گیس کے بغیر انڈسٹری کو چلنا ناممکن ہے، معیشت کو مزید دھچکا لگے گا اور 25 لاکھ مزدوروں کے بیروزگار ہونے کا خد شہ ہے

فیصل آباد( سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل ) صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری انجینئر سہیل بن رشید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گیس کے بغیر انڈسٹری کا چلنا ناممکن ہے۔ حکومت فوری طور پر گیس بندش کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے پنجاب کے صنعتی شعبے بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کو فی الفور گیس فراہمی کے احکامات جاری کرے تا کہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل اس انڈسٹری کا پہیہ رواں ہو سکے اور کم و بیش 25 لاکھ مزدوروں کوبیروزگار ہونے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گیس بندش کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف غیر ملکی خریداری اور آرڈرز ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ ہے بلکہ برآمدات پر بھی منفی اثر پڑے گا اور حالیہ بندش کے فیصلے سے3 بلین ڈالر تک نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کی طرف سے پاکستانی مصنوعات جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل شامل ہیں کو یورپی منڈیوں میں جنوری 2014 میں ڈیوٹی فری رسائی دی جا رہی ہے مگر حکومت پاکستان نے ٹیکسٹائل سمیت پنجاب کی انڈسٹری کو غیر معینہ مدت تک کیلئے گیس بندش کا ناقابل قبول فیصلہ کر دیا جو انڈسٹری کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی گیس کی کل ڈیمانڈ 400 ایم ایم سی ایف ڈی ہے مگر ہم حکومت سے اس کا 25 فیصد کوٹہ یعنی 100 ایم ایم سی ایف ڈی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے کچھ شعبے گیس کے بغیر چل ہی نہیں سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس اہم ترین صنعتی شعبے کو چالو رکھنے کیلئے اقدا مات کرے کیونکہ اس کے بغیر بگڑی ہوئی معیشت کو مزید دھچکا لگے گا اور بلا شبہ یہ ایک تاریخی نقصان ثابت ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاور سیکٹر کے صرف ایک پاور پلانٹ کی بندش سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو اس کی مطلوبہ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے آخر میں حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے ٹیکسٹائل سیکٹر کو گیس فوری فراہمی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تا کہ برآمدات کو نقصان ہو اور نہ ہی لاکھوں مزدور بے روزگار ہو کر ملک میں امن و امان کے مسائل جنم دیں

0 comments

Write Down Your Responses