اسرائیل نے ہتھیار ڈال دیے

مقبوضہ بیت القدس(ایم وی این نیوز) اسرائیل نے فلسطینیوں کی مزاحمت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے مسجد اقصی میں داخلی مقامات سے میٹل ڈٹیکٹرز ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے یروشلم میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مقدس مقام کے انٹری پوائنٹس پر لگائے جانے والے میٹل ڈیٹیکٹرز کو ہٹا کر تلاشی کے لیے کم رکاوٹ پیدا کرنے والے جدید آلات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صہیونی کابینہ کے اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کی سفارشات کو منظور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم بن جمن نیتن یاہو نے رات گئے اعلان کیا کہ میٹل ڈٹیکٹرز ہٹا کر جدید ٹیکنالوجی کے دیگر آلات کو استعمال کیا جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایسے جدید کیمرے لگائے جائیں گے جو پوشیدہ اشیا کی نشاندہی کرسکیں گے۔صہیونی حکومت کی جانب سے مسجد اقصی میں مسلمانوں کے داخلے پر لگائی گئی پابندیوں پر فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا جس کے دوران اسرائیلی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جن میں تین فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ فلسطینی مسلمانوں کے جوابی ردعمل میں تین یہودی بھی مارے گئے تھے جبکہ فلسطینیوں کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے میٹل ڈٹیکٹرز لگانے کا مقصد مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے لیکن ایک معاہدے کے تحت مسجد اقصی کے انتظامات کا کنٹرول اردن ح
کومت کے پاس ہے۔

0 comments

Write Down Your Responses