الم ناک حادثات

کراچی (ایم وی این نیوز) کراچی کے علاقے گارڈن میں اتوار کو گیس سلنڈر لیک ہونے کے باعث مسافر وین میں آگ بھڑکنے کے واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک کی سڑکوں پر لاتعداد ان فٹ گاڑیاں رواں دواں ہیں جو کبھی بھی حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بدنصیب دو بھائیوں کی فیملی چھٹی کے باعث پکنک منانے گڈانی جارہی تھی کہ گیس سلنڈر لیک ہونے سے وین میں آگ بھڑک اٹھی۔ وین ڈرائیور اور آگے بیٹھے بچوں نے تو گاڑی سے اتر کر اپنی جان بچالی تاہم پیچھے بیٹھے 6 افراد باہر نہ نکل سکے اور بری طرح جھلس کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
مذکورہ حادثے سے مترشح ہے کہ گاڑیوں میں ناقص گیس سلنڈرز کا استعمال جاری ہے جب کہ ہر سی این جی ااسٹیشن پر یہ ہدایات واضح درج ہوتی ہیں کہ بغیر ٹیسٹ کیے ہوئے اور غیر معیاری سلنڈرز میں فلنگ نہیں کی جائے گی لیکن نہ صرف یہ غیر معیاری سلنڈرز استعمال ہو رہے ہیں بلکہ کراچی کی شاہراہوں پر دوڑنے والی پبلک بسوں میں بھی ان سلنڈرز کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ ایسی صورت میں یہ بسیں سڑکوں پر دوڑتے پھرتی ان ’’بموں‘‘ کی مانند ہیں جو کبھی بھی پھٹ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے، ٹریفک اہلکار اور مجاز ادارے ان تمام باتوں سے لاعلم ہیں؟ پھر آخر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ رپورٹس سے یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان میں اتنے افراد دہشت گردی سے بھی ہلاک نہیں ہوئے ہیں جتنے حادثات میں ہوچکے ہیں، روز ایک نیا حادثہ پاکستان کے باسیوں کا منتظر ہوتا ہے، کبھی اسکول وین، کبھی آئل ٹینکر، کبھی مسافر بسیں ملک کے ہر شہر، ہر علاقے میں حادثات کا شکار ہو رہی ہیں، سیکڑوں افراد ان حادثات میں لقمہ اجل بن رہے ہیں لیکن احتیاطی تدابیر پھر بھی عنقا ہیں۔
حکومتی بے حسی کی انتہا ملاحظہ کریں کہ اتنے حادثات ہونے کے بعد بھی صرف روایتی بیانات کا چلن عام ہے۔ پارلیمنٹ میں اپنی مراعات میں اضافے کے لیے سب مخالفین ایک پیج پر نظر آتے ہیں اور یک جنبش قلم ان مراعات میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر شاذ ہی کوئی بل پیش کیا جاتا ہے تو اس کے منظور ہونے کے بعد بھی عملدرآمد اور ثمرات نظر نہیں آتے۔ صائب ہوگا کہ فوری طور پر ملک میں ناقص، ان فٹ اور غیر معیاری گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ ڈرائیورز کی تربیت اور عوام میں آگاہی کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ نیز حادثات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر بھی لازم ہیں۔ اسی صورت حادثات کی شرح کم کی جاسکتی ہے۔

,

0 comments

Write Down Your Responses