آئین کے آرٹیکل62ون ایف میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی میں بل لایا جائے گا

اسلام آباد(ایم وی این نیوز) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں ترمیم کے لیے اپوزیشن سے مل کر بل لاسکتے ہیں، اس آرٹیکل کا تعلق صادق اور امین ہونے سے ہے، سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ نے اسی آرٹیکل کے تحت ہی نااہل قرار دیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر ابہام ہے،نواز شریف کی نا اہلی کے ذریعے ایک پراسس کو ڈی ریل کرنے کی سازش کی گئی تھی، جس معاملے سے ملک کا نقصان ہو اس کو سازش ہی سمجھا جائےگا، جو لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے وہ سازش کرتے ہیں، ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کے لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان ”میثاق معیشت “ہونا چاہیے۔میں45دن رہوں یا 10مہینے اس کا فیصلہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت ہی کرے گی۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ” کیپیٹل ٹاک “ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بننے کی خواہش نہیں تھی مگر نواز شریف کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا ، نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ(ن) کے ایم این ایز نے پارٹی کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے ، کوئی بھی ممبر قومی اسمبلی وزیر اعظم کا امیدوار نہیں تھا ،24گھنٹوں کے اندر تمام ممبران ووٹ ڈالنے کے لئے پہنچے ، ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں مسلم لیگ(ن) نے جمہوری عمل کو جاری رکھا اور ملکی نظام کو رواں کردیا ۔میرا نام نواز شریف نے تجویز کیا جس کی تائید تمام ممبران نے کی ہے ،جب میرا نام وزارت عظمیٰ کے لیے منظور کیا گیا تو چوہدری نثار نے بھی اس کی تائید کی بلکہ سب سے زیادہ تائید بھی انہی نے کی تھی۔سابق وزیر وفاقی داخلہ کے ساتھ میرے بہترین تعلقات ہیں ، ہم دونوں ایک ہی علاقے سے ہیںاور انہیں کابینہ کا حصہ ہی سمجھا جائے۔وفاقی کابینہ پر اپوزیشن جماعتیں تنقید کر رہی ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کابینہ کا حجم کم سے کم ہونا چاہیے لیکن جب آپ نے اچھی طرح کام کرنا ہوتا ہے تواس کے لئے وزراءکی ضرورت ہوتی ہے ایک وزیر کے مجموعی ماہانہ اخراجات صرف تین لاکھ ہے۔ نواز شریف کی نااہلی بڑا دھچکا تھا تاہم انہوں نے 2018 کے انتخابات کے دوران ن لیگ کی فتح کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کے انتخابات اپنے وقت پرہوں گے۔
نواز شریف کو بین الاقوامی امور کا وسیع تجربہ تھا ، خواجہ آصف بہترین وزیر خارجہ ثابت ہوں گے: وزیر اعظم
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے جی ٹی روڈ جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خطرات ہر جگہ ہوتے ہیں، اگرسیاست میں رہنا ہے تو ان حالات سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ جتنا بڑا لیڈر ہوتا ہے اس کو اتنے ہی سیکیورٹی خدشات ہوتے ہیں، سازشوں کا مقابلہ سیاست اور عوامی خدمت سے ہوتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین اسمبلی کی خواہش تھی کہ نواز شریف ان کے حلقوں سے ریلی شکل میں گزریں،جی ٹی روڈ کی ریلی احتجاج نہیں نواز شریف اپنے گھر جارہے ہیں۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ نومبر 2017ءتک ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے، مقامی سطح پر کچھ مسائل اور آپریشنل معاملات ہو سکتے ہیں تاہم لوڈ شیڈنگ قطعا نہیں ہوگی اس کو ریکارڈ کرلیں۔خواجہ آصف نے اپنی سابقہ وزارت کے دوران اہم اقدامات کئے ہیں جن پر وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ پاکستان کو اس وقت آبی مسائل کا سامنا ہے اس لئے آبی ذرائع کے لئے الگ وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔خود کار اسلحے کے استعمال کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خود کار اسلحے کے لائسنس دئیے جاتے ہیں ، امریکہ میں بھی اسلحے کے حوالے سے قانون موجود ہے مگر وہاں بھی عام شہریوں کو خود کار اسلحے کا لائسنس نہیں دیا جاتا ،میری کوشش ہے کہ اس حوالے سے پارلیمان میں بل لایا جائے اور خود کار اسلحے کے استعمال پر ملک میں پابندی عائد کی جائے کابینہ اور اسمبلی تعاون کرے تو ہم اس قانون کو منظور کر لیں گے

,

0 comments

Write Down Your Responses