سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا نے آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی درخواست مستردکر دینے کے خصوصی عدالت کے فیصلے کی نقل حاصل کرلی

اسلام آباد(انویسٹی گیشن ٹیم) سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا نے آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی  کی درخواست مستردکر دینے کے خصوصی عدالت کے فیصلے کی نقل حاصل کرلی۔
سابق صدر کے وکلاء فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایک دو روزکے اندر یہ فیصلہ اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کر دیا جائیگا۔ ہائیکورٹ یا براہ راست سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں فیصلہ بھی اگلے دو دن میں کرلیا جائیگا لیکن غالب امکان یہ ہے کہ خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کے بارے میں سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جائیگا۔ذرائع نے بتایا کہخصوصی عدالت کے دائرہ اختیارکے بارے میں ایک آئینی پٹیشن پہلے بھی سپریم کورٹ میں دائر تھی لیکن چونکہ درخواست ایک عام شہری کی طرف سے آئی تھی اس لیے رجسٹرار آفس نے اس اعتراض کے ساتھ درخواست واپس کی تھی کہ خصوصی عدالت سے درخواست گزارکا کوئی حق مجروح نہیں ہوا ہے۔سپریم کورٹ میں موقف اپنایا جائیگا کہ عام عدالت میں فوجی اہلکارکا ٹرائل نہیں ہو سکتا، پرویز مشرف نے حاضر سروس چیف آرمی اسٹاف کی حیثیت میں ایمرجنسی کا نفاذکیا تھا ،خصوصی عدالت میں ٹرائل ملزم کے ساتھ امتیازی سلوک اوراستحصال کے زمرے میں آتا ہے جو آرٹیکل 14اور25کی خلاف ورزی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کی وکلاء ٹیم کے رکن چوہدری فیصل حسین نے اس بات کی تصدیق کی کہ فیصلے کا ابتدائی جائزہ لیا گیا ہے اور بادی النظر میں فیصلے کے اندر قانونی خامیاں ہیں،خصوصی عدالت نے آرمی ایکٹ کی تشریح کی ہے جبکہ اس عدالت کو قانون کی تشریح کا اختیار حاصل نہیں،قانون کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ یا پھر ہائیکورٹ کو حاصل ہے۔ انھوں نے بتایا خصوصی عدالت کے فیصلے سے مستقبل میں آرمی اہلکاروں کے مقدمے متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے فیصلے کیخلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

0 comments

Write Down Your Responses