صنعتوں کو سوئی گیس، ایک دن محدود کرنے سے انڈسٹری بند ہوئی تو لاکھوں مزدور بے روزگار ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں گے ،اپٹپما

فیصل آباد (سلیم شاہ ،چیف انوسٹی گیشن سیل) آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے ریجنل چئیرمین شیخ خالد حبیب نے، سوئی گیس حکام کی جانب سے صنعتوں کے لئے سوئی گیس کی ہفتہ میں تین دن فراہمی پھر دو دن اور اب ایک دن پر محدود کرنے کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزراتِ پیداوار اور وزیرِ اعظم پاکستان کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے کیونکہ اس اقدام سے ممکن ہی نہیں کہ صنعتی پہیہ چالو رہ سکے، انڈسٹری بند ہوئی تو لاکھوں مزدور بے روزگار ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں گے جو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ گزشتہ جنرل مشرف کے دور سے جب گاڑیوں کو سوئی گیس پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تبھی سے ملک کی صنعتیں اور گھریلو صارفین گیس لوڈ شیڈنگ کا شکار ہونا شروع ہوئے، حالانکہ اس سے پہلے یہی انڈسٹری تھی جہاں مسلسل گیس سپلائی جاری رہتی تھی، ہونا یہ چاہئے تھا کہ حکومت صنعتوں کا پہیہ چالو رکھنے کے لئے جنگی بنیادوں پر متبادل ذرائع اختیار کرتی تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلتا رہتا۔ جن کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوط اور ایکسپورٹ میں اضافہ کے ذریعہ زرِ مبادلہ ذخائر مستحکم رہتے ہیں۔یہ گورنمنٹ کی غلط پالیسی اور غفلت کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ذخائر شرمناک حد تک نیچے آ چُکے ہیں اور آئی ایم ایف کو قسط ادائیگی کے بعد ہماری معیشت تباہ و برباد ہو سکتی ہے اور افسوس کہ ہمیں قرضہ ادا کرنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتا ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کا شعبہ جو کسی دور میں ترقی کی بلندیوں کو چُھو رہا تھا مگر انرجی بُحران ایک نحوست بن کر ایسا چھایا کہ جہاں بے شمار ٹیکسٹائل پروسیسنگ ادارے بند ہو گئے وہاں دم توڑتے یونٹوں کی راہ میں بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے ایکسپورٹرز جنہوں نے کرسمس کے سیزن کے لئے بیرونِ ممالک سے آرڈرز لے رکھے ہیں وہ اپنی جگہ پریشان ہیں کیونکہ جن اداروں سے اُنہوں نے مال تیار کروانا ہے وہ انرجی بُحران کے سبب انہیں بروقت مال تیار نہیں کر کے دے سکتے۔ ایران سے گیس کی فراہمی کے معاہدہ کے باوجود حکومت مصلحتوں کا شکار ہے جبکہ قطر سے ایل این جی کی فراخدلانہ پیشکش کے باوجود فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا ، اگر ایل این جی گیس ہی درآمد کر کے سپلائی لائن میں شامل کر دی جائے تب بھی سوئی گیس کی قلت میں کمی واقع ہو سکتی ہے ، مگر برسوں سے ایل این جی کے معاملہ میں مفاد پرست مافیا کے ہتھکنڈوں نے ملکی معیشت تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، جب تک ہماری اشرافیہ قومی مفاد کو ترجیح نہیں دے گی تب تک ایسے بُحران ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ یں گے۔ اس لئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اپنے سابقہ حکمرانوں کے برعکس کچھ کر کے دکھانا ہوگا ورنہ قوم انہیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

0 comments

Write Down Your Responses