سانحہ راول پنڈی سے عبرت حاصل کرنا وقت کی ضرورت


تحریر:عتیق الرحمن
ملک پاکستان ان بدقسمت ملکوں میں سے ہے جو ہر لحاظ سے اغیار کے دست نگر بنا ہواہے۔قیام پاکستان سے قبل اس امر کا خدشہ بعض اہل علم و دانش اور اصحاب فکر اور وسعت نظر رکھنے والے حضرات نے پیشگوئی کی تھی کہ اس مملکت خداد کو استعمار آسانی کے ساتھ پنپنے نہیں دیں گے ،قسما قسم کے تنازعات کو ہوادیکر اس ریاست کے امن و امان اور اس کے استحکام کو ناکام بنانے کی شب وروز کوششیں کریں گے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کر دی تھی کہ اس ملک پاک میں سیاسی و مذہبی،لسانی و قومی،صوبائی و علاقائی سمیت متعدد اسباب کو ملت پاکستان میں انتشار کو ہوادنے کے لیے بطور ہتھیار کے استعمال کیا جائے گا۔اس امر پر مستزاد یہ ہے کہ ملک پاک کو چھیاسٹھ برس گذرنے کے باوجود نیک و مخلص قیادت میسر نہیں آسکی ۔جس کے دل میں ملت کا درد ہو وہ باہمت و باصلاحیت ہونے کے ساتھ ایسی قوت رکھتاہوکہ وہ پاکستان کی عوام کو منتشر ہونے سے محفوظ رکھ سکے اور عوام الناس میں ملت کا درد بیدار کرے اور اسی طرح عوام کو اپنی کفالت میں خودمختاربنانے کی جدوجہد کرسکے۔ایسے قائد کی ضورت تھی جو اس ریاست کو جو بیرون ممالک سے امداد لینے اور ان کی دریوزہ گری کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مساویانہ اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرتی۔
اسی سبب سے آج ملک ملک پاک بیرونی مداخلت کے باعث اندرونی خلفشارو انتشار کا مرکز بناہواہے۔امن و امان کی ناگفتہ بہہ صورتحال نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہواہے۔کوئی شب و روز ایسانہیں گذرتاکہ ملک میں کسی انسانی جان کا ضیاع نہ ہو۔ہمارے ارض پاک کے معاشرے میں برداشت و صبر اور رواداری کی فضااس قدر مکدر ہوچکی ہے کہ کوئی فرد اپنے مخالف نظریات رکھنے والے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اسی سبب سے حالیہ یوم عاشورہبروز جمعہ پر راول پنڈی میں جو المناک واقعہ پیش آیا اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دل شدت الم کو جذب کرنے کا متحمل نہیں۔راقم اس عبرتناک سانحہ کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب پرلگی لپٹی بات کرنے کی بجائے اتنی بات کرنا درست جانتاہے کہ اس سانحہ کے میں جو جانی و مالی نقصان ہوا اس کا ازالہ و مداواتو بہر صرت ضروری ہے ہی پر اسی کہ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سانحہ راول پنڈی پر بننے والاجوڈیشل کمیشن دیانت داری کے ساتھ اس شرمناک واقعہ کے پیش آنے کی بلا امتیاز و تفریق وجوہات معلوم کرے ۔راقم یہ سمجھتاہے کہ اس سارے واقعہ کے پیش آنے میں چار قسم کے طبقے ذمہ دارہیں۔اول خفیہ ایجنسیاں جن کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مقامی علاقے کی نزاکت و صورتحال کا جائزہ لے اور اگر کہیں کسی خطرناک واقعہ کے پیش آنے کا ایک فیصد بھی اندازہ ہو تو اس سے مقامی انتظامیہ کو باخبر کرے ،اس المناک واقعہ کے وقوع پذیر ہونے میں ان اداروں کی غفلت و کاہلی عیاں ہے۔