بلوچ رہنما اور سابق وفاقی وزیرسرداریارمحمدرندنے کہاہے کہ بلوچستان میں 11 مئی کے عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی سلیکشن کی تیاری کی جارہی ہے

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) بلوچ رہنما اور سابق وفاقی وزیرسرداریارمحمدرندنے کہاہے کہ بلوچستان میں 11 مئی کے عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی سلیکشن کی تیاری کی جارہی ہے۔
بیوروکریسی چاہتی ہے کہ امن پسندلوگ بھی بندوق اٹھاکرپہاڑوں پرچڑھ جائیں، وزیراعلیٰ بھی بیورو کریسی کے سامنے بے بس ہوگئے ہیں۔ ناراض بلوچ رہنمائوں کومذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت کے سامنے امن وامان کاقیام سب سے بڑاچیلنج ہے۔زلزلے سے متاثرہ ضلع آواران میں لوگ کھلے آسمان تلے امدادکے منتظر ہیں، صوبے کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کو پینے کاصاف پانی بھی میسر نہیں۔
انھوں نے کہاکہ 11 مئی کے انتخابات کے نتائج پر تمام سیاسی جماعتوں نے تحفظات کااظہارکیا اوردھاندلی کے ثبوت بھی پیش کیے گئے اگر اس مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں بھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرزکوبے لگام چھوڑا گیا تو مستقبل کی سیاست پراس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ اگرطالبان سے مذاکرات ہوسکتے ہیں توناراض بلوچ رہنماؤں سے کیوں نہیں ہوسکتے، حکومت فوری طورپرمذاکرات کاراستہ اختیار کرے تاکہ صوبے کے حالات بہترہوںاورملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان بھی ترقی کرسکے۔

0 comments

Write Down Your Responses