کیونکہ کراچی کا مسئلہ بہت پیچیدہ صورت اختیارکرچکاہے اوراس کا واحد حل جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کاروائی سے ہی ممکن ہے انہوں نے کہاکہ ساحل سمندر پر آبادشہرقائدکئی برسوں سے بارود کے ڈھیرپرکھڑاہے جبکہ سمندر کنارے پر رہنے والے لوگوں کا مزاج توآبی ہوناچاہیے تھانہ جانے اس قدرآتشی کیسے ہوگیاکہ وہ صرف بارود بنانے اوربرسانے لگے اسلامی تہذیب مٹ کر رہ گئی کوئی انسان نہ رہانہ کوئی مسلمان شہرایک خوفناک جنگل کی شکل اختیارکرچکاہے اور یہاں جنگل کاقانون نافذ ہے انہوں نے کہاکہ سمجھنے میں نہیں آتاکہ وہ کون ہیں جو ان قاتلوں کی پشت پناہی کررہاہے؟آخر لیاری میں راکٹ لانچرزسمیت جدیدہتھیارکیسے پہنچ گئے؟؟اب صرف توپوں اورٹینکوں کے آنے کی کمی باقی رہ گئی ہے باقی ہرطرح کے تباہ کن ہتھیارتو کراچی کے ہر علاقے میں بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں تاجروں ،دکانداروں،صنعتکاروں اوردیگراہلِ ثروت افراد سے کھلے عام بھتہ وصول کیاجارہاے انہیں جس طرح پرچیوں میں باقاعدہ فون نمبر دیئے جارہے ہیں بھتہ نہ دینے والے تاجروں اور صنعتکاروں کی دکانوں کاروباری مراکز اورگھروں پر دستی بموں سے حملے کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح کراچی میں بڑے پیمانے پر بھتہ خوری،اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ہورہی ہیں جس طرح بڑے پیمانے پراسٹریٹ کرائمز ہورہے ہیں اس سے تو یہ پتہ چلتاہے جیسے کراچی کوکرمنلز نے ٹیک اورکرلیاہو ۔ناہید حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا،کہ کراچی ملک کی شہ رگ ہے اسے ہم سب کو بچاناہوگاہر دن جلتاہواکراچی کوبارود کے دھانے سے اتارنا ہوگااوراسے 1970 ؁ ء کی دہائی کاپرامن خوبصورت کراچی بنانا ہوگاناہید حسین نے آخر میں کہاکہ ہم انڈیا،اسرائیل اور امریکاکواپنی بربادیاورتباہی کا ذمے دار قرار دیتے ہیں جوکہ غلط ہے پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہم خود ہیں ملک توڑنے کی سازشیں ہم کرتے ہیں ملک میں موجود ہرقسم کے مذہی ،لئیسانی،گروی اورقبائلی تعصب کی ذمے داری بھی صرف ہم پر عائد ہوتی ہے پاکستان کی معاشی تباہی سے لیکرسماجی بربادی تک صرف اور صرف ہمارا ہی ہاتھ ملوث رہاہے ہم اپنے ملک کو66سالوں میں بھی کوئی ایک مربوط نظام دینے سے قاصررہے ہیں۔ہم اپنے شہروں کی تباہی پر سیاست کررہے ہیں بھوک،پیاس،غربت اورگولیوں سے چھلنی معصوم اور بے گناہوں لوگوں لاشوں کواپنا اپنا ووٹرزبتاتے ہیں ہمیں شرم بھی نہیں آتی انہوںے کہاکہ ان سیاسی جماعتوں کو یہ با ت سمجھ لینی چاہیئے کہ ان کی صفوں میں گھسنے والے جرائم پیشہ افراد نہ صرف کراچی بلکہ خودان جماعتوں کے لئے بھی نقصان کا باعث ہیں لہٰذا ہر جماعت کو چاہیئے کہ وہ کراچی آپریشن کی حمایت جاری رکھے 

0 comments

Write Down Your Responses