ثانی مقامی پولیس وانتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کہ جلوس میں شامل افرادپر کڑی نظر رکھیں کہ وہ کسی سنگین سرگرمی کا ارتکاب نہ کریں اگر ایسا امر واضح ہوجائے تو ان کو باز رکھنے کی انتہادرجہ کی کوشش کریں مگر اس یوم عاشورہ کے جلوس میں انتظامیہ کی سستی و بزدلی پر دل خون کے آنسو روتاہے کہ ہمارے محافظ ہی اتنے کمزور ہیں کہ انہیں سی گنیں لے کر معصوم و نہۃ لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں ہیں۔ثالث۔یوم عاشورہ کی قیادت کرنے والوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی مکمل راہنمائی کریں اور کسی بھی طرح ناسازگار حالات پیدا ہونے لگیں تو ان پر لازم ہوتاہے کہ وہ اپنے جلوس کو کنٹرول میں رکھیں۔اور انتظامیہ سے مدد طلب کریں حالات کو معمول پر لانے کے لیے۔سانحہ راوال پنڈی میں یوم عاشورہ کی قیادت کرنے والے ظلم و ستم کا بزار گرم کرنے والوں کے ساتھ برابر کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔رابع۔بعض ذرائع کے مطابق سانحہ راول پنڈی کے پیش آنے کا سبب مولوی صاحب کی جانب سے شر آنگیز تقریر تھی ایک دوسری اطلاع کے مطابق لوڈ سپیکر کا استعمال وجہ نزاع بنا۔ان دونوں صورتوں میں مسجد کے مولوی صاحب نے اپنی اسلامی و انسانی ذمہ داری میں کوتاہی کی ہے جس پر ان سے بھی تفتیش کی جانی چاہیے۔
اس امر میں کوئی تردد نہیں کہ اب جو جانی ومالی نقصان ہو ا اور مسجد و مدرسہ کی توہین اور قرآن پاک اور احادیث نبی ﷺ کا جلایاجانایہ سب امر ناقابلے تلافی و معافی ہیں۔البتہ موجودہ ملکی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے چند اہم امور انجام دینے کی ضرورت ہے۔ اس امر میں پہلے تو من حیث القوم عنداللہ گریہ وزاری کرتے ہوئے توبہ استغفار کی جانے چاہیے۔ارض پاک میں تمام فرقوں و مکاتب فکر کے لوگوں کو اشتعال انگیز تحریر و تقریر کے ذریعہ منافرت پھیلانے سے روکا جائے۔ملک پاک سے اس مواد (چاہے وہ تحریراً ہے یا تقریراً)کو سلب کر لیا جائے جس سے اسلام کی مقدر شخصیات کی توہین و تحقیر ہوتی ہو۔ملک پاک کو مستقبل میں اس طرح کے ہر مسئلہ سے دور رکھنے کے لیے لازمی ہے کہ ہر قسم کے سیاسی و مذہبی جلسے و جلوس پر پابندی عائد کی جائے۔کیوں کہ یہ جلسے و جلوس عوام الناس کو تکلیف پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔تمام مذہبی جلوس جن کو عبادت کی تکمیل سمجھا جاتاہے ان کو عبادت گاہوں میں سرانجام دینے کا پابند کیا جائے۔بڑی سطح کی کانفرنسز ،جلسے یا جلوسوں کے لیے ملک کے تمام اضلاع میں آبادی سے دور مقامات کا تعین کیا جائے۔سانحہ پنڈی سے عبرت حاصل کرتے ہوئے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت اگر سنجیدہ ہے تواس آخری ویک نکاتی امرپر بلاتفریق و امتیاز اوربغیرکسی تاخیر کے عمل کرے سرانجام دے۔اگر ایسافیصلہ گراں نہ کیا گیا تو اس ملک کو بڑے سے بڑا سخت قانون اس طرح کے حادثات کے پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔

0 comments

Write Down Your Responses