چین کے ساتھ جنگ، بھارت کس سے امیدیں لگائے بیٹھاہے


بیجنگ(ایم وی این نیوز)بھارت اور چین مابین بڑھتی کشیدگی پر بین الاقوامی خاص طور پر چین کے میڈیا نے بھارتی موقف پر سوالات اٹھا دیئے، بھارت شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے ، بھارت چینی مصنوعات کی خریداری نہیں کرے گا تو اپنا نقصان کرے گا،چینی میڈیا نے انڈیا میں انگریزی اخباردی ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے جس کی ہیڈ لائن ہے ناراضگی کے باوجود چین جنگ نہیں چاہتا۔بھارت کو یقین،چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی ویب سائٹ پر اس سے متعلق مضمون کی ہیڈلائن کے ساتھ لکھا ہے کہ ’چین جنگ نہیں چھیڑے گا یہ طے ہے، گلوبل ٹائمز اس پر لکھتا ہے کہ بھارت ایسا کونسا منتر پڑھ رہا ہے جو اسے یقین ہے،تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا میں بھارتی دفاعی اداروں کے موقف پر چین سمت دنیا بھر کے میڈیا پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت کو کون سی قوت بتا رہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔چینی روزنامہ گلوبل ٹائمز اس میں اپنا حصہ بخوبی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم حیران ہیں کہ انڈین دفاعی ادارے میڈیا میں دعوے کر رہے ہیں کہ چین کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ دہلی خود بدترین حالات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن بھارت کے عوام کو بہترین دنوں کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنگ کے 55 برس بعد بھی بھارت نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان لوگوں نے سبق نہیں سیکھا ہے۔چین کے سرکاری اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت کو لگتا ہے لڑائی میں امریکہ ان کی مدد کرے گا اور چین پر نفسیاتی دباؤ ڈالے گا۔ شاید ان کو یو ایس گریٹ پاور گیم کے بارے میں کچھ نہیں معلوم نہیں ہے۔بھارت شاید شاید چین کے خلاف لڑائی میں سپائڈر مین، بیٹ مین اور کیپٹن امریکہ سے مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے۔چین میں پاکستانی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کی اس خبر کو بھی کوریج دی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈیا نے آخرکار چین کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور چھہ اگست کو ڈوکلام سے فوج ہٹا لی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ انڈیا نے ڈوکلام سے اپنی زیادہ تر فوج ہٹا لی اور سرحد پر صرف پچاس فوجی ہی تقعینات ہیں۔اس سے قبل چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے بیان دیا تھا کہ دو اگست تک ڈوکلام میں انڈین فوجیوں کی تعداد 400 سے کم ہو کر 48 ہو گئی تھی۔ تاہم انڈین اہلکاروں نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔بی جے پی کے اہلکاروں کی طرف سے انڈیا میں چینی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کا چین میں خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ چینی میڈیا میں بھی اس موضوع کو توجہ دی گئی ہے۔گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے ’کچھبھارتی ادارے انبھارتی فوجیوں کے لیے جھنڈے لہرانے اور جنگ کی نعرے لگانے سے بعض نہیں آ رہے ہیں جو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر گئے اور اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں۔ایک چینی نے لکھا ’چین میں بننے والا سامان نہیں خریدیں گے؟ کیا آپ کے پاس کوئی اور راستہ ہے؟ایک دوسرے چینی نے لکھا کہبھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک کے تاجر چینی اشیا اس لیے خریدتے ہیں کیوں کہ یہاں کا سامان سستہ اور اچھے معیار کا ہے۔ آپ اپنا راستہ خود کاٹ رہے ہیں۔۔

,

0 comments

Write Down Your Responses