لاعلمی اور جہالت سے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لعنت کے خاتمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کی ضرورت ہے،نورالامین مینگل

فیصل آباد (سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل) اینٹی کرپشن ویک کے حوالے سے آگہی واک منعقد ہوئی جس کی قیادت ڈی سی او نورالامین مینگل نے کی۔ واک ڈی سی او آفس سے شروع ہو کر ضلع کونسل چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ واک کے شرکاء نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر \" کرپشن تباہی کا موجب ہے\" ،\"کرپشن مکاؤ، ملک بچاؤ\"،\"بد عنوانی سے انکار، پاکستان سے پیار\" کے نعرے درج تھے۔ واک میں مذہبی رہنما مفتی محمد ضیاء مدنی،ڈپٹی ڈائریکٹرز اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خالد منظور، دلبر حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاہد مسعود نظامی، ڈائریکٹر کالجز رانا منور، ای ڈی اوز کمیونٹی ڈویلپمنٹ، میونسپل سروسز آصف تارڑ، لیاقت علی، ڈی ایم او طارق خان نیازی کے علاوہ دیگر مختلف محکموں کے افسران و سٹاف ممبران، این جی اوز کے نمائندے، طلباء اور شہری کثیر تعدا د میں موجود تھے۔ واک کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی او نورالامین مینگل نے کہا کہ معاشرے سے رشوت کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کرپشن کی برائی ہماری قومی و سماجی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے لہذا اس لعنت کے خاتمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کرپشن سے متاثرہ افراد متعلقہ ادارے سے براہ راست بروقت رابطہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری دفاتر اور روز مرہ معمولات میں میرٹ اور دیانتداری کا ملحوظ خاطر رکھا جائے تورشوت جیسی لعنت سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈی سی او نے کہا کہ عوامی آگہی کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیوں کا سلسلہ مستقبل بنیادوں پر جاری رہنا چاہیے تاکہ رشوت ستانی اور بدعنوانی پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی محکموں میں اعلیٰ نظم ونسق کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہیں تاہم اگر کسی جگہ بدعنوانی کی شکایت ہوتو ان کے نوٹس میں لائیں۔دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے میں کرپشن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے کرپشن فروغ پا رہی ہے ہمیں کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کے لیے قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جس کی بدولت ہم دنیا میں قابل فخر اور طاقتور قوم بن سکتے ہیں۔

0 comments

Write Down Your Responses