ماہ صفر گزرگیا


تحریر : طارق جاوید علی قادری بانوا

ماہ صفر اسلامی مہینوں میں دوسرا مہینہ ہے اس مہینہ کے بارے میں بہت کم لوگ آگاہ ہے، کیونکہ ماہ صفر ہمارے لئے بہت اہمت کا حامل مہینہ ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بدھ کے روز حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں تمام سر زمین دنیاپر پانی کا طوفان آیا۔ جس کو طوفان نوح بھی کہتے ہیں اور ہر سال صفر کے آخری بدھ کو آسمان سے تین ہزار سات سو اٹھاون بلائیں نازل ہو تی ہیں جو سال بھر تک اس علم ناسوت میں مخلوق خدا پر مسلط رہتی ہیں ، اب ان بلاؤں سے ہم کس محفوظ رہے سکتے ہیں اور سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیا کوئی بھی نبی اس آفات سے محفوظ رہے ہیں یا نہیں تو اس کا انداز اس سے لگایا جاسکتا ہے ۔حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر مجھ تک کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس کیلئے ماہ صفرکا مہینہ پریشانی کا باعث نہ بنا ہو پورے مہنیے میں جو دن نحس ہیں ان میں تین(3) تاریخ اس لیے نحس ہے اس دن زمین پر پہلا قتل ہوا جس میں ہابیل نے قابیل کو قتل کیا۔اور پانچ(5) تاریخ اس لیے نحس ہے اس دن حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے چاہ میں ڈالا تھا۔ تیرا(13) تاریخ اس لیے نحس ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے اور اکیس(19) تاریخ اس لئے نحس ہے اس دن شیطان نے عجیب کھیل کھیلا جب حضرت زکریا علیہ السلام  درخت میں پناہ گزیں ہوئے تو شیطان نے آرا سے آپ کو شہید کیا اور اکیس(21) تاریخ اس لے نحس ہے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ ہو علیہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہوا، یہ وہ دن ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا کوئی بھی قطرہ زمین پر گر جاتا تو قیامت برپا ہو جانی تھی۔اور چوبیس(24) تاریخ اس لے نحس ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کو صندوق میں بند کرکے دریا میں بہایا گیا اور پچیس(25) تاریخ اس لے نحس ہے اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے آتش میں ڈالا۔س لئے ماہ صفر سے ہر شخض کو پناہ مانگنی چاہے کیونکہ یہ مہینہ پریشانیوں کا باعث بن جاتاہے آج کے دور میں ہر انسان پریشان رہتا ہے اس کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کرئے، اس کی وجہ یہی ہے ہم سب نے پیارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے۔ عقلمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہے ۔آپ سب اس آیت کا ورد کریں انشاء اللہ دنیاوی مصائب اور آسمانی بلاؤں اور مخلوق کے ہر شرو فساد سے محفوظ رہیں گئے ہمارے سلسلے قادریہ غوثیہ بانوا میں اس آیت کا ورد لازمی طور پر ہوتا ہے اس آیت کے پرھنے سے آپ ہر قسم کے جانور سانپ، شیر، سگ دیوانہ یا راستے میں چلتے ہوئے کس قسم کا حادثہ وغیرہ کے علاوہ کوئی دشمن تیر تلوار،بندوق اور گولیوں میں کیوں نہ ہو اس کے پڑھنے والے کو کوئی اذیت نہیں پہنچتی۔

اعوذ بکلمات اللہ التامات کلھامن شر ما خلق

0 comments

Write Down Your Responses