شادی کے لئے مسلمان ہونے والے جوڑے کا کیس شدید تنازعہ کا شکار ہوگیا

میرپورخاص ( ایم وی این نیوز بیورو رپورٹ ) شادی کے لئے مسلمان ہونے والے جوڑے کا کیس شدید تنازعہ کا شکار ہوگیا نو مسلم جوڑا فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج میرپورخاص کی عدالت میں پیش ۔ عدالت نے لڑکی کو چار روز کے لئے دارالعمان بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق گاؤں پیر بخش جروار کی رہائشی ھندو اوڈ خاندان کی لڑکی دھنی اوڈ اور لڑکے سجن اوڈ نے حالیہ اسلام قبول کرکے نکاح کیا تھا اور شادی کے بعد لیبر کالونی میرپورخاص میں رہائش پذیر تھے ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد لڑکی کا نام زرینہ اور لڑکے کا نام عبداللہ رکھا گیا تھا اور وہ کارو کاری میں قتل کے خوف سے لیبر کالونی میرپورخاص میں رہائش پذیر تھے تو دو روز قبل لڑکے کے والد اور دیگر نے لیبر کالونی میں حملہ کرکے لڑکی زرینہ کو اغوا کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر گاؤں میں قید کیا تو لڑکی کے شوہر عبداللہ کی فریاد پر تعقلہ پولیس نے گاؤں پیر بخش جروار میں چھاپہ مارکر لڑکی کو بازیاب کرا یا اور آج فرسٹ ا یڈیشنل سیشن جج میرپورخاص کی عدالت میں پیش کیا جہاں پر عدالت نے نو مسلم لڑکی علماء اور پولیس کا موقوف سننے کے بعد لڑکی کو چار روز کے لئے دارالعمان حیدرآباد بھیج دیا اور پولیس کو لڑکی کو تحفظ دینے کے لئے حکم دیا۔ دوسری جانب نو مسلم لڑکی زرینہ کے چاچے پیارو اوڈ نے ایوان صحافت میرپورخاص میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انکی بچی نابالغ ہے ا ور انکے رشتیدار سجن اوڈ اور انکا بھائی پیارو اوڈ نے ورغلا کر اپنے مطلب کے خاطر اسلام قبول کرویا اور انکے ساتھ ظلم ہوا ہے اور زبردستی اپنے مطلب کے خاطر دین کا نام استعمال کرکے انکے مسئلے کو بڑھایا گیا ہے۔ پیارو اوڈ نے بتایا کہ وہ نہیات ہی غریب ہیں ا ور انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے انکی بچی کو ورغلا کر دین بدلواکر شادی کروائی گئی ہے اور سجن اوڈ جو نو مسلم بننے کے بعد عبداللہ نام بتاتا ہے وہ کرمنل آدمی ہے ا ور علائقے میں غلط حرکات کی وجہ سے نکالی گئی ۔ نومسلم لڑکی زرینہ کے چچا پیارو اوڈ نے عدلیا، حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انکی مدد کرے اور تعلقہ پولیس کی جانب سے غلط بیانی کرنے پر ایس ایچ اور دیگر پولیس اھلکاروں کے خلاف کاروائی کرے اور انکی بچی انہین واپس دلوائی جائے۔ 

0 comments

Write Down Your Responses