کم عمری کی شادی سماجی ، طبی اور معاشی مسائل کی جڑ ہے

وہاڑی( بیورورپورٹ)ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسرفنانس اینڈ پلاننگ وہاڑی محمد مشتاق طارق نے نے کہا ہے کہ کم عمری کی شادی سماجی ، طبی اور معاشی مسائل کی جڑ ہے جبکہ اسلامی تاریخ میں بھی کم عمری کی شادی کی روایت نہیں پائی جاتی یہ بات انہوں نے سماجی تنظیم راہنماء فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن پاکستان کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہی۔اس موقع پر ای ڈی او زراعت شہزاد صابر چودھری ، ای ڈی او تعلیم سید وحید الدین شاہ ، ای ڈی او کمیونٹی ڈویلپمنٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار مہر شیر بہادر لک، وہاڑی پریس کلب کے صدر شیخ خالد مسعود ساجد ، جنرل سیکرٹری شاہد محمود مرزا ،ڈی او سوشل ویلفےئر رائے اختر اظہر، ڈی او بہبود آبادی راؤ راشد حفیظ، ڈاکٹر غلام محی الدین ،پی آر ایس پی کے توقیر اکرام ، عالم دین حافظ ادریس ضیاء ، چیمبر آف کامرس کے صدر حافظ محمود احمد شاد،راہنماء ایف پی اے پی کے ریجنل ڈائریکٹر سرفراز کاظمی ، کوارڈینیٹر عمر حماد، مینجر شہناز فتح، محمد علی مدنی ، ٹیم لیڈر ریحان سرور،محمد شہزاد ، شاہ زیب خان،سید ہ قمر نقوی ، رخسانہ قاسم ، پراجیکٹ کوارڈینیٹر پلان نعیم اللہ طفیل، سلطان تنولی ، مینجر کرائسس سنٹرمنزہ کوثر،غیر سرکاری سماجی تنظیموں کے عہدیداران احسان باری ،، صبوحی حسن ،عظمی سلیم ،سول سوسائٹی کے ارکان بھی اس تقریب میں موجود تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای ڈی او فنانس محمد مشتاق طارق نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے نقصانات کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ہمیں ان عوامل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کم عمری کی شادی کا موجب بن رہے ہیں ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای ڈی او ایجوکیشن سید وحیدالدین شاہ نے کہا کہ تعلیم کی کمی بھی اس مسئلہ کی ایک وجہ ہے خواتین کو تعلیم دلانے کی جانب پیش رفت کرنے سے اس مرض سے چھٹکارہ ممکن ہے اور حکومت لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالہ سے بھی متعدد قوانین مرتب کئے جا چکے ہیں ۔ریجنل دائریکٹر راہنماء ایف پی اے پی سرفراز کاظمی اپنی تنظیم کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راجن پور مظفر گڑھ کے بعد وہاڑی تیسرا ضلع ہے جہاں کم عمری کی شادی کے نقصانات اور اس کی روک تھام کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے حوالہ سے یہ پروگرام شروع کیا گیا ہے پلان پاکستان کے اشتراک سے
عوام کوکم عمری کی شادی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائیگا انہوں نے بتایا کہ پاکستانی خواتین میں کم عمری کی شادی کی شرح42فیصد ہے جو براعظم ایشیا میں سب سے زیادہ ہے کم عمری کی شادی کی وجہ سے کم عمر خواتین میں زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی زیادہ ہے انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے سادی کے لیے لڑکی اور لڑکے کی عمر کی کم سے کم حد18سال کرنے کا قانون پاس کر لیا ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب نے صوبائی وزیر ذکیہ شاہ نواز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کے لیے قانون سازی کی سفارشات تیار کرے گی

0 comments

Write Down Your Responses