طالبان کی پندرہ اور حقائق ۔۔۔ کیا یہ درست ہیں؟

تحریر : آصف یٰسین لانگو 
طالبان شوریٰ نے حکومت پاکستان کو ۱۵ نکات پیش کر دیئے ہیں اگر صیح انتخاب کرایا جائے 18 کروڑ پاکستانیوں 
کی ہی نکات لگتے ہیں ۔ پوری ملک میں لوگ ان کی مطالبات کو جائز قرار دے رہے ہیں اور حکومت سے یہی کہتے ہیں کہ طالبا ن کی نکات کی احترام کرتے ہوئے ان پر عمل در آمد کریں اور ان کی تمام مزاکرات کی حمایت بھی کرتے ہیں ۔ پہلے ان کی مطالبات پر غور کرتے ہیں جو طالبان نے پیش کیے ہیں پھر آگئے چلتے ہیں شوریٰ کی نکات مندرجہ زیل ہیں ۔
۱: ڈرون حملے بند ہو جانے چاہئے ۔
۲: عدالتوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے۔ 
۳: سرکاری اور نجی اداروں میں اسلامی نظام تعلیم بافذ کیا جائے ۔
۴: جیلوں میں ملکی اور غیر ملکی قیدیوں کا رہائی کا کہا گیا ہے ۔
۵:قبائلی علاقوں میں آپریشن روکنے اور ڈرون حملوں ہونے والے تباہ شدہ مکانات، سرکاری املاک کی از سر نو تعمیراور نقصانات کے ازالہ کیا جائے ۔
۶:قبائلی علاقوں کا کنٹرول خاصہ دار فورس لیویز کے حوالے کرنے اور ایف سی کو قلعوں کے اندر رکھنے کا بھی مطالبہ ہے ۔
۷:قبائلی علاقے سے فوج کی واپسی اور چیک پوسٹیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
۸:کالعدم تحریک طالبان کے خلاف تمام مقدمے خارج کیے جائیں ۔
۹: قیدیوں کا تبادلے کا بھی کہا ہے ۔
۱۰: امیر اور غریب کے یکساں حقوق کی فراہمی کا یقینی بنائی جائے ۔
۱۱: آپریشن اور ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ اور سرکاری نوکریاں دی جائیں۔
۱۲: حکومت کو مطلوب طالبان کمانڈرز کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے ۔
۱۳: دہشت گردی میں امریکا کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے ۔
۴ ۱: جمہوری نظا م ختم کر کے شرعی نظام نافذ کیا جائے ۔
۵۱: سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے ۔
ڈرون حملوں کی بندش بھی بہت ہی اچھی مطالبہ ہے اس سے پاکستان کی خودمختاری اور سالیمت خطرہ ہے ۔ جو حکومت پاکستا ن نہیں کرواسکی ہے ۔اگر طالبان کی یہ مطالبہ امریکا سے ہر صورت منوائی جائے تو پاکستان کے لیے درست فیصلہ ہوگا۔
عدالتوں میں شرعی نظام بھی شوریٰ کا مطالبہ ہے جو بالکل درست ہے ۔ آج کل عدالتوں کے خلاف ہونے پر توہین عدالت لاگو ہے تو حکومت ناپاک عدالتوں کو نظام شریعت کی توہین نظر نہیں آتی ہے ۔ پاکستان میں جوڈیشری نظام ہی سب بڑی کینسر ہے جو پاکستان کو کھوکھلا کر نے میں اہم ترین کرداد ہے۔ شریعت کی نظام سے منہ موڑنا مسلمانوں کے لیے عزاب بن چکا ہے ۔ شریعت کے نام پر حاصل کیا گیا یہ وطن انگریزوں کی اسمبلی و جوڈیشری کی وجہ سے ہی تباہ ہے ۔ طالبان کی بات مانیں یا نہ مانیں مگر پاکستان کی بھلا شریعت میں ہے ۔ یہ جو ناپاک سیاسی کلچر ہے ناپاک جوڈیشری کلچر ہے اور نا پاک نظام حکومت ہے اس نے تو مشرف جیسے ناپاک امریکا یار اور زردار ی جیسے ناپاک سیاست دان پیدا کیے ہیں ۔ بات مختصر ہے کہ شریعت ہی پاکستان کا حل ہے ۔ اگر حکومت شریعت سے منہ موڑتا جائیگا تو قیامت بھی مہنگا اور زندگی بھی یوں زلیل و خوار ی میں گزر جائے گی۔ شریعت ہی ایک عظیم اور درست انقلاب ہے جو اللہ کی حاکمیت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے ۔ 
