اب پورے ضلع میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بالکل ختم ہوچکی ہیں

خان پور(انویسٹی گیشن ٹیم ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رحیم یار خان سہیل ظفر چٹھہ نے کہا ہے کہ اب پورے ضلع میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بالکل ختم ہوچکی ہیں اور ڈکیتی کی وارداتوں میں بھی 97فیصد کمی آ گئی ہے اس سب میں پولیس کے وہ جوان اور شہداء لائق تعریف ہیں جنہوں نے دن رات ڈیوٹی کے علاوہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر ضلع کی عوام کو محفوظ بنا دیا خان پورمیں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں اغوا برائے تاوان کی 11وارداتیں ہوئیں جن کے ملزمان اپنے انجام کو پہنچے اور تاوان کی غرض سے لی جانے والی رقوم ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرہ اور جرم ساتھ ساتھ چلتے ہیں مگر کچھ عرصہ قبل جو خوف و ہراس ضلع رحیم یار خا ن میں تھا اب اس کا خاتمہ ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ منشیات فروش لوگوں کو زندہ درگور کرتے ہیں یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ضلع بھر کے ایس ایچ اووز اپنے علاقوں میں منشیات فروشوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں سہیل ظفر چٹھہ نے مزید کہا کہ فرقہ واریت کی لعنت انسانیت سے دوری ہے مگر ملک کی اکثریت فرقہ واریت کے حق میں نہیں جس دن ریاست نے فیصلہ کر لیا کہ فرقہ واریت کی لعنت ختم ہو تو 24گھنٹے کے اندر اس کا خاتمہ ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل اور بغیر ہیلمنٹ اور کم عمر بچوں کے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ گنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زمینداروں سے کم ریٹ پر گنا خریدنا بربریت کے مترادف اور اغوا برائے تاوان سے بڑاجرم ہے اور یہ سفید پوش ڈکیتی کے متراد ف ہے ہم نے ضلع بھر میں سستے داموں گنا خرید کر کاشتکاروں کو لوٹنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے قبل ازیں کھلی کچہری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی انجمن تاجران حاجی مقبول احمد بھٹی چئیرمین ضلعی عشر ز کوٰۃ کمیٹی خواجہ محمد ادریس ایڈووکیٹ اور صدر بار راؤ عبدالرؤف نے کہا کہ ضلع بھر میں ڈی پی اورحیم یار خان کی ذاتی محنت کے باعث جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ ممکن ہوا ہے کھلی کچہر ی میں محکمہ انہار کے مقتول میٹ کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر محکمہ انہار کے ملازمین اور ورثاء نے احتجاج کیا جبکہ کھلی کچہری میں متعدد افراد نے پیش ہو کر اپنی درخواستیں دیں جس پر ڈی پی او نے موقع پر احکامات جاری کیے ۔

0 comments

Write Down Your Responses