متاثرہ کوالیفائیڈ اساتذہ کیس ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم کے افسران کو اپنی ہائی کمان سے رابطہ کر کے جواب طلب کر لیا

ڈیرہ اسماعیل خان(محمدریحان ایم وی این نیوز) متاثرہ کوالیفائیڈ اساتذہ کیس ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم کے افسران کو اپنی ہائی کمان سے رابطہ کر کے جواب طلب کر لیا ۔اگر ان کو برطرف کیا گیا تو جس رپورٹ کی روشنی میں برطرفی ممکن ہوئی اسی رپورٹ کی سفارشات میں ان کو ہر سال کے حساب سے اب تک 12اضافی نمبرات اور عمر میں 10سال کی سہولت کیوں نہ دی گئی اگر محکمانہ کمیٹی کی سفارشات پر مکمل عمل نہیں ہوا تو اس سے کیا یہ مراد لی جائے کہ یہ اساتذہ ابھی تک اپنی اپنی پوسٹوں پر بحال ہیں اگر محکمہ ان کو سفارشات کے مطابق عمل کرنا چاہتا ہے تو اس بابت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فی میل اپنے اپنے صوبائی سطح کے اعلیٰ افسران سے جواب لیکر عدالت کو بتائیں کیس کی سماعت پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ بنچ میں جسٹس عبداللطیف خان اور جسٹس لعل باز خان خٹک کی سربراہی میں ڈویژن بنچ میں ہوئی محمد نعمان وغیرہ بنام حکومت خیبر پختونخواہ کے نام سے یہ کیس محمد یوسف کنڈی ایڈوکیٹ کی معیت میں داخل کیا گیا تھا ۔محکمہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل اور فی میل عدالت میں موجود تھے جبکہ محکمہ کا دفاع ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل محمد ہارون اعوان ایڈوکیٹ نے کیا ۔محمد یوسف کنڈی ایڈوکیٹ نے اپنے کیس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عمل نہیں ہوا اس رپورٹ کی سفارش پر ان کوالیفائیڈ اساتذہ کو برطرف کو کر دیا گیا مگر اسی رپورٹ کے بیشتر حصے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ نا انصافی ہے جس پر معزز عدالت نے محکمہ کے افسران کو طلب کر کے استفسار کیا کہ محکمہ نے ان کو ہر سال کے حساب سے دو اضافی نمبرات کیوں نہیں دئیے تو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے کہا کہ چونکہ موجودہ پالیسی مین میں ایسا ممکن نہیں تو معزز جج جسٹس لعل بار خٹک نے کہا کہ جب محکمہ یہ سفارشات دے رہا تھا تو اس وقت محکمہ کو یہ بات مد نظر رکھنا چاہیے تھی،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سفارشات ان کے محکمہ اور خود ان کے بھی اس پر دستخط موجود نہیں تو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے کہا کہ بالکل ان کے دستخط ہیں تو معزز عدالت نے کہا کہ پر کیوں اضافی نمبرات اور عمر میں رعایت نہیں دی گئی ۔معزز عدالت نے برد ازاں محکمہ کو حکم دیا کہ اس پر فوری طور پر اپنے محکمہ کے اعلیٰ سطحی افسران سے جواب لیکر آئیں ،محکمہ کی درخواست پر کیس کی سماعت اب دوبارہ 20دن بعد ہو گی۔

0 comments

Write Down Your Responses