آج کل پاکستان میں انگریزی نظامِ تعلیم ہے ، قران و حدیث پڑھانے والے اداروں کی حالیت لال مسجد جیسی ہوتی ہے ۔جسے انگریزی آتا ہے اسے ملازمت بھی ملتی ہے ، شہرت بھی ملتی ہے ، عزت بھی ملتی ہے ، حکومت بھی ملتی ہے ، زیادہ تنخواہ بھی ملتی ہے مگر قران و حدیث پڑھانے والے کو کچھ بھی نہیں بلکہ درجنوں لوگوں میں ہی صرف ان کو ہی بار بار چیک پوسٹوں پر ان کو تلاشیاں لے کر ان کی عزت کو مجروح کرتے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں شریعت سے مراد ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی الگ الگ اسکول و کالج ، الگ الگ اساتذہ ، لڑکیاں با پردہ اور لڑکے بھی چہرے سنت نبوی ﷺ کی داڑھی مبارک کے پابند ہو نگے ، تعلیمی اداروں میں جمعہ کے دن ہی چھٹی اور نماز و قران کے اوقات بھی مقرر کیے جائیں ، دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی برابر برابر لاگو ہو ، مدارس اور مساجد کی تعمیر و مرمت حکومت کی زمہ داری ہو اور فرقہ پرستی کے بجائے راہ راست پر تعلیم دیا جائے ۔
اگر طالبان امیر اور غریب کے یکساں حقوق کی فراہمی کا سوچتا ہے تو یہ درست ہے بھلے طالبان کی نیت کچھ اور ہو مگر ان کی بات تو بالکل درست ہے ۔ اس ملک میں ترقی اور خوشحالی کے راستے بھی ہموار ہونگے اور غریبی پاکستان کو میل دور چھوڑ چلی جائے گی۔
دہشت گردی میں امریکا کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا بھی بات کر رہی ہے یہ ناپاک سلسلہ مشرف کے کارنامے ہیں ۔ اس نے امریکا کا ساتھ سب سے زیادہ دیا امریکا مسلم ممالک میں رہ کر مسلم ممالک میں قبضہ چاہتا ہے یہ تو شرم کی بات ہے۔ اسی لیے آج ہر جگہ مسلم ممالک ہی جل رہے ہیں۔ کوئی غیر مسلم ممالک میں پھٹاکا بھی پھوٹ جائے تو اقوام متحدہ تفتیش شروع کروا دیتی ہے مگر اقوام متحدہ کو افغانستان ، فلسطین ، کشمیر، بلوچستان، برما ، شام ، عراق سمیت دیگر ممالک نظر نہیں آ تے ہیں ۔ اسی لیے امریکا کا یاری سب پہ بھاری ہے ۔ جمہوری نظا م ختم کر کے شرعی نظام نافذکی بھی بات بالکل دل کی ہے اور درست ہے اس نظام سے پاکستان پر امن اور ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ دینا کا سپر پاور بھی بن سکتا ہے ۔ مگر افسوس کہ اربوں کی حکومتی دفاتر ہیں اور قوم جھومپڑی میں گزاری ہے ۔ اسی لیے ناپاک جمہوری نظام کے بجائے شرعی نظام نافذ کیا جائے تاکہ اللہ کی بھی رحمت برسنا شروع ہو ہماری گناہوں کی خاطر نہ سہی نامِ شریعت کی خاطر ہی ۔
اور آخری بات یہ اتنی گہری ہے کہ اس پر تو میں طالبان کو سلام پیش کرتا ہے جو واقعی میں پر امن رہنا چاہتے ہیں وہ سودی نظام کا خاتمہ کا ہے ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود ایسے جیسے سے عبادت سمجھ کر پوری قوم اس کی حق ادا کر رہی ہو۔ اللہ نے سود کے خلاف فرما یا ہے کہ ’’ بے شک سود اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ ہے ‘‘ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود ہوگا تو حالیت یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان حالت جنگ میں ہے ۔ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم یوتھ لون پیکیج بنا کھلم کھلا عوام کو سود کی تبلیغ نما دعوت دے رہے ہیں جو شرم کی بات ہے ۔ اللہ کی نا فرمانی اور عالی ٰ حکمران وہ بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان تو حالت دیکھ ہی رہے ہیں ۔ 
بحرحال طالبان کی تمام مطالبات درست ہیں حکومت پاکستان و تمام سیاست دان پانے لیے کاروبار کا بندوبست کرتے ہوئے ناپاک سیاسی کلچر اور غیراسلامی نظام کو جڑ ھ سے اکھاڑ کر باہر پھینک دیں تاکہ ملک میں امن و امان بحال ہو ۔ شریعت کی نظام ان کو 5, 5 لاکھ کی سوٹ کی اجازت نہیں دے گا ، فحاشی و عیاشی کی بھی اجازت نہیں دے گا ۔ شریعت میں رہنا تو بہت ہی آسان ہے بس اگر سوچا جائے ۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر بنایا گیا ہے یہ اصلیاور صیح نظام ِ حکومت سے غافل ہے تو آج دنیا ترقی میں ہے دنیا سمندر اور چاند میں شہر بنا نے لگے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان بجلی گیس اور پانی کے لیے ترس رہی ہے ۔ دہشت گردی ، بد امنی ، صوبوں میں اختلافات، لسانی اور مذہبی فسادات ، تارگیٹ کلنگ ، لوٹ مار ، کرپشن ، بھتہ خوری ،سود خوری ، زنا ، شراب اور ہر اس دلدل میں دنیا میں سب سے آگئے ہے جس کا دین اسلام نے روکا ہے ۔ یہاں ہر وہ کام نیکی سمجھ کر کی جاتی ہے جو معاشر ے میں تبائی کی اسباب بنتے ہیں ۔کئی لوگ چیخ چیخ کرخاموش ہو گئے کہ نظام میں تبدیلی لاؤ جس سے مسئلہ حل ہوگا مگر سننے والا کوئی بھی نہیں تھا ۔
