دوران حراست مجھے نشہ آور ادویات دے کر بیان لیے گئے


کراچی(ایم وی این نیوز)ڈاکٹر عاصم حسین نے رہائی پانے کے بعد پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہاہے کہ حراست کے دوران مجھے نشہ آور  دے کر  بیان لیا گیا،مجھے آج تک یہ پتا نہیں کہ مجھ پر الزام کیا ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مجھ پر لگائے گئے الزامات سیاسی تھے،جن کا کوئی وجود نہیں۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران آنکھوں پر پٹی بندھی ہو تی تھی اس لیے مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں پر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں انٹرویو کے دوران بہت سی باتیں نہیں بتاﺅں گا،مجھے پتا تھا کہ پاکستان واپسی پر سابق آصف زرداری کے قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا جاسکتاہے،گرفتاری کے بعد مجھ سے آصف زرداری کے متعلق بہت سوال کیے گئے۔کمر میں درد کی وجہ سے علاج جانے کے لیے باہر جانا چاہتا ہوں لیکن مجھے جانانہیں دیا جا رہا، ان کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش کے دوران مجھے پر ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیاہے ،جس کے اثرات اب تک برادشت کر رہا ہوں۔462ارب روپے کی کرپشن کے کیسز سب جھوٹ کا پلندہ ہیں،میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
عاصم حسین کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے ،ضیاالدین سے کیسے منی لانڈرنگ ہو سکتی ہے۔نجی بینک نے سروے کے دوران کہا ہے کہ اس میں کوئی بھی غلط شامل چیز ہے۔آصف زرداری کے بزنسز کے معاملات میں مجھے کچھ نہیں پتا،میں کس کی تحویل میں تھا میں نہیں بتا سکتا،مجھے آنکھوں پر پٹیا ں باندھ کر تہ خانے میں رکھا گیا،وہاں سادہ لباس میں ملبوس اہلکار مجھ سے تفتیش کرتے تھے ،ان کی ویڈیو بیان کے بارے میں ان کاکہنا تھا کہ وہاں موجود سادہ کپڑے میں ملبوس لوگ مجھ سے مخاطب تھے۔
دہشت گردوں کے علاج کے حوالے سے بنائے گئے کیس کا مجھے کچھ نہیں پتا ،جب رہا ہوا تو اس وقت پتا چلا کہ مجھ پر یہ الزام بھی لگایا گیاہے
انہوں نے لوگوں کے بیانات کو میرے خلاف توڑ مروڑ کو بیان پیش کیا گیا ہے،بے بنیا د مقدمات بنائے ہیں عدالت میں اپیل کر رکھی ہے
آصف زرداری سے پہلی ملاقات کے دوران میں نے ان سے رونا رویا،ان سے کہا کہ پورے پاکستان میں صرف ڈاکٹر عاصم حسین ہی ملا،جس کے جواب میں انہوں نے مجھ سے کہا صبر کرو ۔
سیاسی میدان میں میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا،ہم اپنا کام کر رہے ہیں ،چاہے وہ سیکورٹی کا مسئلہ ہو،پا نی کا ،سیوریج کا ہو اہم ہر مسئلے پر اپنی آواز اٹھارہے ہیں۔
پورے پاکستان سے لوگ روزی کے حصول کے لیے کراچی آرہے ہیں ،جس کی وجہ سے یہاں کے وسائل میں کمی آئی ہے ،اگر یہ سلسہ ایسا ہی جاری رہا تو کراچی کے لیے بہت مسائل ہو جائیں گے۔
نواز شریف کو میری بددعا لگی ،چوہدری نثار نے ان سب معاملات کا ماسٹر مائنڈ ہے،مجھے جو شخص ہتھکڑی لے کر گیا تھا اسے کینسر ہو گیا ،اس کی موت بھی ضیاالدین ہسپتال میں ہوئی۔عزیر بلوچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میری کبھی بھی ان سے بات نہیں ہوئی،کیونکہ وہ مجھے جانتے تھے کہ میری طبیعت کیسی ہے ،میرے ہسپتال میں کس،کس کا علاج ہو رہا ہے میں نہیں جانتا۔

,

0 comments

Write Down Your Responses