ایوارڈ شو

        تحریر:زین رضا ضیاء 

آپ نے اکثر ایوارڈ شو دیکھے ہی ہوں گے پاکستان میں فلم انڈسٹری محدود ہے اس لئے یہاں زیادہ تر ڈراموں کی بہترین پرفامس پر ایوارڈ دیے جاتے ہیں بالی وڈ  اور ہالی میں اچھی کارکردگی پر بڑے بڑے ایوارڈ شو منعقد کیے جاتے ہیں اور یہ سارا سلسلہ ملکی سطح پر ہوتا ہے اگر ان میں سے کسی کی پرفامس امریکیوں کو پسند آ جائے اس کے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں پھر اس کو آسکر ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے یہ ایک فلمی دنیا کی کہانی ہے مگر بلکل اسی طرح عام زندگی میں بھی ہوتا ہے وہ جس کو چاہتے ہیں بیشمار ایوارڈ وں  اور انعامات سے نوازتے ہیں مگر جس کی پرفامس ان کو پسند آ جائے اس وقت ان کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے مخالف کام کر رہا ہے آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پوری دنیا نے انگ سن سو کی پر پوری دنیا نے انعامات کی بارش کی اگر اس کی وجہ ڈیموکریسی ہے یا اس کی وہ خاموشی ہے جس کے دے پردہ لاکھوں مسلمانوں اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا لوگوں کو زندہ گھروں میں جلا دیا گیا عورتوں کی عصمتوں کو تار تار کیا گیا بچوں تک کو نہیں چھوڑا اس کے علاوہ ملک میں ان کے ساتھ کسی قسم کا روابط بھی نہیں رکھا جاتا اور اس پر مس انگ سن سو کی کو ڈیموکریسی اور پتا نہیں کون کون سے انعامات سے نوازا گیا اگر اقوام متحدہ  کو برما کی انگ سن سو نظر آ سکتی ہے تو روہنگیا کی مسلمان کیوں نہیں نظر آتے ان کو کشمیر اور فلسطین کیوں نظر نہیں آتا 
آج اس ملک میں بھی ایک مس انگ سن سو سے بھی آپ کی ملاقات کرواتے ہیں جس کے بارے میں پاکستانی میڈیا تعریفوں کے انبار لگاتا جا رہا ہے بلخصوص جناب مجیب رحمان شامی صاحب اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے صاحب کو یہ فرماتے ہوے میں نے کئی بار سنا ہے وہ ایک معصوم بچی ہے لوگ مطلب کالم نگار اس پر بے جا تنقید  کیوں کرتے ہیں اگر اس کو کو نوبل انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے تو پاکستان کا مورال بلند ہوا ہے اور اگر اس کو سخارف ایوارڈ دیا ہے تو اس سے بھی پاکستان کا نام اونچا ہوا ہے میں حیران ہوں جناب شامی صاحب کی سوچ پر جو تاریخ سے بخوبی واقف بھی ہے لیکن وہ پھر بھی اس کی تمام کی ہوئی باتوں کو پس پشت کیوں ڈال دیتے ہیں پہلے تو اس کی کتاب میں کافی متنازہ باتیں ہیں جو اسلام سے ٹکراتی ہیں اس کا یہ کہنا کہ داڑھی دیکھ کر اس کو پتھر کا زمانہ یاد آ جاتا ہے اس نے دیکھا ہی کیا ہے ایک اسلام ہی تو تھا جس نے عورت کو زندہ درگوری سے بچایا اس کو تخفظ دیا پتھر کا زمانہ تو  دیکھا ہی نہیں اس نے اس بار تو سخارف ایوارڈ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوے دونوں باپ بیٹی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہتے ہیں اس نے دہشت گردوں کا ساتھ دیا ہے اس کو سزا ضرور ملنی چاہیے اس پر اتفا نہیں ہوا مزید کہتے ہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب پر جو ایٹم پھیلاؤ کا الزام ہے وہ درست ہے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج خطے میں امن ہوتا شامی صاحب یہ تو بتائیں کیا خطے میں صرف پاکستان ہی ہے یا بھارت چین اور دوسرے ملک بھی ہے کیا جاپان پر حملہ پاکستان نے کیا تھا 
ان کی باتوں سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ یہ ووہی بولتے ہیں جو ان کو ایوارڈ شو کا میزبان کہتا ہے اور جو ان کو میڈیا پر بیٹھ کر ڈیفنڈ کرتے ہیں وہ انہی کے شو میں تالیاں بجاتے نظر آتے ہیں 

0 comments

Write Down Your Responses