سرائیکستان قومی موومنٹ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں سینئر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد خان کو وائس چانسلرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا

ڈیرہ اسماعیل خان(ایم وی این نیوز)سرائیکستان قومی موومنٹ کھیارہ کے مرکزی سیکرٹریٹ سے ایس کیو ایم کھیارہ کے مرکزی صدر شاہد عطاء کھیارہ نے کہا ہے کہ سرائیکستان قومی موومنٹ کھیارہ ، بجا طور پر مطالبہ کرنے میں حق بہ جانب ہے کے گومل یونیورسٹی پر سیاسی تجربے کرنے کی بجائے فوری طور پر سینئر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد خان کو وائس چانسلرز کا اعلان کیا جائے ۔جس کے لیے ایس کیو ایم کھیارہ ہر قسم کا سیاسی احتجاج کا حق رکھتی ہے ناتجربہ کار سیاسی بنیادوں پر گومل یونیورسٹی میں وائس چانسلر ز کی تعیناتیاں ختم کی جائیں اور گومل یونیورسٹی کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے ایسے حالات میں ڈیرہ سے محبت رکھنے والے انتہائی سمجھ دار تعلیم یافتہ 28سالہ یونیورسٹی میں خدمات سرانجام دینے والے سینئر پروفیسرز ڈاکٹر اعجاز احمد خان اس اہم منصب کیلئے اہل ہیں سینئر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد خان کو جامعہ گومل کے لیے وائس چانسلرز تعینات کیا جائے ۔ایس کیو ایم کھیارہ کے مرکزی صدر نے کہا کے مقبوضہ سرائیکستان کے اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک ڈویژن کے ہر ادارے کو اپاہج بنانا تخت پشور کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ 1978ء کے بعد ایسے نا تجربہ کار سیاسی بنیادوں پر وائس چانسلرز کی تعیناتیاں کی جاتی رہیں ہیں جنہوں نے جامعہ گومل کو تعلیمی درسگاہ کی بجائے دفتر روزگار میں تبدیل کر دیا اس وقت گومل یونیورسٹی مالی طور پر کروڑوں روپے خسارے میں ہے اور اتنظامی عہدوں پر عارضی اور نا تجربہ کار لوگ براجمان ہیں جامعہ گومل کا دن بدن خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اب جامعہ گومل کے ملازمین کو تنخواہیں دینا مشکل ہو چکا ہے پنشن ، اور جی پی فنڈ جو کے سٹاف کی امانت ہوتی ہے اس میں سے تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں جامعہ گومل اس وقت انتظامی مالی اور اکیڈمک کے لحاظ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی منظور شدہ قانون کے (بھرتی 1گریڈ سے 15تک ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے کی جائے گی ) جس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر پشتون اضلاع کے افراد کو بھرتی کیا گیا گریڈ 17سے لے کر گریڈ 21تک کی تعیناتیوں میں سلیکشن بورڈ کے 20 نمبرز ہیں جس میں کھلی دھاندلی کی شکایات عام ہیں لیکن اب (PRESENTATION)پریزینٹیشن کے نام پر 10نمبر مزید بڑھا کر بلیک میلنگ کا دروازہ کھول دیا گیا ہے اور سلیکشن بورڈ سے پہلے مختلف کمیٹیاں بناکر پریزینٹیشن کی مارکنگ کی جا رہی ہے جو کے ایک غلط اقدام ہے سابقہ وائس چانسلر نے اپنی ذاتی پسند کی بنیاد پر پولیٹیکل سائنس کا شعبہ اور ایگریکلچر اکنامکس کا شعبہ کھول دیا ہے جبکہ سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کھولنے کے لیے حیلے بہانے بناتے رہے ہیں جبکہ اکیڈمک کے لحاظ سے تعلیم اور تحقیق میں یونیورسٹی اس وقت 33ویں نمبر پر ہے پی ایچ ڈی (PHD) کی ڈگریز میں وسیع پیمانے پر بددیانتی کی جا رہی ہے

1 comments

مملکت اسلامیہ پاکستان دی انتظامیہ، مقننہ تے عدلیہ دے زیر سایہ پیمرا پاکستان وچ سرائیکی زبان دے چینل چلاوݨ دی بجائے ہندی زبان دے چینلاں ایکسپریس، ہم، جیو وغیرہ تے ہندوواں دے مذہب دے پرچار کیتے ہندی ݙرامے چلیندی پئی ہے۔ مثلاً کانا جی دے مندر تے دعا قبول تھیوݨ دا ذکر۔ پاکستان دیاں ساریاں مذہبی سیاسی پارٹیاں ایں شرکیہ چینلاں تے خاموش ہن۔
۔پاکستان دے ہر سرکاری تے نجی ٹی وی چینل تے سرائیکی، سندھی، پشتو ، پنجابی،بلوچی تے اردو کوں ہر روز چار چار گھنٹے
ݙتے ونڄن۔پہلی توں بی اے تائیں سکولاں کالجاں تے مدرسیاں وچ سرائیکی یا سندھی یا پشتو لازمی مضمون دے طور تے شروع کرو. سنگاپور دی کل آبادی 54 لکھ ہے۔ 50 فیصد چینی، 32 فیصد انگریزی، 12 فیصد ملائی تے 3 فیصد تامل ہن۔ سنگاپور وچ چینی، انگریزی،ملائی تے تامل سرکاری دفتری تعلیم تے قومی زباناں ہن۔ پاکستان وچ سنگاپور دی پالیسی تے عمل کیتا ونڄے۔

Write Down Your Responses