پنجاب اورسندھ میں حلقہ بندیوں کا ازسرنو جائزہ

اسلام آباد( انویسٹی گیشن ٹیم) پنجاب اورسندھ میں حلقہ بندیوں کا ازسرنو جائزہ لیا گیا تو دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات رواں برس جون تک بھی ممکن نہیں ہیں۔اب 28 فروری تک دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کیلیے دی گئی تاریخیں غیرموثرہوچکی ہیں ۔ الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق پنجاب اورسندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کے حوالے سے ہائی کورٹس اوراب سپریم کورٹ میں زیرالتواکیسزکے باعث الیکشن کمیشن عملی طور پر حتمی فیصلوں تک کوئی کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اورسپریم کورٹ سے حلقہ بندیوں کے حوالے سے احکام کی صورت کم ازکم 2 ماہ حلقہ بندیوں کے لیے درکار ہوں گے اورحلقہ بندیوں کے بعد اعتراضات کے مرحلے پر مزید وقت درکار ہوگا۔ اس کے بعدالیکشن کمیشن کو انتخابات کے انتظامات کے لیے 2ماہ درکار ہونگے ۔ذرائع کے مطابق اس وقت کی صورتحال میں دونوں صوبوں میں جہاں انتخابات پہلے فروری اوربعدازاں اپریل میں کرانے کے سپریم کورٹ میں دونوں حکومتوں کی جانب سے دی گئی تاریخوں کے مطابق انتظامات ناممکن ہوگئے ہیں اور اب انتخابات کا انعقاد رواں برس جون تک بھی ممکن نہیں رہاہے ذرائع کے مطابق کے پی کے حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کوانتخابات کرانے کے لیے اپنے انتظامات مکمل کرکے انتخابات کی تاریخ دینے کیلیے باضابطہ رجوع نہیں کیاگیا۔ اس طرح کے پی کے حکومت کی جانب سے مارچ کے وسط تک الیکشن کمیشن کوآگاہ نہ کیا توکے پی کے میں بھی اپریل میں3 مرحلوں میں انتخابات کرانے کاسلسلہ شروع نہیں ہوسکے گا۔

0 comments

Write Down Your Responses