حقوق العباد اور صلہ رحمی بارے اسلام کے احکامات


تحریر امیر افضل اعوان
دین اسلام میں ہر طبقہ اور رشتہ کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر اس کے جامع حقوق کا مفصل بیان و حکم موجود ہے، اسلامی نقطہ نظر سے کائنات انسانی کی عملی زندگی کی دو محور ہیں اول حقوق اللہ کہ جسے عبادات کہتے ہیں اور دو سرے حقوق العباد جسے باہمی معاملات کہا جاتا ہے یہی دو اصطلاحیں ہیں جو انسانی نظام حیات کے تمام اصول وقواعد اور قوانین کی بنیاد ہیں ،قرآن کریم میں اس حوالہ سے ارشاد ربانی ہے کہ ’’ اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں‘‘ سورۃ الرعد، آیت 21، اسلام میں راہبانہ انداز سے ترک تعلقات کی بجائے ضروری تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ماں باپ کے حقوق،اولاد،بیوی،اور بہن بھائیوں کے حقوق،دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر لازم کئے ہیں ان کو نظرانداز کرکے نفلی عبادت میں یا کسی دینی خدمت میں لگ جانا بھی جائز نہیں دوسرے کاموں میں لگ کر ان کو بھلا دینا تو کیسے جائز ہوتا۔
اسلام کی تعلیمات کے مطابق انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان تمام تعلقات اور روابط کا خیال رکھے جن کی درستی پر انسان کی اجتماعی زندگی کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے، خواہ یہ تعلقات اور روابط معاشرت سے تعلق رکھتے ہوں یا تمدن سے اور اس حوالہ سے والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں مسکینوں اور ہمسایوں سب کے حقوق آجاتے ہیں، قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ سورۃ الانفال، آیت 75،گرچہ کہ یہ آیت مبارکہ غزوہ بدر اور مسلمانوں کی ہجرت کے تناظر میں نازل ہوئی مگر جیسے قرآن پاک رہتی دنیا تک ذریعہ رشدو ہدایت ہے اسی طرح یہ آیت بھی قیامت تک ایل ایمان کے مثل اور مشعل راہ ہے، قرآن کریم میں ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ ’’ خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ سورۃ النحل، آیت90، اس مختصر آیت میں تین ایسی چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جب پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے، پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو، دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد نیک برتاو ، فیاضانہ معاملہ ، ہمدردانہ رویہ، رواداری ، خوش خلقی ، درگزر، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ زیادہ دینا، اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجاتا یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے، تیسری چیزنصیحت ہے کہ اپنی حد سے تجاوز اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی نہ کرنا ، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے دونوں حوالہ سے احکامات الہٰی کو مقدم رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔
دین اسلام سے زیادہ کوئی مذہب بھی انسانی حقوق کی بجا آوری کو اہمیت نہیں دیتا ، اسلام وہ واحد مذہب ہے جو مسلمانوں کو آپس میں ایک جسم کی ماند رہنے کی تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح کوئی انسان اپنے آپ کو سنبھال اور سدھار کر رکھتا ہے اسی طرح وہ معاشرتی اور سماجی حیثیت میں دوسرے لوگوں کے ساتھ ہمدردی ، نیکی ، احسان ،خدا ترسی اور محبت کا سلوک روا رکھے، اسی حکمت کے تحت اسلام میں انسانیت کے ہر طبقہ کے حقوق اور فرائض کا تعین کیا ہے اور حقوق العباد میں صلہ رحمی بنیادی اہمیت رکھتا ہے ، اس حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہے کہ ’’ حضرت ابوایوبؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو کیا ہوگیا، اس کو کیا ہوگیا، اور نبی ﷺنے فرمایا کہ صاحب ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کا کسی کو شریک نہ بنا، نماز قائم کر اور زکواۃدے اور صلہ رحمی کر۔‘‘ صحیح بخاری، جلد اول، حدیث1336، اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں آتا ہے ’’انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو یا اس کی عمر دراز ہو تو صلہ رحمی کرے (قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے)‘‘ صحیح بخاری، جلد اول، حدیث1987، غور فرمائیے کہ یہاں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی کتنی تاکید کی گئی ہے۔
حقوق العباد کے حوالہ سے مشرک والدین اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا گیا اور قطع رحمی یا ان کے حقوق غصب کرنے سے منع کیا گیا ہے ، ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہے ’’ اسمابنت ابی بکرؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، نبی ﷺ کے زمانہ میں آئی تو میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، ابن عیینہ کا بیان ہے کہ اللہ نے انہی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی، ’’ جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔۔‘‘ ( الممتحنہ : 8)‘‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث938، قرآن و سنت کی رو سے دیکھا جائے تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ عمر اور رزق کی فراوانی و وسعت بارے بھی حقوق العباد ، صلہ رحمی کہ اہمیت مسلمہ ہے اس حوالہ سے فرمایا گیا ’’ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث943، 
’’ حضرت ابوقتادہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں اس حال میں کہ میں صبر کرنیوالا اور ثواب کا خواہش مند ہوں (یعنی میں دکھانے سنانے کی غرض سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کی خاطر اور ثواب کی طلب میں جہاد کروں) اور اس طرح جہاد کروں کہ میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤں بلکہ ان کے سامنے سینہ سپر رہوں (یہاں تک کہ میں لڑتے لڑتے مارا جاؤں) تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کر دے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ! پھر جب وہ شخص اپنے سوال کا جواب پا کر واپس ہوا تو آپ ﷺنے اسے آواز دی اور فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ یقیناًمعاف کر دے گا مگر قرض کو معاف نہیں کرے گا مجھ سے جبرائیل نے یہی کہا ہے (مسلم)مشکوۃشریف، جلد سوم، حدیث132، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حقوق العباد کا معاملہ بڑا سخت اور کٹھن ہے اللہ تعالیٰ اپنے حقوق یعنی عبادات وطاعات میں کوتاہی اور گناہ ومعصیت کو معاف کر دیتا ہے مگر بندوں کے حقوق یعنی قرض وغیرہ کو معاف نہیں کرتا نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل ؑ آنحضرت ﷺ تک اللہ تعالیٰ کا صرف وہی پیغام نہیں پہنچاتے تھے جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے سامنے ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی دیگرہدایات واحکام پہنچاتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)

0 comments

Write Down Your Responses