مسجد اور مدرسہ بنانے کے نام پر جعل سازی سے مولوی ذاکر الرحمن نے بزرگ خواتین کا پلاٹ ہتھیا لیا


لاہور (ایم وی این نیوز)ماڈل ٹاؤن میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہائشگاہ کے قریب مسجد اور مدرسہ بنانے کے نام پر جعل سازی سے مولوی ذاکر الرحمن نے بزرگ خواتین کا پلاٹ ہتھیا لیا، مقدمات کی پیروی سے روکنے کیلئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،متاثرہ خواتین نے پلاٹ ہتھیانے والوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کردی اور دھمکی دی ہے کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم وزیر اعلی ہاؤس کے باہرخود سوزی کرلیں گی۔تفصیلات کے مطابق ماڈل ٹاؤن کے علاقے 141ایچ بلاک کی رہائشی خواتین بشریٰ ایاز اور اشرف بیگم نے اپنے وکیل مدثر حسن رضوی کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شر یف کی رہائشگاہ سے چند قدم کے  فاصلے پر  انہوں نے اپنے  گھر اور پلاٹ پر مسجد اور مد رسہ بنانے کیلئے جگہ وقف کرنے  کا اردہ کیا ،جس پر اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کے سابق صدر حافظ  ذاکر الرحمن نے جعل سازی اور ھوکہ ہی سے ہمارے ملکیتی پلاٹ اور گھر  اپنے اور اپنی ساس نصرت آراء کے نام  کرواتے ہوئے فروخت کر دیئے، جسکے خلاف مقدمات درج ہیں اور اسکی پیروی ہم بوڑھی خواتین کر رہی ہیں مگر مقدمات کی پیروی کر نے پر ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور پولیس بھی تعاون نہیں کر رہی، جسکی وجہ سے ہم میڈیا کے ذریعے احتجاج کر نے پر مجبور ہیں۔ متاثرہ خواتین نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شر یف سمیت تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کر تے ہوئے کہا کہ جس طرح اوورسیز کمیشن کے تحت قبضہ کے کیسوں کی سماعت کی جا تی ہے ہمارے ساتھ جعلسازی کرکے پلاٹ ہتھیانے والوں کے خلاف بھی شفاف اور اعلیٰ سطح تفتیش کی جائے ۔انہوں نے بتایا کہ حافظ  ذاکر الرحمن صدیقی  کی جعلسازی کی وجہ سے ان کی جماعت نے اسے پارٹی سے نکال دیا ہے وہ اب مرکزی جمعیت اہل حدیث العالمیہ کے حافظ طارق محمود یزدانی کے ساتھ مل کر ہمیں دھمکا رہا ہے اور جان سے ما رنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، اور کیسوں کی پیروی سے روک رہا ہے۔متاثرہ خواتین نے کہا کہ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر خود سوزی کر لیں گی۔اس حوالے سے جب حافظ ذاکر الرحمن صدیقی سے ان کے موبائل پر رابطہ کیا گیا تو ان کا فون مسلسل بند جا رہا تھا ،اس حوالے سے وہ اپنا موقف دینا چاہیں تو اسے بھی من و عن پبلش  کیا جائے  گا ۔

,

0 comments

Write Down Your Responses