گزشتہ روز پشاور میں بم دھماکہ بھی ہوا اور ہنگو میں فائرنگ سے ۴ خواتین سمیت ۹ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جس سے طالبان نے ان دونوں واقعات سے لا تعلقی کا اظہار کر دیا ہے ۔ اگر طالبان نے یہ واقعات نہیں کیے تو آخر کون ہے جو ایسا کر رہا ہے ؟ دو بڑی نویت کی کاروائی ہیں ایک خود کش اور دوسرا اندھا دھن فائر نگ یا ٹارگیٹ کلنگ کہہ سکتے ہیں ۔ یہ وہی کروائیاں ہیں جو مسلسل ملک میں ہو رہی ہیں ، خود کش دھماکہ قران خوانی کے لیے جمع خواتین پر کیا گیا ہے یہ کاروائیا ں کرنے والی گروپ ہے جو ملک میں امن نہیں چاہتا ہے جو طالبان کی مزاکرات میں خلل ڈالنا چاہتا ہے لیکن خدارا طالبان اور حکومت اپنے مزاکرات کامیاب کرنے میں قربانیاں دیں تو بہتر ہے ۔ تاکہ یہ جو اصلی کاروائیاں کرنے والے عناصر ہیں ان کا بھی پتہ لگ جائے اور ان کا بھی صفایا ہو۔
طالبان شوریٰ کی تمام مطالبات اہم اور درست ہونے ہونے کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ ’’دس سالہ تاریخی بد امنی ختم ہو جائے گی،مطاکرات آئین کے تحت ہونگے ، عظیم بحران منٹوں میں حل ہوسکتا ہے ، اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بات چیت کامیابی سے ہمکنارہوگی ، دونوں فریقین معاملے پر جزبات سے کام نہ لیں 
طالبان نے بھی بعض معاملات پر وضاحتیں مانگی ہیں ‘‘

تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کی مزاکرات اس وقت تک تو اَلحمدُ للہ قوم کے لیے قابل خوشی ہے کہ طالبان کی دہشت گردی یا جہاد اس وقت پاکستانی عوام کے لیے باعث امن بننے والی ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے جو کہ میں اپنے گزشتہ کالم میں تحریر کر چکا ہوں کہ ٹی ٹی پی کو امریکہ ہی سہارہ دیتی ہے امریکہ کے عظائم میں یہ کارآمد ہیں ۔ مگر بات اصل یہ ہے کہ اب کالعدم تحریک طالبان نے کچھ ایسے شرائط حکومت کے سامنے رکھے ہیں جو قابل غور ہیں ۔ بھلے تحریک طالبان دہشت گرد ہیں یا ایک مجاہدین اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ اب اگر طالبان پاکستان میں اپنی کاروائیوں سے گریز کر کے امن کا راستہ اختیا ر کرتے ہیں تو ان کے مزاکراتی ٹیم کی ملاقات کے بعد طالبان نے حکومت سے 15 اہم ترین شرائط و نقات پیش کیے ہیں ۔ اگر واقعی میں طالبان کی یہ شرائط ہی ہیں اور واقعی میں طالبان ان مقاصد کے لیے جنگ کر رہے تھے اور واقعی میں طالبان کی نیت ان مقاصد کے لیے جہاد ہے تو کوئی مانے یا نہ مانے طالبان درست اور جہادی ہیں کیونکہ ان کی مطالبات میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی ہے کہ کوئی ان کو دہشت گرد کہے سوائے امریکا کے ۔ 
طالبا ن نے ان مقاصد کے لیے آیا راستہ درست اختیا ر کیا تھا یا غلط تو یہ الگ بحث بنتی ہے مگر دیکھا جائے تو طالبان کی مطالبات کے لیے موجودہ راستہ کسی حد تک اس لیے غلط ہے کہ ان کا تسلیم شدہ کئی کاروائیوں میں کئی بے گناہ بھی شہید ہوئے ہیں جو بے انتہا غلط ہے ۔
طالبان کے یہ مطالبات پاکستان میں امن اور استحکامی کے لیے درست ہیں ۔ بھلے طالبان غلط ہوں مگر ان کی جو مقاصد ہیں وہ تو درست ہیں اور ہر پاکستانی کی 67 سالوں سے یہی مقاصد ہیں ۔ 

0 comments

Write Down Your Responses